سوموار، 11 مارچ، 2013

چھوٹا سدھیر


چھوٹا سدھیر

محمد علم اللہ اصلاحی

جمعدار بے چارہ نو بجے ہی جگا دیا تھا۔ اور خود اپنے کام میں لگ گیا تھا، لیکن میں گھوڑے بیچ کرسوتا رہا۔ فجر کی نماز کے ساتھ ہی ناشتہ بھی گول کیا۔ آج اتوار کا دن جو تھا، مگر کیا میں اتوار کے علاوہ عام دنوں میں جلدی اٹھ جاتا ہوں؟ شاید نہیں!! یا اللہ! میں ان دنوں اتنا کاہل کیوں ہوتا جا رہا ہوں۔ کسی کام میں دل نہیں لگتا ۔ میں خود پریشان ہوں، مجھے کوئی حل نظر نہیں آ رہا۔ دہلی میں رہنے کے دوران تو میرے معمولاتِ زندگی میں اتنا جمود کبھی نہیں رہا۔


جمعدار کمرے کی صفائی کر چکا تھا۔ میں دیر تک اپنے بارے میں اور اس کے بارے میں سوچتا رہا۔ نہ جانے کب دوبارہ آنکھ لگ گئی اور اس وقت کھلی جب سورج کی کرنیں کھڑکی کے راستے کمرے کے اندر داخل ہونے لگیں۔ دن کے بارہ بج رہے تھے ۔ پورافرش چم چم کر رہا تھا ۔ اخبار سلیقے سے کرسی پر رکھا تھا ۔ یہی کمرہ جو کل تک کاغذ پتروں کے ڈھیر، بے ترتیب سامان ، بکھرےجوتے چپل اور بے ترتیبی کے بیسیوں مناظر پیش کر رہا تھا۔ سلیقے کا شاہکار بنا ہوا تھا۔ میں عالمِ حیرت و استعجاب میں منہ دھونے گیا تو غسل خانے میں جمعدار اپنے کام میں منہمک تھا۔ وہ دیوار میں لگے آئینہ کو صاف کر رہا تھا۔ شاید اس نے آئینہ میں میرا عکس دیکھ لیا ۔


ابھی ذرا انتظار کیجیے صاحب جی! بس تھوڑی دیر اور لگے گی ، بڑی مہربانی جی۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ میں کمرے میں واپس آ گیا اور منہ دھوئے بنا ہی اخبار پڑھنے لگ گیا، 
لیکن میر ا دھیان خبروں کے بجائے جمعدار کی طرف تھا میں نے اکتا کر اخبار رکھ دیا اور سوچنے لگاکس قدر پیار ہے اسے اپنے کام سے، واہ رے انہماک اور دل چسپی!۔

اس سے پہلے بھی ایک جمعدار آتا تھا جھاڑو لگانے، لیکن وہ عجیب شخص تھا۔ اگر اسے ایک مرتبہ کہہ دیا جاتا: ”ارے چھوڑو یار!“ تو وہ چھوڑ کر چلا جاتا اور یوں تو ہفتوں جھاڑو نہ لگتی، اسے بلایا جاتا، تو وہ کنی کترا جاتا۔ لڑکے اسے گالیاں دیتے، برا بھلا کہتے، شاید ہاسٹل انتظامیہ نے بھی اسی لیے اسے ہر کمرے کے طالب علم سے رجسٹر پر روزانہ دستخط کرانے کے لیے کہا ہوا تھا، اس بات کی تصدیق ہو کہ اس نے سچ مچ جھاڑو لگائی ہے۔ یوں بھی ہوتا کہ جھاڑو ہی نہیں لگاتا تھا اور کہتا: ”بھائی صاحب! دستخط کر دونا!!“ میں مسکراتا اور تکیے کے نیچے سے قلم نکال دستخط کر دیتا یا کہہ دیتا: ”ابھی سونے دو یار، بعد میں کرا لینا۔“ لیکن وہ ضد کرنے لگتا اور مجھے دستخط کرنے پڑتے۔

اور ایک یہ ’’چھوٹا سدھیر‘‘۔ مجال ہے کبھی اپنی ذمہ داری سے غافل ہو۔ بلا ناغہ آتا ہے۔کبھی کبھی کاہلی میں اگر میں یہ کہہ بھی دوں: ”چھوڑو یار! کل آکر کرجانا۔
تو کہتا ہے: ”صاحب جی! آج کا کام کل پر نہیں ڈالنا چاہیے۔ آپ صرف دروازہ کھول دیں، میں جھاڑو لگا کر چلا جاؤنگا۔“ خود پر جبر کرتے ہوئے، نہ چاہتے ہوئے بھی میں اٹھ کر دروازہ کھول دیتا اور وہ خوش دلی سے اپنا کام کر کے چلا جاتا ہے۔ 

نہ تو اس کے پاس کوئی رجسٹر ہے اور نہ وہ مجھے دستخط کے لیے کہتا ہے۔ اسے کہنے لکھوانے کی ضرورت ہی کہاں ہے!