منگل, جنوری 9, 2018

اُداس نسلوں کے سہانے سپنے

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

”آدمی سکون کی تلاش میں کتنی ہی دُور کیوں نہ چلا جائے، آخر کار لوٹ کر اپنے احباب کی طرف ہی آتا ہے۔ اپنے پرانے دنوں کے بارے میں سوچ کر اور اپنے اس بچپن کی زندگی کو یاد کر کے زرا خوش ہو لیتا ہے لیکن پھر وہی شام، وہی رات اور وہی تنہائی ہوتی ہے۔ مجھے یہاں آنے سے پہلے معلوم تھا کہ پردیس میں لوگوں کا کیا احوال ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جب یہاں سے کوئی گھر جاتا تو میں اس سے کچھ پوچھوں، یا نہ پوچھوں یہ ضرور پوچھتا ہوں، کہ وہاں کیسا لگتا ہے! یہ میں اس سے صرف اس کی دلی کیفیات معلوم کرنے کے لیے پوچھتا تھا اور نتیجہ صد فی صد یہی نکلتا تھا کہ وطن سے باہر سب کچھ ہے لیکن سکون نہیں ہے۔ آج میں خود اس بے سکونی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ ہاں اگر سکون پیسے کو کہتے ہیں تو یقینا سکون یہاں حاصل ہے لیکن میں اس کا ہمیشہ سے ناقد رہا ہوں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پیسے کے بغیر آدمی خوش رہتا ہے؛ زندگی کی آسایشوں کے لیے پیسا ایک ضروری شئے ہے، لیکن سب کچھ اس پیسے کو سمجھ لینا، یہ کہاں کی عقل مندی ہے؟ یار! حقیقت میں آرام کس کو کہتے ہیں یہ وہی بتاسکتا ہے، جو رات کی تنہائی میں آرام سے مٹی کے بنے مکان کے چھپر کے نیچے کھٹیے پر لیٹا ہو، اور بارش کی بوندیں کانوں میں رس گھول رہی ہوں۔ حقیت میں سکون وہی ہے اور زندگی کا اصل مزا اس میں ہے کہ ماں باپ، بھائی بہن اور دوست احباب سب آنکھوں کے سامنے ہوں“۔


یہ میرے ایک دوست عارف حبیب کے خیالات ہیں جسے انھوں نے دبئی جانے کے بعد مجھے ایک میل کے ذریعہ بھیجا ہے۔


اپنے دوست کی یہ تحریر پڑھ کے میں اپنے آنسووں کو ضبط نہیں کرسکا اور سچ پوچھیے تو اس وقت میرے کانوں میں میرے ایک قریبی عزیز کا یہ فقرہ گردش کرنے لگا؛ انھوں نے مجھے چھٹی میں مصروفیت کا بہانہ کرکے اپنے گاوں نہ جانے کی مجبوری ظاہر کرنے پر، ہنستے ہوئے یہ کہا تھا، ”میاں! بڑے بڑے طرم خاں گاؤں ہی میں پیدا ہوئے ہیں، بہت اونچے تک اڑے، آخر کار گاوں ہی میں آ کے پناہ لینا پڑی“۔ بزرگ عزیز کا کہا اپنی جگہ بالکل درست تھا؛ صحیح معنوں میں اگر دیکھا جائے تو آج بھی بہت سے لکھنے والے دہلی، ممبئی میں بھلے رہتے ہوں، اگر ان کے قلم میں گاؤں کا رنگ نہ ہو تو تحریر پھیکی سی لگتی ہے۔


کئی مرتبہ دل بہلانے کے لیے بہت سے کام مجبوری میں کرنا پڑتے ہیں۔ افسوس کہ جو ہماری ذمہ داری کا حصہ ہے، وہی اداکاری کے مندرجات بنتی جا رہی ہے۔ کئی والدین بے چارے اپنے بچوں کی اداکاری سے اپنا جی بہلا کر زندہ رہتے ہیں۔ بوڑھے لوگ شہر میں جا بسے، اس جواں نسل کی واپسی کے لیے اپنے باپ دادا کی جائیداد کے حقوق کا کیا لالچ دیں گے یا طمع پیدا کریں گے؛ یہ نسل تو پہلے ہی سے لاکھوں کے پیکیج میں الجھ گئی ہے؛ جب ان کے والدین پڑھائی لکھائی کے وقت پیسے دے کر، انھیں لاری اڈوں، ریلوے اسٹیشن تک رخصت کرنے جایا کرتے تھے، تو وہ ان کی ہر تکلیف، ہر درد کا خیال رکھتے تھے لیکن وہ سب بھول گئے۔


سینما اور کتابوں میں گاؤں کی ساکھ بھلے ہی گھٹتی بڑھتی رہی ہو، لیکن شہری زندگی جینے والے نوجوانوں کے دل میں گاؤں اور وہاں کی یاد ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ وہ چاہے شہر میں ٹھہرے ہوں یا گاؤں ہی میں‌ جمے ہوئے ہوں۔ یہ تو وقت کی کروٹ اور گردش ہے جو ہم عمر نوجوانوں کے ان زندہ نقوش کو مٹانے میں لگی ہے۔ ناچاروں کو مصروفیت ہی اتنا گھیرے رکھتی ہے کہ انھیں ماں باپ سے ملنے تک کی فرصت نہیں۔

 

ہمارے کئی ساتھی تو ان لہروں کی اٹھان کو ایک نظر دیکھنا تک گوارا نہیں کرتے۔ چھٹیاں گزارنے گاؤں آئے ایک نوجوان کی کہانی، اکثر گاؤں میں رہنے والے دوجے نوجوان کی کہانی سے میل کھاتی ہے۔ دیہہ میں پلے بڑھے اور اب شہر میں جا ٹھہرے صاحب زادوں کو کون سمجھائے کہ جائے پیدائش کیا ہوتی ہے، جسے ہم بھول کر بہت آگے چلے گئے ہیں۔ کس میں وہ قوت ہے، جو ان راہ بھٹکے دوستوں کو راستہ دکھائے۔


کاش یہ جوان آنکھیں سمجھ پاتیں کہ کیوں گاؤں سے شہر کو واپسی پر ماں باپ روہانسو ہوجاتے ہیں۔ کیوں آخری قدم تک چلتے کچھ باتیں یاد دلاتے رہتے ہیں۔ گاڑی اسٹارٹ کر کے آگے بڑھنے کے واسطے ایکسیلیٹر پر دایاں پاوں رکھے کلچ سے دوسرا پاوں اٹھانے کو بے تاب ہوتے ہیں۔ فراٹے بھرتے ہوئے آخر یہ نئی پود آگے بڑھ جاتی ہے۔ اس سفر میں پھر سے ایک بار نہ صرف گاؤں پیچھے چھوٹتا ہے بلکہ احوال زیست، زندہ ماں باپ، رشتے ناتے، دوست احباب سب پیچھے چھوٹ جاتے ہیں۔ بوڑھے والدین اپنا سارا وقت، جمع پونجی ان ناچیزوں پر خرچ کرتے ہیں، جنھیں آگے دیکھنا ہوتا ہے۔ نئی نسل بے مطلب کی چیزوں میں الجھ جاتی ہے، اور رشتوں ناتوں تک کی اہمیت سمجھتی ہے نہ اس کا تعاقب مقصود ہوتا ہے۔


عجیب زندگی ہے؛ کبھی کبھی اپنے آپ پر بہت ترس آتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ خود کو کٹہرے میں کھڑا پاتے ہیں۔ خود کو سزا دینے کا سوچتے ہیں، کہ جھٹ سے اس شہر کا کوئی ضروری کام یاد آ جاتا ہے، جس سے دل لگایا تھا۔ نت نئی سیمیناریں آوازہ لگاتی ہیں؛ پریس کانفرنسیں پکارتی ہیں، یا دوستوں کے ساتھ شامیں بتانے کو من للچاتا ہے۔ ان شاموں میں ہم چائے پینے کے علاو کوئی مثبت کام شاید ہی کر پاتے ہوں۔


اپنے ضروری کاموں کی فہرست میں سے وقت نکال کر گاؤں فون کرنا یا کہ پھر گاؤں کو اپنے خیالات کے مرکز میں لانا، کبھی کبھار ہی شامل کر پاتے ہیں۔ اس دوڑ میں ہم بھول جاتے ہیں کہ بوڑھا باپ گہیوں پسانے کے لیے چکی آتا جاتا ہوگا تو کیسے! کیسے چار دن تک نل کے پانی نہ آنے پر پانی کی خاطر دور تک پیدل جاتا ہوگا۔ مہینا ختم ہوتے ہی اگر تنخواہ وقت پرنہ ملی تب بھی دوسروں سے قرض لے کر ہمارے اکاونٹ میں روپے ڈالنے کے لیے رم جھم میں، یا تپتی دھوپ اور ہجوم کی دھکا مکی، سب سہتے ہوئے لمبی قطار میں کھڑا اپنی باری آنے کا انتظار کرتا ہوگا، کہ اولاد کے بنک اکاونٹ میں روپے جمع کرواکے اپنی محبت کی رسید لے۔


گھر میں گیس سلینڈر ختم ہو جانے پر، ماں لکڑی کے چولھے میں دھواں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہونے کے باوجود کھانا بناتی ہوگی۔ لگتا تو یہ ہے کہ ان کے پاس گاوں میں کوئی خاص مصروفیت نہیں ہوتی ہوگی۔ ادھر شہر میں کتنے مصروف ہیں، پاس خرچ کرنے کو اتنا وقت بھی تو نہیں کہ لمحے بھر کو اپنی جائے پیدایش کو یاد کرسکیں۔ باپ کے جھکے کندھوں کا خیال آئے، گندگی میں لت پت رہنے پر بھی بچے کو گلے لگا لینے والی اس ماں سے ٹھیک سے بات کرسکیں۔ جب تک ماں ہے، تب تک تو اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، بعد میں؟ حیف! پہ یہ سانچی بات ہے کہ بعد کی زندگی میں چاہے کتنا بھی سرپیٹ لو، ماتم کے سوا ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ خاقان خاور کی زبان میں:

جس دن مائیں مر جاتی ہیں

آنکھیں ریت سے بھر جاتی ہیں


یہ ماضی کی بحث کی جگالی نہیں بلکہ ماضی کے احساس کے خیال کا حصہ ہے۔ باپ کی آنکھوں کے سامنے، اپنے کیریئر کو بڑھاوا دیتے بچے، جانے کب باپ کی آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ اس کے پیچھے کی اصل وجوہ اور بعد کے نتائج جیسے موضوع آج کی تحقیقی مرکز ہوچلے ہیں۔ اس پورے کھیل میں والدین کو فریب دینا سیکھ چکی، نوجوان نسل خود دل ہی دل میں سب جانتی ہے، کہ آگے کا کیا منظر ہے۔ تمام ہتھکنڈوں کے ساتھ وہ شہر میں اپنے جیون کے پل بتاتے ہوئے اکیلے پڑجانے کے خطرے کی طرف بڑھے جا رہے ہوتے ہیں۔ اس پورے دور میں پتا نہیں چلتا، کب اپنے سے بڑوں کو الگ تھلگ کر ڈالتے ہیں۔ ادھر ماں باپ یہ سوچ کر ہی حیران ہوتے ہیں کہ آج ان جوان بچوں کی اپنی ترجیحات کی فہرست میں بہت سی ضروری چیزیں غائب ہوتی جارہی ہیں، مثلا مذہب، اخلاقیات، سچائی، محبت، پیار، خدمت، عزت ایسی تمام پرتیں جلد سے چرم روگ کے اثرات کی طرح ساتھ چھوڑتی جارہی ہیں۔ اصل میں یہ انفیکشن کا دور ہے جس کے اثرات سے ہر رشتہ متاثر ہو چکا ہے۔


آج کی نسل جو نباتات سے بنے گھی پر زندہ ہے۔ جہاں ملاوٹ اور بازاری مصنوعات کی افراط ہے، نظریات کے نام پرآلودگی میں لپٹا علم گنگا سے لبریز ہے۔ بڑا ہی تکلیف دہ وقت ہے۔ یہاں اس فکر سے نوجوان کو سرے سے خارج نہیں کررہے ہیں، بلکہ نوجوان کی توجہ کے طالب ہیں، کہ ایک لمحہ ٹھہر کے غور کرے۔ سہانے سپنوں کی تعبیر کے لیے وہ اپنے آپ کو فراموش کربیٹھا ہے۔ یہ نوجوان اپنے لیے وقت نہیں جٹا پاتا، پھر بھلا وہ اپنے ایک خاندان کے لیے فرصت کے لمحات نکالے، تو جانیے کہ بہت ہے۔ یہاں گاؤں ایک علامت بھی ہوسکتی ہے، جو ماضی سے متعلق ہو۔ گاوں؛ جہاں زندگی کے پروان چڑھتے، تتلاتے بڑھنے کے دن گزرے تھے۔ آج کی نسل اپنے ماضی کو اس حد تک بھلاسکتی ہے، کہ جس میں ماں باپ تک بھی شامل ہو جائیں، یہ سوچنا ہی بھیانک خواب لگتا ہے۔


اب صرف حیلہ تلاشے اوربہانے گڑھے جائیں گے کہ کام، کاروبار، گھر، خاندان دوستی، سفر جیسی سب باتیں۔ ارے دوستو! ان بزرگوں کو ہم ناتجربہ کار کیا بتلانے چلیں، انھوں نے دنیا دیکھی ہے۔ وہ آپ کی آنکھ دیکھے بغیر ہی ماجرا بھانپ لینے کی مہارت رکھتے ہیں۔ اپنی نظر میں انہیں بے چارے مان لینے والے ہم نوجوان ساتھی، صحیح معنوں میں آج بہت غریب ہوچلے ہیں۔ بھلے وہ سن رسیدہ ہمارے اورآپ کے اس نئے فریب کے قریب قریب شکل والی اصطلاحات سے ان جانے ہوں، مگر زبان کی فریب پن اور چالاکیاں وہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ سچ مانیں وہ ہماری اور آپ کی ا ن غلط بیانیوں پر چپ رہ کر سب کچھ برداشت کریں گے۔ ان کے سہنے کی طاقت کا اندازہ ہم نوجوان نسل کو بھلا کہاں ہے۔


میں بھی اسی ذات کا حصہ ہوں، جہاں گنی چنی کچھ نئی باتوں میں پھنسا اپنے والدین کو الجھا آتا ہوں۔ کئی مرتبہ بہانے کم پڑ جاتے ہیں، جب ماں بار بار گاؤں نہیں آ پانے کی وجہ پوچھتی ہیں۔ ہم بری طرح جکڑے، بہت برے پھنسے مانس ہیں۔ نہ آگے بڑھنے کے نہ پیچھے جانے کے۔ یہ طوق خاص طور پر متوسط طبقے کے نوجوانوں کے گلے میں فٹ بیٹھتا ہے، باقی یہ کہ امیر زادوں کا احوال، مجھے نہیں معلوم۔


۔۔۔مزید

بدھ, جنوری 3, 2018

اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی
محمد علم اللہ 

کل رات تقریبا گیارہ بجے اپنے مخلص اور مہربان دوست محمد احمد کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری سے اپنے گھر ابوالفضل لوٹ رہا تھا۔ جماعت اسلامی ہند کے قائم کردہ الشفا ہاسپیٹل سے زرا پیچھے، یعنی مسلم مجلس مشاورت اور جمعیت اہل حدیث والی گلی سے تھوڑا پہلے، جہاں زمین کا ٹکڑا خالی پڑا ہے، وہاں کچھ پیر مرد بیڑی سگریٹ کے مرغولے اڑاتے، تاش کھیلنے میں مصروف تھے۔ یہ دراصل جمعیت اہل حدیث کے کیمپس کا مرکزی دروازہ ہے، جو خاص مواقع جیسے جمعہ اور عیدین یا ایسے ہی کسی جلسے وغیرہ پر کھلتا ہے۔ یہ پوری آبادی مسلمانوں کی ہے تو خیال کیا جاسکتا ہے، یہ بے فکرے بزرگان، مسلمان ہی ہوں گے۔ ان کی جھکی ہوئی کمریں اور دھنسی ہوئی آنکھوں کے حلقے بتا رہے تھے کہ ان کی عمریں پچاس ساٹھ سے کم نہیں ہوں گی۔

مرزا غالب نے شطرنج کو ذہنی ورزش کا ذریعہ بتایا ہے، لیکن جس قوم کے بوڑھے ایسے کھیلوں میں مستقل اپنا وقت ضائع کریں، تو سمجھ لیجیے اس قوم کا مقدر تباہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

اس سے قبل کئی مرتبہ میں جامعہ نگر کے مختلف علاقوں میں، یہ اور ان جیسے کئی نوجوانوں کے علاوہ عمر درازوں کو تاش اور جوا کھیلتے دیکھتا رہا ہوں۔ ایسے مقامات پر اگر آپ تھوڑی دیر کے لیے ٹھیر جائیں، تو آپ کو ان کی زبان سے رنگ برنگی گالیاں اور مسجع و مقفع مغلظات بھی سننے کو مل جائیں گی، جنھیں سن کر شیطان بھی شرمسار ہو جائے گا۔ سوچتا ہوں، آج اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہوتے، تو ان کے اس بے کار شغل کی وجہ سے ان پر ضرور کوڑے برساتے، اور انھیں چھٹی کا دودھ یاد دلوا دیتے، لیکن ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں سب کو اپنی من مرضی کی آزادی ہے۔

میرا ارادہ تھا کہ انھیں نصحیت کرتا، کہ احمد کہنے لگا، ”کیوں اپنے آپ کو پٹوانا چاہتے ہو، یہ اس علاقے کے غنڈے ہیں، جن کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے، تم اپنی پڑھائی پر دھیان دو، ان سب میں جان نہ گھلاو“۔ میں باز آیا کہ احمد ٹھیک ہی کہتا ہے، لیکن دل ہی دل میں کڑھتا رہا، کہ یہ کوئی صحت مند معاشرے یا ترقی یافتہ سماج کا طرز نہیں ہے۔

ابھی کل ہی کی بات ہے ایک ناواقف بزرگ نے مجھے اتر پردیش کے ضلع بجنور کے نگینہ قصبے سے فون کیا۔ وہ تعلیم کے حوالے سہ روزہ دعوت میں شایع ہونے والے میرے مضمون پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی داستان سنا رہے تھے۔ انھوں نے بتایا وہ تعلیم بالغان کے لیے کام کرتے ہیں؛ اپنا نام محمد داود ملتانی بتایا۔ تعلیم سے ہوتے ہوتے، ذکر مسلمانوں کی زبوں حالی تک جا پہنچا۔ بات کرتے ان کی آواز رُندھ گئی، وہ زار زار ہوگئے۔ فکرمندی سے کہا، کہ سمجھ نہیں آتا، ہمارے نوجوانوں، خواتین اور بوڑھوں کو سکون کی نیند کیسے آجاتی ہے۔ ہم مسلمان اس قدر ذلیل خوار ہورہے ہیں، پھر بھی بیدار ہونے کا نام نہیں لیتے۔ ہمیں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے، اتنا زیادہ کہ ہماری نیندیں حرام ہو جانی چاہیں۔

داود ملتانی کی حالت معمول پر آتے ہی، میں نے ان کے سلسلہ روزگار کے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں۔ انھوں نے اپنی ذاتی کوشش سے ضلع بجنور کی دو بستیوں میں کام کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جو انتہائی پس ماندہ اور عسرت زدہ بستیاں کہلاتی تھیں۔ ان کی سعی سے کنجری سرائیاب، پھول بستی اور بھٹیاری سرائے گلشن نگر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ انھی کی کاوش سے اب اس بستی کے ستر فی صد بچے اسکول جاتے ہیں۔ جب کہ بستی کے بڑے، بوڑھے اور خواتین ذوق و شوق و پابندی سے تعلیم کے لیے کوشاں ہیں۔

ایک طرف وہ بزرگ ہیں، دوسری جانب یہ، جن کے لاکھوں کروڑوں کے فلیٹ اور بلڈنگیں ہیں۔ ان کی آمدنی کی رقم سے ان کی جیبیں بھری ہوئی ہیں، انھیں نہ کام کرنے کی ضرورت ہے اور نہ محنت و مشقت کی۔ ان میں سے بڑی تعداد میں ہریانہ اور یوپی کے وہ لوگ بھی ہیں، جنھوں نے گاوں میں اپنی زمین بڑی بڑی کمپنیوں کو بیچ کر یہاں مکان اور گاڑیاں خرید کر انھیں کرائے پر اٹھادیا ہے۔ یہ وجہ بھی ہے کہ یہ لوگ اب محنت مزدوری کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ ان کے پاس وقت بے بہا ہے، جسے بے دریغ منفی سرگرمیوں میں استعمال کرتے ہیں۔

مجھے یہ سطور لکھنے کا خیال اس لیے بھی آیا کہ میرے ایک دوست محمد ایوب ندوی جن کا تعلق شہر لکھنو سے ہے، نے اپنی فیس بک وال پر اس صورت احوال سے ملتی جلتی ایک تصویر پوسٹ کی؛ تصویر کے کیپشن میں لکھا ہے:
”بعد نماز عشا، بوقت دس بجے رات، اندور کی ایک شاہراہ پر بیٹھ کر شطرنج کھیلنے میں مصروف مسلمان“۔
اس کے نیچے مختلف شہروں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے دردمندان ملت کے تبصرے ہیں، جن میں اس عمل پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ اور اس قسم کے مناظر دیکھ کر یقیناً ہم سب کو سوچنا چاہیے کہ آخر ہم جا کہاں‌ رہے ہیں۔ کوئی منزل یا مقصد بھی ہے، یا سراب ہی سراب ہے!

مجھے یاد پڑتا ہے میں نے کئی سال پیشتر ایسے ہی رویوں کو دیکھتے ہوئے، معروف دانشور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان سے اس کا تذکرہ کیا تھا۔ انھوں نے تشویش کا اظہار کرتے کہا تھا کہ یورپ میں اس طرح کا رویہ نہیں پایا جاتا بلکہ وہاں عمر دارز شخص بھی کچھ نیا کرنے یا سیکھنے کی تگ و دو کرتا ہے۔ جب کہ پڑھا لکھا اور اہل علم طبقہ، رِٹائرمنٹ کے بعد نئے موضوع پر ریسرچ یا پی ایچ ڈی کرتا ہے۔ اس طرح کا رجحان وہاں عام ہے۔ وہاں بوڑھے ہوجانے کے بعد بھی تھکنے کا کوئی تصور نہیں ہے، جب کہ ہمارے یہاں لوگ بہت جلد تھک جاتے ہیں۔ اس وجہ سے مختلف بیماریوں اور مصیبتوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور نوجوان طبقہ ان کے تجربات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔

اس سلسلے میں تبلیغی جماعت کا کام قابل تعریف ہے کہ اس نے ایسے افراد کو کم از کم مسجدوں تک لانے کا کام کیا ہے، مگر دیگر تنظیموں اور اداروں کو بھی اس جانب دھیان دے کر کچھ عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ ایسے افراد کی تعلیم بالغاں اور ان سے سماجی خدمات لیے جانے کی طرف توجہ دلائی جاسکتی ہے۔ جامعہ نگر ایک ایسی بستی ہے جہاں تقریبا تمام ہی اہم ملی تنظیموں کے مرکزی یا ذیلی دفاتر ہیں۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں جامعہ نگر ہندوستانی مسلمانوں کا قلب ہے۔ یہاں سے جو آواز اٹھتی ہے دُور تلک سنی جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے یہاں سے جو آواز اٹھے گی وہ توانا بھی ہوگی اور مضبوط بھی اور اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

۔۔۔مزید

تقسیم نے درد نہیں‌ بانٹا (دوسرا حصہ)


تقسیم نے درد نہیں‌ بانٹا (دوسرا حصہ)

 محمد علم اللہ 

سونے کی چڑیا کہلائے جانے والے اس عظیم ہندوستان نے، تقسیم کے دوران سرحد کے دونوں طرف اپنے ہی چھہ لاکھ بیٹے بیٹیوں کا قتل عام دیکھا۔ لگ بھگ ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کو گھر سے بے گھر ہوتے دیکھا۔ اس وقت کے حالات و واقعات کی روداد اتنی تکلیف دہ اور مضطرب کردینے والی ہے کہ محض اس کا تصور کرکے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بٹوارے کے دوران بہتر لاکھ مسلمان پاکستان کو ہجرت کرگئے، جب کہ رَکارڈ کے مطابق 1941ء سے 1951ء تک پاکستانی علاقوں سے بھارت آنے والے ہندوؤں اور سکھوں کی تعداد 45 لاکھ چالیس ہزار ہے۔


تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کو جس بحران سے 1947ء میں گزرنا پڑا، وہ چند باتوں کے لحاظ سے 1857ء کے بحران سے کم، مگر مجموعی طور سے اس سے کہیں زیادہ شدید تھا۔ 1947ء کے بعد کے چند سالوں میں، بھارتی مسلمانوں کو 1857ء سے کہیں زیادہ اور روحانی اور جسمانی، خطرناک آزمایشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے میں اگر میں ایک ہندوستانی مسلمان کی حیثیت سے محمد علی جناح پر تنقید کرتا ہوں، تو سرحد کے اُس پار (پاکستان) والوں کی ایک بڑی تعداد کی دل آزاری ہوگی۔ اگر تعریف کرتا ہوں تو سرحد کے اِس پار (بھارت) والے بہت سے لوگ ناراض ہوں گے۔


خاص اس حوالے سے آزادی کے بعد لکھے گئے لٹریچر کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے؛ دونوں طرف کی قیادتوں کے حوالے سے بیاں کیے گئے قصیدوں، مذمتی بیانیوں اور تحریروں سے بڑی بڑی لائبریریاں بھری پڑی ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ آخر اِن تمام کوششوں کا حاصل کیا نکلا؟ شاید کچھ بھی نہیں؛ حالات مزید خراب ہی ہوئے ہیں۔ ہم آج تک کسی ایسے نتیجے تک نہیں پہنچ پائے ہیں، کہ جو سب کو قبول ہو۔ تقسیم کا نتیجہ تو یہی نکلا کہ دونوں ملکوں کے لیے ایک دشمن، ایک سرحد کا اضافہ ہوا۔ رہی سہی کسر مفاد پرستانہ سیاست اور زرد صحافت، فوجی مہم جووں کے مقاصد نے پوری کردی۔


آزادی کے بعد دونوں طرف سے ہمارا کام کم از کم اتنا تو بنتا تھا، کہ ایک بہت ہی پے چیدہ اور مختلف النوع سماج کے تناظر میں، ہم خود کو ایک مضبوط جمہوری ڈھانچے میں منظم کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے۔ کہنے دیجیے، کہ ہم نے؛ یعنی متحدہ ہندوستان کی متحدہ قیادت نے یہ ذمہ داری اطمینان بخش طریقے سے ادا نہیں کی۔ کم از کم ابھی تک تو ہم یہ کام نہیں کرپائے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہم اکثر سہل راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہمارے اندر مقصد کے تئیں ایمان داری کا فقدان بھی ہے۔ اس لیے ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی بھی پیش آمدہ مشکل کا جو بھی حل نکالتے ہیں، اس میں وہ وہ مکمل اخلاص نہیں ہوتا، جو کسی اڑچن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے۔ نتیجے کے طورپر ہمارا یہ ”تعویذ“ کچھ دنوں کے بعد ہی غیر موثر ہوجاتا ہے، بلکہ بعد کے ایام میں مزید نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔


ہمارے سامنے چیلنج، بنیادی اور مبنی برحقیقت باتوں کو ایمان داری سے کہنے کا ہے۔ کل بھی یہی چیلنج تھا اور آنے والے کل میں بھی یہی سب سے بڑا چیلنج ہوسکتا ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ ہم اس سے بھی کتراتے ہیں۔ آسان یہ ہے کہ ہم اور آپ، جب چاہیں جناح کو گالی دیں، یا گاندھی کو؛ آزاد کو برا کہیں یا نہرو کو؛ مسئلے کا حل قطعی طور پر یہ نہیں ہے۔ کیوں کہ جو ہونا تھا وہ ہوچکا۔ پلوں کے تلے سے بہت سا پانی بہہ چکا۔ اب ہم دونوں، بلکہ تینوں ممالک پاکستان، بنگلادیش، اور بھارت کو ایک نہیں کرسکتے۔ تقسیم نے اپنا کام کردیا ہے۔


تقسیم کا زخم ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس کی بھرپائی ناممکن ہوتی ہے۔ اس لیے اس کا حل یہی ہے کہ ہم دونوں جانب امن اور سکون کو فروغ دینے کے لیے کوشش کریں۔ اگر ہم یہ کوشش کرتے ہیں تو یہاں ایسی کوئی کٹھنائی نہیں ہے جس کا حل نہ ہو۔ ابھی وقت ہے؛ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو تمام فروعی باتوں کو ایک طرف رکھ کے، اپنی آنے والی نسلوں کے لیے امن سکون اور بھائی چارہ کی وراثت چھوڑسکتے ہیں۔ تقسیم نے ہمیں امن نہیں دیا، ناہی ہم سے بچھڑنے والے حصے کو امن فراہم کیا۔


رنجشوں کی بنیادی وجہ یہ ہے، کہ دونوں جانب ”بٹوار“ ابھی ذہنوں پر سوار ہے۔ ہندو مسلم خلیج بدستور باقی ہے۔ اگر تقسیم کا واحد سبب دو قومی نظریے کا فروغ تھا، تو یہ سوال آج کتنا جائز ہے؟ ایسا کیوں ہوا کہ تقسیم نے، جو دوقومی نظریے کا واحد علاج تھا، اس نظریے کو یک لخت ختم کردیا، پاکستان مزید دو حصوں میں بٹ گیا؟! اگر دوقوموں کے درمیان تفاوت اور دراڑ تقسیم کے بعد بھی جوں کی توں قائم ہے، تو اس کا واحد مطلب یہی ہوا کہ تقسیم ایک غیر ضروری شئے تھی۔ بٹوارا کسی مسئلے کا حل نہیں تھا۔ بعضوں نے الٹا زخموں پر نمک پاشی ہی کی۔ دھرتی کی تقسیم کے ساتھ، ہم نے انسانوں کو بھی بانٹ دیا ہے۔ صد افسوس! تقسیم کا پھل امن کی صورت نہیں ملا، جیسا کہ تقسیم کاروں نے سوچا تھا۔


لیکن اب کرنے کو کیا ہے؟ ہندوستان ہو یا پاکستان، ایک دوسرے پر الزام تراشی سے باز نہں آتے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہیں۔ کیوں نہ اس دھرتی کو امن کا گہوارا بنایا جائے! آئیے ہم دونوں اطراف سے ایک دوسرے پہ الزام تراشی کے بجائے، محبتوں کا پرچار کریں۔ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔ دوسرے کی کامیابی پر مسرت کے گیت گائیں۔ آئیے ہم وہ کریں، جو ہمارے بزرگ نہ کرسکے۔ اگر یہ نہیں ہوگا تو پھر وہی کچھ ہوتا رہے گا، جو کچھ ہوتا آیا ہے۔ امن اک خواب بن کے رہ جائے گا۔


کیا ہمارے مورخین تاریخ کے اوراق الٹتے پلٹے رہیں گے اورایک دوسرے پر الزام رکھتے رہیں گے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ الزام تراشی کسی مسئلے کا عارضی حل بھی نہیں؟! ہم جس بیج کو بوئیں گے، ہماری آیندہ نسلوں کو وہی فصل کاٹنا پڑے گی۔ تقسیم در تقسیم در تقسیم؛ بے امنی، خون، لاشے، سسکیاں، آہیں، ماتم! کیا ہم اپنی آیندہ نسلوں کے لیے امن کاشت نہیں کرسکتے؟


۔۔۔مزید

تقسیم نے درد نہیں بانٹا (پہلا حصہ)


تقسیم نے درد نہیں بانٹا (پہلا حصہ)
 محمد علم اللہ 
لاریب! محمد علی جناح ایک تاریخ ساز شخصیت تھے۔ آخر تاریخ میں کتنی ایسی شخصیات ہیں، جن کے سر پہ مملکت کے قیام کا سہرا ہے؟ وہ ایک قدآور سیاست دان تھے؛ اپنے وقت کے معروف وکیل۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انھوں نے قیام پاکستان کا مقدمہ ایک ذہین اور محنتی وکیل کی طرح لڑا، اور جیت بھی گئے۔ متحدہ ہندوستان میں وہ ان نمایاں رہنماوں میں سے تھے، جو ہندو مسلم اتحاد کی علامت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ لیکن بٹوارے کے بعد جو کچھ ہوا، اس کا بیان انتہائی تلخ، تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے۔

آج محمد علی جناح کی 142 ویں سال گرہ ہے، اور اس موقع پر کچھ کہنا، وہ بھی ایک ہندوستانی کی حیثیت سے، خود کو دہکتے ہوئے کوئلوں سے گزارنے جیسا ہے۔ ایک معمولی سی لغزش بھی بڑی غلط فہمی کو جنم دے سکتی ہے؛ اس لیے کہ جناح کی شخصیت سرحدی تنازعات کے حصار میں گھری ہے اور اس حصار کو توڑ کر ان کی صاف شفاف قلمی تصویر بنانا ایک مشکل کام ہے۔

آپ ہندوستانی مورخین کے قلم سے نکلی تاریخ پڑھیں، پاکستانی مورخین کے قلم سے لکھی، امریکی، برطانوی یا پھر یورپین تاریخ نویسوں کی، آپ کو سب کی لکھی تاریخ الگ الگ یا مختلف دکھائی دے گی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ تاریخ نویس کا نظریہ تاریخ کی کتابوں سے نہیں جھانکنا چاہیے، صرف تاریخ کا عکس دکھائے، لیکن جو ہے اس کا کیا کیجیے۔

ان مؤرخین کے مختلف اور جدا جدا نظریات یا ”مقاصد“ ہیں، جو اس تضاد کا باعث ہیں۔ سرحد کے اُس پار (پاکستان میں) محمد علی جناح کو ”قائد اعظم“ اور ”بابائے قوم“ جیسے القابات سے یاد کیا جاتا ہے، اور سرحد کے اِس پار (بھارت میں) یہ نام نہ صرف یہ کہ اکثریت کے لیے پسندیدہ نہیں ہے، بلکہ جناح کا نام لینا بھی، گویا سیاسی ناعاقبت اندیشی کہلاتی ہے۔ ہندوستان میں اکھنڈ بھارت کے خواب کی راہ میں پاک و ہند کے بیچ لکیر کھینچ دینے کی ذمہ داری تن تنہا اسی نام ”جناح“ پر ڈالی جاتی ہے۔

بھارت میں تو ”جناح“ نام کا مطلب ہی ”بٹوارا“ ہے۔ چوں کہ جناح مسلمان گھرانے سے تھے، تو بٹوارے کا دوسرا مفہوم ”مسلمان“ بن گیا، اور آج کھلے بندھوں مسلمانوں کو دھرتی کی تقسیم کا ذمہ دارقرار دیا جاتا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اس کی جو قیمت چکانا پڑی، وہ الگ؛ اور پون صدی گزرنے کے بعد بھی آج جو قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے، وہ سوا ہے۔ حالاں کہ آج یہ کہنا ایسا مشکل نہیں رہا، کہ تقسیم ہند کا اصل ذمہ دار کون تھا۔

اب مطلع بہت حد تک صاف ہو چکا ہے، سورج واضح ہے، لیکن نفرت کی بنیاد پر سیاست کرنے والے پنڈتوں سے نگہ ہٹے تو روشنی دکھائی دے۔ 1970ء اور 1983ء میں سرکاری خفیہ دستاویزات (secret and official documents) کی اشاعت (Transfer of Power 1942-47) جو اس وقت تک لندن کے انڈیا آفس کی تحویل میں تھے، انھیں دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ گاندھی جی، پنڈت نہرو اور ولبھ بھائی پٹیل بھی ہندوستان کی تقسیم کے اتنا ہی ذمہ دار ہیں، جتنا کہ محمد علی جناح۔

مولانا آزاد نے اپنی کتاب ’انڈیا ونز فریڈم‘ میں اس کی جامع تفصیلات دی ہیں۔ مولانا کے بقول:
”یہ بات رِکارڈ پر آجانا ضروری ہے، کہ جو شخص ماؤنٹ بیٹن کے منصوبے کا سب سے پہلا شکار ہوا، وہ سردار پٹیل تھے۔ شاید اس وقت تک جناح کے لیے اپنی بات منوانے اور سودے بازی کرنے کا ایک بہانہ تھا، مگر پاکستان کی مانگ میں، وہ حدود سے تجاوز کرگئے تھے۔ ان کی اس حرکت سے سردار پٹیل اس قدر عاجز آگئے تھے، کہ وہ تقسیم پر یقین کرنے لگے تھے۔ ویسے بھی ماؤنٹ بیٹن کے آنے سے پہلے بھی وہ 50 فی صد تقسیم کے حق میں تھے۔ ان کا یقین تھا کہ وہ مسلم لیگ کے ساتھ کام نہیں کرسکیں گے۔ وہ یہ بات کھل کر کہ چکے تھے، کہ اگر مسلم لیگ سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے، تو اس کے لیے انھیں تقسیم بھی قبول ہوگی۔ شاید یہ کہنا نامناسب نہ ہوگا، کہ ولبھ بھائی پٹیل ہی تقسیم کے اصل معمار تھے“۔

ایک وقت وہ بھی تھا، جب جناح کو ہندو مسلم اتحاد کا سفیر بتایا جاتا تھا اور انھیں یہ خطاب کسی اور نے نہیں بلبل ہند سروجنی نائیڈو نے دیا تھا۔ 1910ء میں جناح نے ”مارلے منٹو رِفارمز“ کے تحت مسلمانوں کے لیے علاحدہ الیکٹوریٹ کی مذمت کی تھی، باوجود اس کے کہ اس سے انھیں ذاتی طور پر فائدہ ہوا تھا۔ انھوں نے گاندھی جی کو مشورہ دیا تھا، کہ خلافت تحریک کا ساتھ دے کر، وہ مسلمانوں میں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ نہ دیں اور گاندھی جی پر الزام لگایا تھا، کہ ایسا کرنے سے انھوں نے صرف ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ خود مسلمانوں اور حتیٰ کہ باپ بیٹے میں بھی بلکہ ہر ادارے میں اختلافات اور تقسیم پیدا کردی ہے۔ اس کا جواب گاندھی جی نے یہ دیا:
(مولانا) محمد علی اور خود ان کے لیے خلافت بہت اہمیت رکھتی ہے۔ محمد علی کے لیے یہ ایک مذہبی فریضہ ہے اور میرے لیے یہ اس لیے مذہبی فریضہ ہے کیوں کہ ایسا کرنے سے میں گائے کو مسلمانوں کے چھوروں سے محفوظ کرسکتا ہوں۔

معروف صحافی مارک ٹیلی نے اپنی کتاب From Raj to Rajiv, BBC Books. London 1988، مینو مسانی، جو 1945ء میں قانون ساز اسمبلی کے رکن تھے، کے حوالے سے لکھا ہے کہ انھوں نے بتایا:
”نہرو سمیت اکثر لوگ بے صبرے ہوگئے تھے اور وہ چاہتے تھے، کہ مسلمان یہاں سے جلد از جلد رخصت ہوں تاکہ وہ اپنے گھر کے خود مالک ہوں۔ نہرو اور جناح کی ذاتی انا متحدہ جمہوری ہندوستان کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئی تھی“۔

جب نہ جناح تھے نہ گاندھی، نہ نہرو، نہ پٹیل، نہ آزاد، نہ امبیڈکراور ناہی بہت سارے وہ مجاہدین، جنھوں نے ہندوستان کو آزاد کرانے کے لیے لازوال قربانیاں پیش کرکے قوم کو آزادی کی سوغات دی، کیا کسی کو اس ہندوستان کی کہانی بھی معلوم ہے؟ دساور سے جو مسلمان یہاں آئے، وہ یہاں بس گئے، یہیں کے ہوکے رہ گئے۔ ہندوستانی مسلمان کے اجداد کی ہڈیاں یہیں ہیں؛ انھوں نے خون پسینا اسی دھرتی پہ بہایا، اس دھرتی کے لیے بہایا، وہ یہاں سے کچھ لے کر کسی دور دیس نہیں جا بسے۔ ان کی محبتیں، ان کی محنت، ہنر، قربانیاں، سب کچھ اس دیس میں ہے، اس دیس کے لیے ہے۔ ایسا تو نہیں تھا کہ وہ فرنگی کی طرح اس ملک کو لوٹنے آئے تھے۔ دھرتی کے سینے پہ ہل چلوا کے، یہاں کے معدنیات، ذخائر و وسائل کی آمدن، یہاں سے دور اپنے وطن برطانیہ کے عوام کی بہبود کے لیے بھیجتے رہے۔ جب حالات سازگار نہ رہے تو وہ اپنے وطن لوٹ‌ گئے۔

اپنے دیس انگلستان کے مفادات کے لیے ہندوستان کے باشندوں میں ”پھوٹ ڈالو اور راج کرو“ کی پالیسی، فرنگی ہی کی تو پالیسی ہے۔ تاریخ کے صفحات دیکھیے، کیا اس سے پہلے ہندوستانی عوام میں نفرت کا یہی عالم تھا؟! بھولی بھالی اور سیدھی سادھی عوام کے دلوں میں اختلاف، نفرت، عداوت اور فرقہ پرستی کا بیج بونے والوں، نفرت کے اِن سوداگروں کو ہم دیس نکالا دینے میں کامیاب تو ہو گئے لیکن وہ یہاں جو زہریلا بیج بو کر چلے گئے، اس درخت کا پھل کھانے کے لیے ہم یہاں ہیں۔ یہ شجر پاک و ہند بٹوارے کی شکل میں ہمارے سامنے ایستادہ ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ ”سوراج“ (اپنا راج) کی لڑائی لڑتے وقت کسی بھی ہندوستانی کے دل میں کبھی اور کسی طرح سے بھی یہ خیال نہیں آیا تھا، کہ جس وطن کی آزادی کی خاطر وہ اپنا لہو دے رہے ہیں، وہ ایک دن دو لخت ہوجائے گا۔ انھیں ابھی کئی لڑائیاں لڑنا ہوں گی؛ وہ بھی آپس میں۔

آزادی کے بعد تو یہ سماں ہونا چاہیے تھا، کہ دیس کے گھر گھر میں چراغاں ہوتا، شادیانے بجائے جاتے، مگر ہوا اس کے برعکس۔ 1947ء میں، تقسیم کے فورا بعد، یہاں بسنے والی اقوام کو خون چکاں حالات اور واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جس نے بعد کے دنوں میں پوری انھیں بکھیر کر رکھ دیا۔ ہندستان پاکستان دونوں طرف کے ادیبوں نے بٹوارے کے دوران ہونے والے انسانیت سوز واقعات پر لرزہ خیز کہانیاں لکھیں۔ آج کے بھارت کی یہ صورت احوال ہے، کہ یہاں کے مسلمان دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوسکے۔ ہوا یہ کہ آزادی کی مسرتوں پر تقسیم کا دکھ درد غالب آگیا اور پورے ملک میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک اگر کچھ تھا، تو خون ہی خون، اس کے سوا کچھ تھا، تو وہ تھی اُس خون کی بو۔

۔۔۔مزید

دینی مدارس: عصری معنویت اور جدید تقاضے

دینی مدارس: عصری معنویت اور جدید تقاضے
 محمد علم اللہ 
کبھی کبھی کچھ ایسی تحریریں یا کتابیں میسر آجاتی ہیں، جن کو پڑھنے کے بعد بے اختیار مصنف یا مترجم کا ہاتھ چوم لینے کو جی چاہتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایسی ہی ایک کتاب میرے ہاتھ لگی، جسے میں بجا طور پر ایک بہترین، معلوماتی، تحقیقی، علمی اور ادبی کتاب کہہ سکتا ہوں۔ ”وٹ از مدرسہ“ اس کو پڑھنے کے بعد قاری کچھ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے؛ پتا چلتا ہے کہ ایک عام انسان خاص کیسے بنتا ہے۔ یہ کتاب نوٹرے ڈیم یونیورسٹی، امریکا کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ابراہیم موسیٰ کی تحریر ہے۔

اس کا دل نشیں، رواں اور پرتاثیر اردو ترجمہ فاضل دیوبند اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وارث مظہری نے کیا ہے۔ ترجمہ شدہ کتاب کا نام ”دینی مدارس: عصری معنویت اور جدید تقاضے“ ہے۔ یہ لگ بھگ 339 صفحات پر مشتمل کتاب ہے، جسے نعیمیہ اسلامک اسٹور دیوبند نے شایع کیا۔

کتاب کے بارے میں کچھ عرض کرنے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے، کہ مصنف کے بارے میں بات کرلی جائے۔ ابراہیم موسیٰ ایک استاد، ماہر اسلامیات اور دانشور ہیں۔ ان کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے، اور ان کے آبا واجداد ہندوستان کے ریاست گجرات سے تعلق رکھتے تھے۔ ابراہیم جنوبی افریقہ کے اسکول میں زیر تعلیم ہی تھے کہ اس درمیان انھیں دینی علوم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ اس جذبے کی وجہ ان کے ایک مسیحی ساتھی کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شدت اور دروغ گوئی پر مبنی ایک کتاب ہوئی۔ اس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے غلط بیانی سے کام لیا گیا تھا۔

کتاب میں تحریر اور مسیحی لڑکوں کے ذریعے بیان کی گئی باتیں ان باتوں سے میل نہیں کھاتی تھیں، جو ان کی امی نے انھیں بچپن میں بتایا تھا۔ اس تجسس نے ابراہیم موسیٰ کے اندر سچ بات جاننے کی جستجو پیدا کر دی، حالاں کہ ابھی ان کی عمر محض سولہ برس تھی۔ تلاش حق کے لیے انھوں نے اپنے گھر کے قریب کیپ ٹاون کی ایک لائبریری کا رخ کیا، لیکن وہاں بھی ان کی طبیعت کو سیری حاصل نہ ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے باضابطہ طور پر دین کا علم حاصل کرنے اور براہ راست قران و حدیث کی تفہیم کا تہیہ کرلیا۔ یہ تلاش انھیں ہندوستان کے مختلف مدارس سے گزارتے ہوئے، کانپور یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لندن اور پھر نوٹرے ڈیم یونیورسٹی لے گیا ۔ جہاں وہ علم کی شمع روشن کرنے میں مصروف ہیں۔

ان کی یہ داستان ان کی اور ان کے گھر والوں کی انجینئر بننے کی خواہش کے برعکس، دینی علوم کی اور پلٹ آنے کی، ان کی اپنی خواہش اور دھن سے شروع ہوتی ہے۔ مصنف کا یہ فیصلہ ان کے اہل خانہ پر بجلی بن کر گرا؛ خصوصا ان کے والد اس بات کے لیے راضی نہ ہوئے، کہ انھیں مدرسہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا جائے۔ والد کو اس بات کا اندیشہ دامن گیر رہا، کہ ان کا بیٹا مدرسے جانے کی صورت میں یہ ایک مسکین مولوی بن کر رہ جائے گا۔ لیکن ابراہیم موسیٰ اپنی امی اور خالاوں کی مدد سے اپنے والد کو راضی کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

ان کی یہ داستان یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ جس کے لیے سب سے پہلے وہ تین ماہ کے لیے تبلیغی جماعت کے لیے نکلے، پھر حالات زمانہ کی ٹھوکریں کھاتے داخلے کے لیے مدرسہ سبیل الرشاد بنگلور کا رُخ کیا۔ اس کے بعد مدرسہ سبیل الرشاد بنگلور سے ہوتے ہوئے دارالعلوم ماٹلی والا، بھورچ، اور دیگر کئی چھوٹے بڑے مدارس کی خاک چھانی۔ دار العلوم دیوبند اور بعدہ ندوۃالعلما جیسے معروف دینی اداروں کا نہ صرف قصد کیا بلکہ وہاں کے جلیل القدر علما اور اساتذہ سے کسب فیض حاصل کیا۔

”وٹ از مدرسہ“ نامی یہ کتاب جنوبی افریقہ کے ایک حق کے متلاشی اور علم کے کوزہ گر کی داستان حیات ہے۔ اس میں انھوں نے انتہائی دل کش انداز میں ان اداروں اور مدارس میں بتائے ماہ و سال اور شب و روز کی کہانی بیان کی ہے۔ مصنف کی داستان اس قدر دل چسپ اور پر تاثیر ہے، کہ پڑھتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پڑھنے والا جیسے کسی چلتی پھرتی اور متحرک کائنات کا مشاہدہ کررہا ہو۔ متعدد جگہ یوں لگتا ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے ان علاقوں، گلیوں، کوچوں، درجوں، مسجدوں اور اس روحانی و ایمانی فضا کو بالکل اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن پوری کتاب میں یہ بیانیہ نہیں ہے، اس لیے اسے ایک مکمل خود نوشت یا سوانح عمری نہیں کہہ سکتے۔


۔۔۔مزید

​بیمار قوم پرستی کی علامت کیوں بن گئے جوہر؟

(چار جنوری یوم وفات کی مناسبت سے خاص )
محمد علم اللہ 
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں، جن کا نقش آپ کے ذہن پر کنداں ہوجاتا ہے اور پھر وہ مٹائے نہیں مٹتا۔ اُنھی میں سے ایک مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے مولانا محمد علی جوہر کے بارے میں پہلی مرتبہ کب اور کیا سنا؟ لیکن ان کے بارے میں اتنا سنا کہ ان کی شخصیت کا ایک ہیولا سا میرے ذہن میں بن گیا۔ شیروانی، مخملی دوپلی ٹوپی اور گاندھی نما گول شیشے والی عینک زیب تن کیے ہوئے، ایک با رُعب شخصیت، جو انتہائی مختصر مدت میں بہت سے کام انجام دے کر، اس دُنیا سے رُخصت ہوگئے۔
جب میں عقل و شعور کی منزلیں طے کرتے ہوئے، کچھ بڑا ہوا اور مولانا کے بارے میں مزید جاننے اور پڑھنے کا موقع ملا، تو ان کا اسیر ہو کے رہ گیا؛ ملت کے اس عاشق کے بے لوث عشق اور دیوانے پن نے مجھے اپنا مرید بنالیا۔ ان سے اس محبت اور شیفتگی کا نتیجہ تھا، کہ مولانا کے بارے میں جو کچھ بھی ملا پڑھ ڈالا۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میں عربی کے ابتدائی درجات میں تھا، تبھی ’ہمدرد‘ [مولانا محمد علی جوہر،پ/ 10 دسمبر 1878ء رام پور؛ م/ 4 جنوری 1931ء لندن]اور ’زمیندار[مولانا ظفر علی خان،پ/ 1873ء وزیرآباد؛م/ 27 نومبر 1956ء وزیرآباد]کی فائلیں چاٹ ڈالیں۔
میں اسے اپنی خوش قسمتی سے تعبیر کرتا ہوں کہ مجھے مولانا علی جوہر کے معہد یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں علمی پیاس بجھانے کا موقع ملا۔ یہاں ان کے بارے میں جاننے اور پڑھنے کے خوب مواقع ہاتھ آئے۔ حالیہ دنوں میں مولانا محمدعلی جوہر بہت یاد آئے؛ جوہر کے یاد آنے کی کئی وجوہ ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ کہ ان کے ذریعہ قائم کردہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبائے قدیم نے پہلی مرتبہ علیگی برادران کے طرز پر، مولانا محمد علی جوہر کے یوم پیدائش (10 دسمبر 1878رامپور) کی مناسبت سے پوری دُنیا میں تزک و احتشام سے ’جوہر ڈنر‘ کا اہتمام کرتے ایک نئی رِیت ڈالی۔
یہ تقریب جامعہ ملیہ اسلامیہ میں دو مرتبہ سجی؛ ایک 10 دسمبر 2017ء کو، اور دوسری مرتبہ 24 دسمبر 2017ء کو؛ ان دونوں موقعوں پر جامعہ برادری نے اپنے محسن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے علاوہ فارغین جامعہ کی نمایندہ شخصیات کے کار ہائے نمایاں کا اعتراف کرتے ہوئے، انھیں ایوارڈ سے نوازا۔
جوہر کی یاد آنے کا دوسرا سبب، عالمی سطح پر یروشلم اور بیت المقدس کا خبروں میں جگہ پانا رہا؛ ’سر پھرے‘ امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعے اسرائیل کے لیے اس سر زمین کو راج دھانی کے طورپر تسلیم کرنا اور وہاں سفارت خانے کی منتقلی کے منصوبے کا اعلان ہے۔ یہ وہی یروشلم اور بیت المقدس ہے، جہاں مولانا مدفون ہیں۔
یہاں یہ بات واضح کر دینے والی ہے، کہ آج ہی کے دن یعنی چھیاسی برس پہلے مولانا محمد علی جوہر نے اس جہان فانی کو الوداع کہا تھا۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادی نے اپنی کتاب ’’محمد علی: ذاتی ڈائری کے چند ورق‘‘ میں لکھا ہے:
’’آخری سفر دیکھنے میں لندن کا سفر تھا، گول میز کانفرنس کے لیے؛ اور حقیقت میں سفر آخرت۔ بد بینوں نے کہا کہ اب اس خاکستر کے ڈھیر میں ہے کیا؟ لیکن جب بولنے کھڑے ہوئے تو انگریز اور ہندی سب پکار اٹھے کہ یہ گوشت پوست کا بنا ہوا آدمی ہے، یا ایک متحرک کوہ آتش فشاں! فاش و برملا کہا (جیسے مستقبل کو دیکھ ہی رہے تھے) کہ ’آزادی لینے آیا ہوں، یا تو آزادی لے کر جاوں گا یا اپنی جان اسی سرزمین پر دے کر‘۔ جنوری 1931ء کی چوتھی تاریخ اور شعبان 1350 ہجری کی پندرہویں شب میں، عین اس وقت جب روئے زمین کے مسلمان اپنے پروردگار سے رزق کی، صحت کی، اقبال کی، زندگی کی، مغفرت کی نعمتیں مانگ رہے تھے، مشیت الٰہی نے یہ نعمت عظمیٰ دنیائے اسلام سے واپس لے لی۔ (ص۔592)‘‘۔
انھوں نے ہمیشہ ہمیش کے لیے اپنی آنکھیں موند لیں۔ مولانا نے جب انتقال کیا ان کی عمر محض 52 برس تھی۔
مولانا کو یاد کرنے کی ایک تیسری وجہ بھی رہی کہ پہلی مرتبہ ہمارے ملک بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کی دعوت پر 4 تا 6 جولائی 2017ء، وہاں کا دورہ کیا، لیکن انھیں اس بات کی توفیق نہیں ہوئی، کہ وہ وہاں ہوتے ہوئے، بھارت کے اس عظیم اور جلیل القدر مجاہد آزادی کے مقبرے پر عقیدت کے چند پھول نچھاور کر آتے۔
بد قسمتی سے ہم مسلمانان ہند بھی اس موقع پر، نا تو کوئی کمپین چلاسکے اور نا ہی وزارت خارجہ یا ہندوستانی سفارت کاروں کو اس بات کی توفیق ہوئی، کہ وہ مولانا محمد علی جوہر کو موقع کی مناسبت سے یاد کرلیتے۔ وزیر اعظم خود نہ سہی، کسی وزیر یا ایلچی کے ذریعے ہی گل پوشی کی رسم ادا کروائی ہوتی تو یہ بات یقیناً ایک سو بیس کروڑ ہندوستانیوں کے دلوں کوخوش کرنے کا باعث بن جاتی، لیکن ایسا لگتا ہے کہ جب اقتدار کا نشہ سر چڑھ جاتا ہے اور عصبیت و خود غرضی کسی کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے، تو پھردیش بھکتی اور راشٹر واد بھی مخصوص نظریہ اور جامہ پہن لیتا ہے!
ہندوستانی محمد علی جوہر کو تحریک خلافت کے ایک عظیم قائد کے طور پر بھی جانتے ہیں، گرچہ ہم خلافت کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے، جس کا صدمہ مولانا محمدعلی جوہر سمیت پورے ہندوستانیوں کو رہا۔ محمد علی جوہر کے جامعہ نے اس مناسبت سے یکم مئی 2017ء کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو اعزازی ڈگری سے نوازا۔ جہاں طیب اردوان نے جامعہ، خلافت تحریک اور آزادی کا ذکر کرتے ہوئے، مولانا محمد علی جوہر کو یاد کیا۔ طیب اردوان ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ ترکی میں اسلام کا نشاۃ ثانیہ ہورہا ہے۔
امروز؛ فی الواقع ’احسان فراموشی‘ کا دور ہے؛ لہٰذا آج کی نسل اپنے محسنوں کو فراموش کرتی جا رہی ہے؛ تو ہم نہ اس سے حیران ہیں نہ پریشان۔ اصول پسند احباب کہتے ہیں، کہ ’ضرورت اس بات کی تھی کہ ہم اسلاف کے کارناموں کو یاد کرتے اور انھیں اپنا قومی اثاثہ تصور کرتے ہوئے ان کی خدمات کے اعتراف کویقینی سمجھتے‘۔ لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’قوم پرستی‘ کا جذبہ، جب ’بیمار‘ اور ’تنگ نظر‘ ہوجاتا ہے، تو ملک کا سربراہ بھی دیار غیرمیں، ایک مجاہد آزادی کو بھول جاتا ہے اور جس قوم کا سربراہ ہی ’غریب الوطن مجاہد‘ کو فراموش کردے، اُس قوم سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے محسن کو یاد رکھے گی!

۔۔۔مزید

پیر, دسمبر 18, 2017

لکھنے والے کی کامیابی کیا ہے؟


میں کیوں لکھتا ہوں ؟
 محمد علم اللہ 
جامعہ ملیہ، دہلی
تقریبا ایک سال پہلے کی بات ہے۔ معروف پاکستانی ادیب نعیم بیگ صاحب نے اردو پروگریسیو رائٹنگ فیس بک پیج پرتمام لکھنے والوں سے ایک سوال کیا تھا، کہ وہ کیوں لکھتے ہیں؟
ایک بڑے لکھاری یا ادیب کے پاس تو اس سوال کا جواب دینے کے لیے بہت کچھ مواد ہوتا ہے کہ ان کے پاس علم بھی ہوتا ہے اور تجربات بھی اور انھوں نے دنیا دیکھی ہوتی ہے، ایسے جہاں دیدہ افراد اس سوال کے جواب میں اگر کچھ لکھیں تو وہ یقینا ایک کارآمد چیز ہوتی ہے۔ نوآموز قلم کاروں کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملتا ہے اور ان کی تحریروں کے آئنے میں خود کو جانچنے پرکھنے کا موقع بھی ہاتھ آتا ہے۔
اس لیے مجھے بجا طور پر یہ احساس ہوا کہ اگر ان کی طرح میں بھی کچھ عرض کرنے کی کوشش کروں تو یہ یقینا ’چھوٹا منہ بڑی بات والی‘ کسی قسم کی کوئی چیز ہوجائے گی اور میں اس کے لیے خود کو کسی بھی قیمت پر راضی کرنے کے لیے تیار نہیں تھا لیکن نعیم بیگ صاحب نے کئی مرتبہ مجھے تاکید کی، کہ اس سوال کے ضمن میں، میں بھی کچھ نہ کچھ ضرور لکھوں۔
اب میں اسے ان کی خورد نوازی سمجھوں یا اپنے لیے بے بہا محبت یا پھر سعادت کی بات تصور کروں، اب میں اسے جو کچھ بھی خیال کروں، پر اپنے تئیں یہ ضرور خیال کرتا ہوں کہ میرے لیے بزرگوں کی بات ٹالنا اتنا آسان بھی نہیں ہوتا۔ اور بس اسی نکتے کے سہارے میں ایک دن اپنی تمام تر مصروفیات اور عذر ہائے لنگ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے متفرد خیالات کو مجتمع کرنے بیٹھ گیا اور لشتم پشتم کسی نہ کسی طرح اپنے لکھنے کے اسباب و وجوہات انھیں لکھ کر بھیج دیں۔
پھر یوں ہوا کہ بات آئی گئی ہوگئی، نہ انھوں نے کچھ توجہ کی اور نہ میں نے کچھ استفسار کیا، مگر اس فیس بُک کا ہم کیا کریں جو ہمارے رطب و یابس کو بار بار ہمارے سامنے لاتا رہتا ہے یا پھر یوں کَہ لیجیے، کِہ منکر نکیر کی طرح آپ کو آپ کا نامہ اعمال جو آپ نے خود لکھ رکھا ہے دکھاتا رہتا ہے۔ لہذا آج بھی اس نے ایک سال قبل لکھی گئی میری بے ربط تحریر کو میرے سامنے کردیا اور آج جب میں نے اس بے ربط تحریر کو سرسری نظر سے دیکھا تو مجھے خیال گزرا کہ کیوں نہ اسے تھوڑے بہت حذف و اضافے کے ساتھ اشاعت کے قابل بنادیا جائے۔
سو قارئین میں کیوں لکھتا ہوں، اس کی کہانی بھی آپ سن لیجیے۔ کہانیاں تو آپ پڑھتے ہی رہتے ہیں، آج لکھنے کے پیچھے کی کہانی یا کہانیوں کے پیچھے کی کہانی بھی پڑھ لیجیے۔ میں کیوں لکھتا ہوں؟ اس سوال کا جواب یقینا خاصہ مشکل ہے۔ کیوں کہ میں خود بھی کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ آخر میں لکھتا ہی کیوں ہوں؟
سچی بات تو یہ ہے کہ میں خود کو جواب نہیں دے پاتا اور اسی سے اس سوال کی مشکلات کا آپ اندازہ لگاسکتے ہیں، کہ جس سوال کا جواب آدمی خود ہی کو نہ دے پائے کسی اور کو کس طرح بیان کر سکتا ہے یا کس حد تک درست جواب دے سکتا ہے۔
شاید بات کو یوں شروع کرنا درست ہوسکے کہ لکھنے کا عمل ایک ملکہ ہے یا ہنر ہے اوریہ سب کو عطا نہیں ہوتا بلکہ جس کو عطا ہوتا ہے اس کی بھی حالت یہ ہوتی ہے کہ جیسے اس کو بھی اس ہنر پر پوری قدرت یا اختیار نہیں ہوتا۔ ہر لکھنے والے کو لکھنے پر قدرت تو گرچہ ہمہ وقت رہتی ہے مگر اس کے اسباب، محرکات اور داعیات اس کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتے۔ اسی لیے ایسا ہوتا ہے کہ وہ لکھتا ہے تو بہت لکھتا اور نہیں لکھ پاتا تو جانتے بوجھتے بھی کچھ نہیں لکھ پاتا۔
کبھی تو خیا لات، احساسات اور جذبات کا بہاؤ اس قدر ہوتا ہے کہ طبیعت بے چین ہو جاتی ہے؛ ایک دم بے کل۔ اس وقت کچھ بھی کرنے کو جی نہیں چاہتا، بس قرطاس چاہیے اور قلم۔ کبھی تو ہفتوں بلکہ مہینوں گزر جاتے ہیں، ہم چاہ کر بھی کچھ نہیں لکھ پاتے۔ جی ہاں! کبھی کبھار تو ایک سطر بھی نہیں اور ایسی ہر لحظہ متغیر کیفیت میرے ساتھ بہت رہتی ہے۔ جسے میں محسوس تو کرتا ہوں مگر بیان نہیں کر پاتا۔ اب یہی دیکھ لیجیے کہ لکھنے کے فن پر قدرت تو ہوتی ہے مگر اظہار پر یا بیان پر قدرت نہیں ہوتی۔ یہ ایام میر ے لیے انتہائی اذیت ناک ہوتے ہیں۔ شاید ہر لکھنے والے کے لیے ہوتے ہوں!
اللہ نے طبیعت بھی کچھ ایسی بنائی ہے کہ معمولی شورو شغب حتی کہ گپ شپ کی آواز بھی زہر معلوم ہوتی ہے، کبھی پنکھے کے چلنے سے بھی پریشان ہو جاتا ہوں، لیکن اس کے برعکس کبھی شدید گرمی ہے، پنکھا بھی نہیں چل رہا مگر لکھنے، پڑھنے میں مصروف ہیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس ماحول پر سکون چاہیے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نہ ناشتا کیا اور نا کھانا کھایا بس بیٹھے لکھ رہے ہیں، لکھ رہے ہیں، لکھتے چلے جا رہے ہیں۔ تھک گئے تو سو گئے، جب احساس ہوا تو کھا لیا۔ سرھانے قلم اور پنسل رکھے ہوئے ہیں کہ جانے کب کوئی خیال آ جائے، کئی مرتبہ پوری غزل، نظم، افسانہ اور مضمون مکمل خواب میں آیا اور جب بیدار ہوئے تو لکھ لیا۔ مجھے اس سے مطلب نہیں کہ اس کو لوگوں نے کتنا پسند کیا، کتنا سراہا مگر ایسا ہوا۔ خیالات کی آمد کا کوئی ٹھکانا نہیں، کبھی نماز پڑھ رہے ہیں اور کچھ خیال آ گیا، کبھی احباب سے بات کر رہے ہیں کہ اچانک کچھ نکتہ ابھرا اور جی لکھنے کے لیے مچلنے لگا، کبھی راہ چلتے، کبھی بس یونھی بیٹھے بیٹھے، کبھی بلا مقصد ایسے ہی لکھنا شروع کر دیا۔
میرے اکثر احباب میرے اس انداز کو جان بوجھ کر ان سے تجاہل برتنے والا عمل گردانتے ہیں اور ناراض ہو جاتے ہیں، لیکن میں انھیں کیسے یقین دلاؤں کہ وہ میرے لیے کتنے محترم ہیں اور میں انھیں کتنا چاہتا ہوں۔ میرے احباب ہی تو میرا سرمایہ ہیں، لیکن کبھی کبھی مجھے سامنے کی دنیا نظر ہی نہیں آتی، میں کہیں اور ہوتا ہوں اور ایسے میں کسی دوست کو دھیان نہ دے سکوں تو میرا کیا قصور ہے!
میں اپنی اس مجبوری کی وجہ سے اپنے کئی معزز احباب کو کھوچکا ہوں، جس کا مجھے غم ہے لیکن جو احباب میرے بارے میں جانتے ہیں، وہ میرے ناز نخرے بھی برداشت کرتے ہیں اور میری بہت ساری چیزوں کا خیال رکھتے ہیں جو میرے لیے یقینا افتخار کا باعث ہے۔ میں اس قدر ٹوٹ کر چاہنے والے احباب کا زندگی بھر قرض دار رہوں گا۔ کبھی کبھی میں زندگی سے دل برداشتہ ہوتا ہوں تو ایسے ہی احباب کی محبتیں مجھے جینے کا سامان فراہم کرتی ہیں، جو میرے دکھ درد، خوشی اور غم میں ہمیشہ شریک رہتے ہیں۔
جہاں تک لکھنے کے محرکات یا اسباب کی بات ہے تو ایک حساس انسان کے لیے دکھ، درد، کسک، بے بسی، ظلم، نا انصافی اور استحصال سے بڑھ کر اور کیا چیزیں ہوں گی جو اسے کچھ کرنے پر مجبور کریں۔ میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں جانتا اسی لیے لکھتا ہوں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میں نے اپنے اس شوق کی خاطر مار بھی کھائی ہے اور نقصان بھی اٹھایا ہے۔ میں خود کتنی ہی مرتبہ قسم کھاتا ہوں کہ اب نہیں لکھوں گا بھلا اس سے مجھے کیا فائدہ ہو رہا ہے لیکن دل نہیں مانتا اور کچھ دنوں کے بعد مجھے پھر سے اپنی قسم توڑنا پڑتی ہے۔
میں دنیا میں پھیلے دکھ، درد اور بے چینی کو دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہوں، اپنی بساط بھر ان کے لئے کچھ مدد کرنا چاہتا ہوں، لیکن ساری چیزیں سب کے بس میں نہیں ہوتیں، اگر میں ظلم کرنے والوں کے خلاف، کسی کا حق غصب کرنے والوں کے خلاف، کسی کو دکھ اور تکلیف دینے والوں کے خلاف تلوار لے کر نکل جاؤں تو میں اسے قتل نہیں کر سکوں گا، بلکہ تلوار لے کر نکلنا مجھ سے ہوگا ہی نہیں، تو پھر میں کیا کروں؟ کیا میں اپنا سر پیٹ لوں؟ خود کو ہلاک کر لوں؟ یا پھر پوری دنیا کو آگ لگا دوں؟ میں ایسا نہیں کرسکتا۔ شاید یہ مسئلے کا حل بھی نہیں ہے، تو پھر میں ان کے خلاف قلم سے مورچہ سنبھال لیتا ہوں۔ اس ظلم کے خلاف اپنی تحریروں سے علم بغاوت بلند کرتا ہوں۔ جھوٹ اور غلط کا احساس دلا کر لوگوں کو کچوکے لگانے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان کے احساس کو بیدار کرنے کی کوشش کرتا ہوں، کیوں کہ مجھے لگتا ہے کہ میں یہ کر سکتا ہوں اور بہت آسانی سے کرسکتا ہوں۔ تو جو میں کرسکتا ہوں وہی تو کروں گا اور مجھے وہی کرنا بھی چاہیے۔
بلاشبہ کبھی کبھی پیشہ ورانہ ضرورتیں بھی لکھنے پر مجبور کرتی ہیں، چوں کہ ہمارا پیشہ بھی حرف و قلم سے جڑا ہے تو ہمارے لکھنے کے سبب میں یہ لکھنا بھی لازم ٹھیرا کہ ہمارے لکھنے کا ایک محرک پیشہ بھی ہے یا پیسا بھی ہے۔ تاہم یہ بھی اپنی جگہ درست ہے کہ پیشہ ور تحریریں لکھنے میں مزا نہیں آتا اور کبھی کبھی تو ہمارا ضمیر بھی ہمیں ملامت کررہا ہوتا ہے کہ یہ کیا لکھ رہے ہو اور کیوں لکھ رہے ہو؟ ایسے موقع پر بہت خوف آتا ہے اور اس معنی میں بھی آتا ہے کہ کل خدا کے حضور کیا جواب دوں گا! لیکن پھر بھی اگر قلم کار کے پاس تازہ افکار ہیں اور وہ بصیرت رکھتا ہے تو ایسے موقع پر بھی وہ بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنا دامن بچا لے جاتا ہے۔
’ای ٹی وی نیوز نیٹ ورک‘ میں ایسا بہت ہوا، اور میں واحد اِڈیٹر تھا جس کی لڑائی ہمیشہ حق کے لیے ہوتی تھی۔ حالاں کہ وہاں بھی میرے بہت سارے ایسے خیرخواہ تھے جو مجھے ڈانٹتے تھے، کہ تمھارا یہ رویہ تمھیں نوکری سے بے دخل کر سکتا ہے لیکن میں جتنے دن بھی وہاں رہا اپنے اصولوں پر قائم رہا اور جس دن مجھے لگا کہ اب میں ان کے ساتھ نہیں چل سکتا، استعفیٰ دے دیا۔ اس لیے کہ میرا یہ ماننا ہے رزق کا مالک اللہ ہے اور اگر آپ حق پر ہیں تو کوئی بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑسکتا۔
میں نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں پیسے کے بل پر اسٹوری کو انتہائی مثبت اور کہانی کو بہت منفی ہوتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ نیوز چینل میں کام کے وقت زیادہ تر اسکرپٹ میں ہی دیکھتا تھا۔ اس وقت بابا رام دیو کا اشتہار تقریبا سارے چینلوں کو مل رہا تھا، سوائے اس چینل کے جہاں ہم کام کر رہے تھے۔ چینل کے ذمہ داران نے بہت کوشش کی کہ بابا رام دیو کا اشتہار ان کے چینل کو بھی ملے، مگر انھوں نے منع کردیا۔ اب چینل نے ایک دوسرا حربہ اختیار کیا، کہ بابا رام دیو اور پتنجلی مصنوعات کے خلاف اسٹوری چلانا شروع کردی۔ ظاہر ہے کہ اسٹوری مکمل طور پر ڈیسک پر تیار کی جارہی تھی اور پوری کی پوری جھوٹ یا دروغ گوئی پر مبنی تھی۔ انتظامیہ نے مجھ سے بہت چاہا کہ یہ سلاٹ میں کروں لیکن میں نے صاف منع کردیا۔ بعد میں بابا رام دیو کو جھکنا پڑا اور انھوں نے اس چینل کو بھی اشتہار دینا شروع کر دیا۔ پھر چینل کا رخ ایک دم بدل گیا۔
اس طرح دہلی کے ایک اردو اخبار کا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ ہمدرد دواخانہ والوں نے اردو کے کئی بڑے اخبارات کو اشتہار دیا۔ ہم جہاں کام کرتے تھے اس اخبار کو اشتہار نہیں ملا، اب اِڈیٹر نے مجھے حکم صادر کر دیا کہ میں ”ہمدرد“ کے خلاف منفی خبریں لکھوں۔ اس وقت بھی میں نے معذرت کرلی، جب کہ اسی اخبار کے ایک صحافی نے ایسی ایسی فرضی خبریں بنائیں کہ شیطان بھی شرمندہ ہوگا۔ اسی صحافی نے دیوبند کے کسی حکیم یا ڈاکٹر کے حوالے سے (مجھے نہیں معلوم کہ انھوں نے سچ مچ میں ان سے بات کی تھی یا خود سے ہی بہت ساری باتیں گڑھ لیں تھیں) خبر بنائی کہ ”ہمدرد“ کے معروف شربت ”روح افزا“ کے استعمال سے آنکھ کی بینائی جاسکتی ہے۔ اس صحافی نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ سلسلے وار اس پر اتنا لکھا کہ ”ہمدرد“ والوں کو اشتہار دینے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔
مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں اس طرح کی مہموں میں کبھی شریک نہیں رہا۔ سر تا سر مادی نقطۂ نظر سے میں کہ سکتا ہوں کہ میں نے نہ لکھنے کی وجہ سے بھی خاصہ نقصان اٹھایا ہے، حالاں کہ یہ فی الحقیقت نقصان نہیں ہے۔
ایک طرف ایسا ہے کہ بہت سے لوگوں کو میری تحریروں میں ان کا دکھ درد نظر آتا ہے، جیسے میرا قلم ان کی ترجمانی کررہا ہے اور دوسری طرف ایسا بھی ہے کہ بہت سے لوگوں کو مجھ سے خفت بھی ہوجاتی ہے۔ چوں کہ ہمارے معاشرے میں منافقین کی کمی نہیں ہے۔ وہ عام زندگی میں کچھ اور دکھائی دیتے ہیں اور ان کی حقیقت کچھ اور ہوتی ہے، زمینی سطح پر ایسے بہت سے لوگوں کی جھوٹی سچی کہانیاں مختلف ذرائع سے ہم تک پہنچتی بھی ہیں، کچھ چیزوں کو ہم نظر انداز کر دیتے ہیں اورکچھ کو قلم و قرطاس کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ جس کی کہانی لکھی جائے گی اگراس کی حقیقت بیان کردی گئی تو وہ نارض ہو جائے گا اور کہے گا کہ میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ اس بات کا جائزہ لیتے کہ جو کچھ لکھا گیا ہے وہ اس کی روشنی میں اپنی اصلاح کرلیں اور الٹا لکھنے والے کو مارنے کی دھمکی دیتے ہیں یا پھر لالچ دیکر اس کو پھانسنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم سب دیکھتے ہیں کہ ایسے افراد کی تعداد ہمارے معاشرے میں بہت ہے۔
ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے ہم سے بہت بعد میں اپنے کیریر کا آغاز کیا، آج ان کے پاس اپنا مکان ہے، ان کی اپنی گاڑیاں ہیں اور خطیر رقم کا بینک بیلنس ہے۔ جب کہ ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اپنی پوری زندگی لکھنے لکھانے میں لگادی، لیکن مادی لحاظ سے وہ کیریر کی ابتدا کے وقت جہاں تھے سالہا سال بعد بھی وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ ان میں سے کئی لوگوں نے علمی سطح پر اپنی پہچان ضرور بنائی ہے مگر علم کو کون پوچھتا ہے، ہندستانی تو گھوڑے گاڑیاں ہی دیکھتے ہیں۔
لیکن ظاہر ہے کہ جلد یا بدیر لوگوں کو ان کے بارے میں علم ہو ہی جاتا ہے بلکہ ان کے انداز و اطوار سے پتا چل جاتا ہے کہ وہ بکے ہوئے ہیں اور انھوں نے اپنے متاع علم و قلم کا سودا کیا ہوا ہے۔ لہذا زندگی کے اگلے مرحلے میں ایسے افراد کو وہ محبت نہیں مل سکتی یا نہیں ملتی جو ایک حق گو صحافی یا لکھاری کو ملتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک لکھاری کی یہی کامیابی ہے۔


۔۔۔مزید

پیر, اکتوبر 2, 2017

ٹام جس دیس سدھارے ۔۔۔ وہاں ظفر، غالب اور آزاد سے ضرور ملنا !

محمد علم اللہ 
یہ کم بخت کینسر ایسا مرض ہے، جو اکثر جان لے کر پیچھا چھوڑتا ہے۔ اب اس نے تھیٹر اور فلم کی دنیا کے لیجنڈ اور مایہ ناز اداکار ٹام آلٹر کو ابدی نیند سلا دیا ہے۔ 
ٹام آلٹر کی وفات کی اطلاع ملی تو تھوڑی دیر کے لیے یقین ہی نہیں آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اول اول جب یہ خبر دیکھی تو لگا کہ یہ افواہ ہوگی، جو بس ایسے ہی اڑا دی گئی ہے۔ مجھے ایسا لگا جیسے کل ہی تو ان سے ملاقات ہوئی تھی اور اتنی جلدی وہ کیسے جا سکتے ہیں؟ تصدیق کے لیے انٹرنیٹ کھولا تو دیکھا کہ نو منٹ قبل ٹائمس آف انڈیا نے یہ خبر دی ہے کہ سچ مچ میں اب ٹام آلٹر نہیں رہے۔ خبر پڑھتے ہی بس دل سے یہی نکلا "خدایا ! ٹام کی روح کو شانتی دے!!!
ٹام سے میری کوئی ایسی گہری شناسائی نہیں تھی کہ میں ان کے بارے میں کچھ لکھتا ،لیکن ان کے انتقال کی خبر کے بعد ان کے ذریعے ادا کئے گئے ڈرامے اور مکالمات بہت یاد آئے اور انگلیاں خود بخود ہی کی بورڈ پر گویا محوِ رقص ہو گئیں ۔
مجھے دو تین پروگراموں میں ٹام آلٹر کے ڈرامے دیکھنے اور ایک آدھ مرتبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ان سے ملنے کا موقع ملا تھا۔ تب سے ٹام سے ایک انسیت سی ہو گئی تھی۔ وہ میرے پسندیدہ اداکاروں میں سے ایک تھے اور دہلی میں جب کہیں ان کا پروگرام ہوتا، میں اس میں شرکت کی کوشش ضرور کرتا۔ ان کے پروگرام کو جتنی مرتبہ بھی دیکھتا طبیعت کو سیری حاصل نہیں ہوتی اور بے چین طبیعت کی تسکین کے لیے اکثر یوٹیوب پر ٹام کے دیگر کلپس کا سہارا لیتا۔
ٹام آلٹر سے میری یہ محبت شاید فن کی روح تک اتر جانے والے ان کے انفرادی جذبے کے علاوہ ان کی اردو دوستی کی وجہ سے بھی تھی۔ میرے لئے آج بھی اس منظر کو بھولنا بہت مشکل ہے، جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کھچا کھچ بھرے انصاری آڈیٹوریم میں دو اداکار مولانا ابوالکلام آزاد اور ہمایوں کبیر کا کردار ادا کر رہے تھے۔ بےاندازہ سکوت اور مدھم روشنی میں ڈراما جاری تھا۔
مولانا آزاد کے بہروپ میں شیروانی زیب تن کیے، لاٹھی ٹیکتے، نحیف مگر با رعب انداز میں ٹام آلٹر اسٹیج پر نمودار ہوئے تھے۔ اور اسی وقت سارا آڈیٹوریم تالیوں کی گونج کے ساتھ جاگ اٹھا تھا۔ دوسری طرف ایک ہیولا ہمایوں کبیر کے کردار میں محرر کی کرسی پر بیٹھا تھا۔ مولانا آزاد کی زبان کھلی ہے اور پورا ماحول مہر بہ لب ہو گیا۔ مولانا آزاد اپنے مخصوص انداز میں "انڈیا ونز فریڈم" کا املا لکھوا رہے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے اردوئے مبین میں کسی الہامی کتاب کا نزول ہو رہا ہو۔
جامعہ کے وہ شرارتی لڑکے جو کسی کو اسٹیج پر زیادہ وقت ٹکنے نہ دیتے اور جن کی ہوٹنگ اچھے اچھوں کی بولتی بند کر دیتی ہے ، حیرت انگیز طور پر ہمہ تن گوش ہو کے قائد ملت کے ایک ایک لفظ کو اپنے سینوں میں جذب کر رہے تھے۔ مولانا آزاد کے بہروپ میں ٹام آلٹر کی زبان سے کبھی بجلی کڑکتی دکھائی دیتی، کبھی ماحول پر غم کے بادل چھا جاتے، کہیں دلوں کو ان کی مسکراہٹ گدگداتی ، تو کبھی اچانک ساری فضا قہقہوں سے لالہ زار ہو جاتی۔ کہیں اپنوں کی نارسائیوں کا قصہ شروع ہوتا، تو کبھی غیروں کی دھوکے بازی اور دغا بازی کی المناک داستان سن کے آنکھیں ڈبڈبا جاتیں۔
علم و ادب کی شکل میں انوار رحمت برستی تو کبھی فصاحت و بلاغت کا غلغلہ بلند ہو جاتا۔ تاریخ کے جھروکے وا ہوتے، تو کہیں چوٹ، درد، کسک کی صرصر عصیاں جیسا معلوم ہوتا۔ اس لمحے ایسا لگ رہا تھا، جیسے سچ مچ ٹام آلٹر کی صورت میں مولانا ابوالکلام آزاد فلک سے زمین پر اتر آئے ہیں اور ایک مرتبہ پھر سوئی ہوئی قوم کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ مولانا آزاد کو گزرے برسوں بیت گئے، اب ٹام آلٹر بھی آنجہانی ہوئے۔
ٹام آلٹر! آپ کے ذریعے ادا کئے گئے غالب کے اس کردار کو کیسے فراموش کیا جائے جب اٹھارہ سو ستاون کے غدر کا خوں آشام ماحول ہو اور آپ اس بے کسی ، بے بسی ، روتی بلکتی ، بین کرتی جنگ کی داستان سنا رہے ہیں۔ جن لوگوں نے اٹھارہ سو ستاون کی تاریخ نہیں پڑھی تھی ، انھیں آپ نے اپنی اداکاری کے ذریعہ اس عہد کی داستان گوش گذار کرائی، وہ بھی مرزا غالب کی زبان میں ۔ جب آپ مرزا غالب کا کردار ادا کرتے تھے تو ایسا لگتا تھا جیسے واقعی درد، کرب ، کسک اور زمانے بھر کا دکھ لیے ہوئے مرزا اسد اللہ اس زمین پر اتر آئے ہوں ۔
ہم نے تو غالب کو محض کتابوں میں پڑھا تھا ، بزرگوں اور اساتذہ سے ان کے قصے سنے تھے ، ان قصوں میں زیادہ تر ان کی شراب نوشی ، عشق و عاشقی اور شعر گوئی کی باتیں بیان ہوتی تھیں لیکن جب غالب کے روپ میں اسٹیج پر ٹام آتے تو محسوس ہوتا جیسے دلی کی پوری تہذیب غالب کے ساتھ اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ واپس لوٹ آئی ہے ۔ یہ ٹام کا اپنا انداز تھا ، ان کا اپنا اسٹائل تھا، وہ روح تک پہنچ جاتے تھے ۔ دلوں کو چھو لیتے تھے ۔
ٹام آلٹر کے ذریعے نباہے گئے مغل سلطنت کے آخری تاج دار بہادر شاہ ظفر کے روپ کو کون فراموش کر سکتا ہے؟ جب انگریز ایک بوڑھے بادشاہ کو سزا دینے کی خاطر رنگون جیسی بے کیف جگہ قید کر کے رکھ چھوڑتے ہیں، ان کے دونوں بیٹوں کے سر کاٹ کر ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، پورے ہندوستان کو اس معزول بادشاہ کے سامنے یوں لوٹا اور تباہ کیا جاتا ہے جیسے کسی بچے کے سامنے اس کی ماں کی آبرو تار تار کی جاتی ہو، تب بادشاہ ایسے دشمنوں کی تکا بوٹی کر دینا چاہتا ہو مگر کچھ بھی کرنے سے قاصر رہے۔
اور صدیوں بعد جب ہندوستان کی بساط بدل چکی ہے، ہندوستان تین ٹکڑوں میں بٹ چکا ہے، اتنے برسوں میں نجانے کتنی جانوں کا اتلاف ہو چکا ہے، ایسے ماحول میں ماضی کی داستان سننے کے لیے ایک لڑکا پھٹی پرانی جینز پہنے بہادر شاہ ظفر کے پاس پہنچتا ہے۔ اور ٹام آلٹر بہادر شاہ ظفر کا کردار ادا کرتے ہوئے اس ہندوستان کی کہانی اسے سناتے ہیں، جس میں شیر اور بکری ایک ساتھ پانی پیتے تھے۔ لیکن عیار اذہان کو یہ رویہ اچھا نہیں لگتا اور وہ توڑ پھوڑ کے ذریعے اس پورے تہذیبی نظام کو درہم برہم کر دیتے ہیں۔ قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے۔
بہادر شاہ ظفر، بدلے حالات، نوجوان کے تلفظ اور تذکیر و تانیث سے ناآشنا ہندی زبان سن کر ششدر رہ جاتے ہیں، لیکن اس کی دل چسپی دیکھ کر کہانی کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ صدیاں الٹی جاتی ہیں۔ تہذیبوں، روایتوں اور حقیقتوں کا تصادم ہوتا ہے، اکیسویں صدی میں لوگ وہ زبان سن رہے ہوتے ہیں جو قلعہ معلی میں بولی جاتی تھی، لیکن یہ قلعہ معلی زیادہ دیر نہیں سجتا، چراغ گل کر دیے جاتے ہیں، بہادر شاہ ظفر کہانی سناتے سناتے ابدی نیند سو جاتے ہیں، لڑکا بہت جگاتا ہے مگر وہ نہیں جاگتے اور پردہ گر جاتا ہے۔
ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہمیں اپنے پرکھوں کی یاد دلانے والا آپ جیسا زندہ اداکار جو ہماری تاریخ سے خود ہم کو رُوشناس کرا رہا تھا، کہانی کہتے کہتے یوں سو جائے گا اور پردہ گر جائے گا۔
حق ہے کہ وہ پردے کے اس پار سے اب کبھی سامنے نہیں آئے گا۔ سچ کہا ہے کسی کہنے والے نے کہ جانے والے تو چلے جاتے ہیں، صرف ان کی یادیں باقی رہ جاتی ہیں۔ سو اب صرف آپ کی یادیں ہی باقی ہیں۔
ٹام آلٹر! ہماری تہذیب اور تاریخ کی باقیات کی شکل میں آپ دیر تلک یاد رکھے جائیں گے۔ آپ کی فصیح لسان، شستہ لہجہ اور دل کش اندازِ بیاں۔ آپ کے چاہنے والے جو آپ کے فن کے رسیا ہیں، انھیں لگتا ہے کہ نیلی آنکھوں والا ٹام آلٹر مرا نہیں، ہنوز اداکاری میں مصروف بہ کار ہے۔ کاش ایسا ہوتا، مگر ایسا نہیں ہے۔
نہیں! اب ٹام نہیں آئیں گے، داستایں سنانے والی ان کی متحرک نیلی آنکھیں اب ساکت ہو گئی ہیں، اور یہی سچ ہے۔
مگر ذرا سننا! آپ جس دیس گئے ہیں وہاں غالب ، ظفر اور آزاد سے ضرور ملنا۔ اور غالب سے کہنا کہ جس دیس کی اٹھارہ سو ستاون میں ہوئی جنگ کی آپ نے داستان لکھی تھی اب وہاں روزانہ اٹھارہ سو ستاون کی غدر دہرائی جاتی ہے ۔ چچا غالب کو بتا دیجیے کہ دلی سے لاہور ، کلکتہ اور ڈھاکہ تک جس دیس میں خطوط لکھ لکھ کر یاری گانٹھا کرتے تھے اب وہ تین حصوں میں بٹ چکا ہے اور تینوں جانب بہت اونچی دیوارِ چین کی طرح باڑھ لگا دی گئی ہے۔ تینوں جگہ روزانہ جنگ ہوتی ہے۔
مگر بدقسمتی سے اب کوئی تاریخ نہیں لکھتا کیونکہ بصیرت رکھنے والے قلم کار ہی نہیں ہیں۔ آپ جسے ابلاغ کہتے تھے اب ابلاغ کے ذرائع کی فراوانی ہو گئی ہے ، مگر وہ سب چند گھرانوں کے بکے ہوئے مخصوص کھلونے ہیں۔اب آپ کے زمانے کی طرح وہاں قلم، دوات اور روشنائی کا چلن نہیں ہے۔ اب لوگ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ ، ٹیب اور موبائل میں لکھتے ہیں، جس میں قلم ، دوات اور پنسل کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ۔فارسی اب صرف ایران تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ، آپ کا فارسی کلام تو دور کی بات، اردو کو ہی سمجھنے والے بہت محدود رہ گئے ہیں۔ اب وہاں آپ کی طرح نہ تو کوئی خطوط لکھتا ہے اور نہ ہی بغاوت اور حالات کی تاریخ رقم ہوتی ہے۔ اگر کوئی جانباز کچھ کوشش بھی کرتا ہے تو اس کی انگلیاں کاٹ لی جاتی ہیں، سر قلم کر دیا جاتا ہے۔
آزاد سے بھی آپ ملیے گا اور انہیں ضرور بتا دیجیے کہ ان کا اب نام و نشان تک وہاں باقی نہیں ہے بلکہ جو کچھ بچا ہے اسے بھی مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جس فاشزم اور ملک دشمن عناصر سے وہ زندگی بھر لڑتے رہے تھے اب انہی قوتوں نے وہاں ڈیرا جما لیا ہے جو روزانہ ملک کے جسم و جاں کی توہین بالجبر کر رہے ہیں ۔ ان کو ضرور بتانا کہ جس اردو کی وہ زندگی بھر دہائی دیتے رہے اور جس زبان میں انہوں نے آزادی کا صور پھونکا تھا اسے دیش نکالا جا چکا ہے ۔ ان کے جانے کے بعد جامع مسجد دہلی کے بغل میں ان کا مقبرہ بنایا گیا تھا ، جہاں اردو میں ان کا نام بھی غلط لکھا گیا، شاید اسی وجہ سے ہندوستان کے بچارے کتوں کو بھی نہیں پتہ کہ وہ جہاں لڑتے ، جھگڑتے اور غراتے ہیں وہاں دراصل سویا ہوا کون ہے؟ وہ تو مقبرے میں گھس کر بول و بزار بھی کر جاتے ہیں لیکن انھیں کوئی نہیں بھگاتا۔
اور ہاں ٹام ! آپ کو اللہ کا واسطہ، بہادر شاہ ظفر کو کچھ بھی مت بتانا ورنہ وہ دکھیارا انسان ایک مرتبہ پھر جیتے جی مر جائے گا۔ اب تک وہ اپنے دکھ کی داستان کو شاید بھول چکے ہوں گے، لہذا آپ خدارا ادھر سے گذرنا بھی مت کہ ان کی نظر کہیں آپ پر نہ پڑ جائے ۔
اور اگر ان سے ملاقات کے لئے آپ کا دل اتنا ہی بےچین ہو جائے تو ازراہ کرم کنی کاٹنے کی کوشش کیجیے گا ، مگر مجھے پتہ ہے آپ سے ایسا ہوگا نہیں اور آپ ان سے بہرصورت مل بیٹھیں گے ۔ ٹھیک ہے مل لیجیے گا مگر للہ شکوہ شکایت مت کیجیے ، ہندوستان کے موجودہ حالات کے بارے انہیں کچھ مت بتائیے گا۔ اگر وہ کرید کرید کر کچھ پوچھیں بھی تو انہیں صرف ویسی ہی اچھی اچھی باتیں بتائیں جیسے ہمارے عزت مآب وزیراعظم صاحب اپنے عوام کو بتاتے ہیں۔
انھیں بتائیے کہ وہاں بہت خوشحالی ہے ، ان کے جانے کے بعد انگریزوں نے ہندوستان چھوڑ دیا، پھر ان میں سے تین بھائیوں نے اپنے اپنے خوبصورت محل تعمیر کرا ئے ، تینوں کے بہت اچھے آپسی تعلقات ہیں، وہ بہت ہنسی خوشی رہتے ہیں ، تینوں جگہ خوب خوب ترقی ہوئی ہے ، ہر جگہ امن اور سکون کا ماحول ہے۔ اب انگریزوں کے زمانے جیسا انارکی اور بد امنی کا ماحول نہیں ہے ۔ اب آپ کے زمانے کی طرح ٹم ٹم اور بگھی نہیں چلتی ، کہار ڈولی نہیں ڈھوتے ،گھوڑے اور ہاتھیوں کو زحمت نہیں دی جاتی اب ہر جگہ سکون ہی سکون ہے ، اب تینوں جگہ ہوائی جہاز ، بلٹ ٹرین اور میٹرو دوڑ رہی ہیں ۔
اور ہاں انھیں یہ بھی بتا دیجیے کہ ابھی کچھ دن قبل ہمارے عزت مآب وزیر اعظم صاحب نے رنگون کا دورہ کیا تھا ، جہاں آپ کا مزار ہے، وہاں انھوں نے مزار پر پھول چڑھائے اور آپ کو بہت یاد کیا۔ وہاں آپ کو سب بہت یاد کرتے ہیں۔
***
alamislahi[@]gmail.com
موبائل : 09911701772
E-26, AbulFazal, Jamia Nagar, Okhla , New Delhi -110025

۔۔۔مزید

پیر, ستمبر 25, 2017

سرحد پار سے ایک طالب علم اس دیس میں آیا ہے

محمد علم اللہ
کبھی ڈائری لکھی جاتی تھی، گزرے ایام کی جھلک دیکھی جا سکتی تھی، سائبر ورلڈ نے روزنامچے محفوظ کرنا شروع کیے تو گاہے بگاہے گزرے دنوں کی جھلک سامنے آتی رہتی ہے۔ فیس بک نے یاد دلایا کہ استاد من ظفر عمران سے دوستی کیے ایک سال ہو گیا۔ یہ دوستی کیسے ہوئی اس کے پیچھے ایک داستان ہے۔ ذکر ان دنوں کا ہے، جب میں ای ٹی وی اردو میں کام کرتا تھا اور میری نائٹ ڈیوٹی تھی۔ رات کو کام کم ہوتا ہے تو وقت گذارنا بھی پہاڑ کاٹنے جیسا لگتا ہے۔ وقت گذاری کے لیے کبھی فلمیں، ٹی وی سیریلز وغیرہ دیکھتا یا انٹرنیٹ کی خاک چھانتا۔ ایک دن یو ٹیوب پر ایک فلم دیکھ رہا تھا، کوئی ٹیلی فلم تھی اس وقت نام یاد نہیں آ رہا ہے۔ اس میں اسکرپٹ رائٹر کا نام ظفر عمران لکھا تھا، فلم مجھے بہت اچھی لگی، اس کے مکالمات، زبان، بیان، کہانی کا اسٹائل سب کچھ اچھا تھا۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب میں کوئی اچھی چیز دیکھتا ہوں یا پڑھتا ہوں تو اس کے خالق سے ملنے کو دل بے قرار ہو جاتا ہے۔ کسی فنکار کی کوئی اچھی چیز دیکھی تو اس کی انگلیاں چوم لینے کو جی چاہتا ہے۔ جامعہ میں بھی اسی وجہ سے مالی، بڑھئی آرٹسٹ سبھی سے دوستی ہو گئی ہے۔ میں حتی الامکان فنکار کو کم از کم ہمت افزائی کے دو کلمات ہی کہہ دوں، اس بات کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ مذکورہ فلم کو دیکھنے کے بعد یہ تجسس پیدا ہوا کہ اس شخص سے ملاقات کی جائے۔ آخر یہ کون ہے اور کیسے اتنا اچھا لکھتا ہے۔
چھان بین شروع کی، آنٹی گوگل سے فریاد کی، ڈارلنگ فیس بک کو زحمت دی، تو معلوم ہوا کہ جس شخص کو ہم اپنا عزیز بنائے ہوئے ہیں وہ تو ’دشمن ملک‘ یعنی پاکستان کا ہے، ہم پڑوسی ملک کے بارے میں اپنے طور پر یہ فرض کر لیتے ہیں، کہ وہاں کے سب لوگ برے ہی ہوں گے، اسٹیریو ٹائپ کے طور پر جب سر حد کے اس پار کی بات آتی ہے تو کسی سے ملنا توبہت دور کی بات رہی، مبارکباد دینے پر بھی شک کے دائرے میں نہ آ جائیں اس کا ڈر لگا رہتا ہے۔ پھر ہم بظاہر جس کو فیس بک میں دیکھ رہے ہیں یہ وہی ہے یا کوئی دوسرا ان کے نام سے چلا رہا ہے، اس کی تصدیق کرنا بھی مشکل کام ہوتا ہے۔
بسیار تلاش کے بعد مجھے کہیں سے ظفر عمران صاحب کی ای میل آئی ڈی حاصل کرنے میں کامیابی ہوگئی، اور میں نے ڈرتے ڈرتے اس آئی ڈی پر فلم کو لے کر اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے کچھ ناقدانہ کمنٹس بھی اس میں ڈال دیے۔ دوسرے دن خوشگوار حیرت کی انتہا نہیں تھی کہ فنکار نے مجھے جواب لکھا تھا اور میری معروضات پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہے، یقیناً یہ بھی ایک معرکہ ہی تھا، جس پر خوش ہونا میرا حق بنتا تھا۔ میں نے ان کو فورا جواب لکھا اور یوں یہ میل ایک خوبصورت منزل کا رستہ ثابت ہوا۔ یہ آدھی ملاقات ہماری پوری ملاقات بن گئی۔ اس درمیان ہماری کبھی نہ ویڈیو کالنگ ہوئی اور نہ آڈیو لنک لیکن شاید ہی ایسا کوئی دن گزرا ہوگا جب کسی نا کسی موضوع پر ہمارے اور عمران صاحب کے درمیان تبادلہ خیال نہ ہوا ہو۔ اس درمیان ایک مشفق مہربان مربی استاد کی طرح وہ مجھے کسی اچھے مضمون یا فلم کا لنک بھیجتے اور میں اس کو پڑھنے اور دیکھنے میں منہمک ہو جاتا۔
اس درمیان ظفر عمران صاحب نے لکھنے پڑھنے کی جانب جہاں میری رہنمائی کی وہیں اپنی کئی فلموں اور سیریلز کی نشاندہی کی جسے میں نے دیکھا اور اس سے کافی کچھ سیکھنے کو ملا۔ عموما ً دیکھا یہ گیا ہے کہ فلم انڈسٹری یا اس قسم کے پیشے سے وابستہ افراد خود کو بہت بڑا سمجھتے ہیں، ان میں رعونت بہت ہوتی ہے، وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے ہیں اور خاص کر اگر وہ تخلیق کار ہے تو اس کی انا کا پندار بہت جلد ٹوٹتا ہے، لیکن میں نے دیکھا کہ ظفر عمران صاحب کے یہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ بلکہ ان کی تحریروں میں جس طرح سے خوش مذاقی، خوش مزاجی، خوش سلیقگی، خوش خلقی، خوش نستعلیقی جھلکتی ہے۔ ان کی طبیعت میں بھی وہ چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ نفسیات کا ذرا بھی علم رکھنے والا شخص کسی کی بھی تحریر پڑھ کر اندازہ لگاسکتا ہے، کہ وہ شخص کس قسم کا ہوگا۔ میں یہاں پر ٖظفرعمران کی تحریروں کا نفسیاتی جائزہ لینے نہیں بیٹھا ہوں، لیکن ان کی تحریر پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نستعلیق اور نفیس انسان ہیں سلیقہ مندی ان کی طبیعت کا حصہ ہے اور مجھے ان کے یہ اطوار بہت پسند ہیں، میں بھی ایسی خوبیوں کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہوں، مگر ایسا ہو کہاں پاتا ہے۔
جب ہماری ظفر عمران صاحب سے شناسائی ہوئی تو انھی دنوں ہمارے ای ٹی وی کے کچھ احباب نے ایک مختصر فلم بنانے کا منصوبہ بنایا اور اسکرپٹ لکھنے کی ذمہ داری میرے سپرد کر دی۔ اس سے قبل گرچہ میں’ریتو مہرا‘ اور’اجئے شاہ‘ کے ساتھ ’دوردرشن‘ کے سیریلز میں ’کو رائٹر‘ کے طور پر کام کر چکا تھا، لیکن پھر بھی اسکرپٹ رائٹنگ کو لے کر پس و پیش کی کیفیت میں تھا اور سوچ رہا تھا کہ ایک آئیڈیل اسکرپٹ کیسا ہوتا ہوگا۔ ریتو مہرا کے ساتھ تو خوبی یہ تھی کہ وہ سڑیل سے سڑیل اسکرپٹ کو بھی اپنے جاندار انداز میں شوٹ کر کے کامیاب بنا لیتی تھی، مگر یہاں مسئلہ اپنی اہمیت کو ثابت کرانا تھا۔ میں نے لکھنے سے قبل ظفر عمران صاحب سے مشورہ چاہا اور ان سے کچھ نمونے کے اسکرپٹ مانگے تو انھوں نے ایک دو نہیں درجنوں اسکرپٹ بھیج دیے، ساتھ میں فلموں اور سیر یلز کی بھی نشاندہی کر دی، ان کا یہ رویہ مجھے بہت بھایا۔
مجھے اندازہ نہیں تھا کہ محض ایک ای میل ہم دونوں کے درمیان اس قدر قربت کا باعث بنے گا، میں نے ظفر عمران صاحب کو ایک چھوٹا سا اسکرپٹ لکھ کر بھیجا، جسے انھوں نے خاصا پسند کیا اور زبان و بیان کی اصلاح کرکے مجھے واپس بھیج دیا، یہ الگ بات ہے کہ اسے شوٹ کرنے کی ابھی تک نوبت نہیں آئی، لیکن ان کی ہمت افزائی اور سراہنے نے مجھے کافی حوصلہ دیا۔ اس محبت میرے اندر بھی ہمت آئی اور اس کے بعد ہم دونوں کی اس فلم، ٹیلی ویژن اور صحافت پر خوب باتیں ہونے لگیں، وہ مجھے دنیا جہان کی فلمیں بتاتے، میں اسے دیکھتا اور ان سے اس پر دیر گئے رات تک گفتگو کرتا۔ یہ گفتگو رات کے بارہ ایک بجے سے شروع ہو کر کبھی کبھی صبح کے چھہ بجے تک جاری رہتی۔ میں ایشیاء کے ایک بڑے ادارے سے دو سالہ باضابطہ فلم اور جرنلزم کا کورس کرنے کے دوران اساتذہ سے جو سوال نہیں کر سکا تھا، وہ سب موصوف سے پوچھتا۔ پھر جس سمے انسان کلاس میں کوئی چیز پڑھ رہا ہوتا ہے، اس وقت یہ ضروری نہیں کہ ساری چیزیں سمجھ میں بھی آجائیں، میری نا سمجھی ہوئی باتوں کا روز ایک پٹارا ہوتا، جسے میں کھولتا جاتا اور ظفر عمران صاحب ایک اچھے اور مخلص استاد کی طرح اس کو حل کرتے جاتے۔ مجھے اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں کہ ان سے اس درمیان میں نے بہت کچھ سیکھا، خصوصاً فلم اور تیکنیک کے حوالے سے۔ ان سے جو کچھ بھی باتیں ہوئیں وہ میری زندگی کا بہترین سرمایہ ہیں۔
اسی دوران انھوں نے مجھے آن لائن ویب پورٹل ”ہم سب“ پر لکھنے کے لئے مجبور کیا۔ میرے جھجھکنے پر بار بار مجھے لکھنے کے لیے اکساتے، کچوکے لگاتے، سمجھاتے بجھاتے۔ اس طرح انھوں نے ”ہم سب“ پر ایک مضمون ’بدلتے ہندوستان میں کتابوں کی واپسی ‘کے عنوان سے لکھوانے میں کامیابی حاصل کر ہی لی، اس مضمون پر انھوں نے اصلاح دی۔ نوک پلک سنواری اور ”ہم سب“ پر وہ شائع ہو گیا۔ ”ہم سب“ پر اس مضمون کا چھپنا تھا کہ اس کی خوب پذیرائی ہوئی۔ ہندی اور انگریزی میں اس کے ترجمے شائع ہوئے۔ پہلی مرتبہ میرے کسی مضمون کا ترجمہ بغیر میری کوشش کے شائع ہوا تھا۔ مجھے بہت خوشی ہوئی اور پھر مضمون کا معاوضہ نہ ملنے اور اردو میں لکھ کر پذیرائی کی کمی کا جو شکوہ تھا دور ہو گیا۔ پھر وہ برابر مجھ سے مضمون کا تقاضہ کرنے لگے۔
یہی نہیں اچھا مضمون کیسے لکھیں، خیالات کو کیسے قلم بند کریں، پیراگرافنگ کیسے کی جاتی ہے، رموز و اوقاف، لسان و قوائد کا کتنا خیال رکھنا چاہیے۔ کیا لکھنا اور کیا نہ لکھنا، ان سب باتوں کی انھوں نے مجھے باریکیاں بتائیں۔ میں فیس بُک پر کچھ پوسٹ کرتا، اس میں کوئی غلطی ہوتی تو وہ اس کی نشاندہی کرتے اور ان غلطیوں پر قابو پانے کے طریقے بتاتے۔ جس سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ انھوں نے ”ہم سب“ پر میرے بلاگ کا پیج بنوایا، میرا تعارف لکھا اور قلم کو مزید رواں اور صیقل کرنے کے لیے برابر ابھارتے رہے۔ ان کے ذریعے ”ہم سب“ کی ٹیم میں شامل عدنان خان کاکڑ، وصی بابا اور نام نامی وجاہت مسعود جیسے معتبر صحافی سے متعارف ہونے اور ان کو پڑھنے کا موقع ملا اور تب اپنی اوقات بھی سمجھ میں آئی۔
جب بھی کوئی مضمون شائع ہوتا تو کوئی نا کوئی کچھ نا کچھ مشورہ ضرور دیتا، جس کو میں اپنے اگلے مضمون میں برتنے کی کوشش کرتا۔ میرے استاد ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب کہا کرتے ہیں، ”لکھنے سے لکھنا آئے گا، بولنے سے بولنا اور پڑھنے سے پڑھنا، جو کام پسند ہو تو دیکھو کہ لوگ اس کو کیسے برتتے ہیں۔ “ اور معروف کمپنی ایپل کے سی او کا قول ہے ”انسان کو ہمیشہ بھوکا اور بے وقوف بن کے رہنا چاہیے کہ اس سے اسے سیکھنے کو ملتا ہے۔ “ تو میں ہمیشہ اس کی کوشش کرتا ہوں۔ آ ج کے اس مادہ پرستانہ دور میں جبکہ ہر چیز کو لوگ مادیت سے ناپتے ہیں، ایسے مخلص لوگوں کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔ انسان بہتوں سے بہت کچھ سیکھتا ہے، میں نے اپنے قلمی زندگی میں جن لوگوں سے سیکھا ہے، ان میں ظفر عمران صاحب کے علاوہ ناموں کی ایک طویل اور لمبی فہرست ہے۔ ان میں بچے سے لے کر جوان، بوڑھے اور ادھیڑ سبھی شامل ہیں۔ میں انشاء اللہ وقتا فوقتا ان شخصیات پر لکھنے کی کوشش کروں گا، جن سے میں کسی طور متاثر ہوا اور کچھ سیکھا۔ میں فیس بک کے بانی مارک ذکر برگ کا بھی شکر گذار ہوں کہ اس کی بنائی ہوئی فیس بک کی بدولت ہم ایسے مخلص اہل علم و ادب اور اپنی پسندیدہ شخصیتوں مکمل نہ سہی نصف ہی مل تو پاتے ہیں۔
کہتے ہیں آرٹسٹ کی کوئی سرحد یا حد بندی نہیں ہوتی ہے، وہ انسانیت کے لئے جیتے اور انسانت کے لیے مرتے ہیں۔ سرحد کے اس پار اور سر حد کے اس پار بھی دونوں جانب ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان امن چاہتے ہیں محبت چاہتے ہیں۔۔ ظفر عمران صاحب سے کتنی ہی مرتبہ اس موضوع پر گفتگو ہوئی ہے اور انھوں نے دونوں ملکوں کے مابین خلیج، دراڑ اور نفرت پر افسوس کا اظہار کیا ہے. آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایسے افراد کو لے کر آگے بڑھیں اور دونوں جانب امن، اخوت، محبت کے پھول اگائیں تاکہ آئندہ آنے والی ہماری نسلوں کو ایک ایسا خطہ ملے، جس میں بم، بارود کی بو، توپ، میزائل اور ٹینکوں کی گھن گرج نہیں بلکہ الفت، محبت اور رحمت کے نغمے سننے کو ملے جہاں خوشحالی، بھائی چارگی اور ہمدردی کے نقوش ملیں۔
24/09/2017

۔۔۔مزید