جمعرات، 21 ستمبر، 2017

رویش جی! آپ کو کیا چیز ڈراتی ہے؟


بٹلا ہاوس اِنکاونٹر کے پس منظر میں ’شبلی‘ تم تو واقف تھے؟

نوٹ : اس مضمون کا مرکزی خیال میرے عزیز دوست فہیم خان(فلم ہدایت کار اور اسکرپٹ رائٹر) کے فیس بُک وال سے اخذ کیا گیا ہے، فہیم بھائی کا درد میرا درد ہےاور یہ مضمون اسی کا نتیجہ ہے ۔۔۔۔

محمد علم اللہ ، نئی دہلی
ان دِنوں رویش کمار (پیدائش 5 دسمبر 1974ء ) مشرقی چمپارن بہار سے تعلق رکھنے والے این ڈی ٹی وی سے وابستہ معروف صحافی اور ٹی وی اینکر کو دھمکی دی جا رہی ہے، کہ وہ سیکولرازم کی بقا، اقلیتوں اور پچھڑے طبقات، جن کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا، کی آواز اٹھاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رویش کمار فی زمانہ ایک حق گو اور بے باک صحافی کے طور پر سامنے آئے ہیں ۔ شاید اسی وجہ سے بہتوں کو ان سے امیدیں بھی ہیں کہ ایک ایسے دور میں، جب ایک خاص ذہنیت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، رویش جیسے لوگ اندھیرے میں امید کا چراغ جلانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن انسان بہرحال انسان ہوتا ہے اور خواہ کتنا ہی جرات مند اور بے باک ہو اس کے اپنے مفادات اور اپنی مصلحتیں ہو تی ہیں۔ ہم اس پر بات نہیں کریں گے تاہم ان دنوں پورے ملک میں ایک خاص قسم کے خوف اور دہشت کی نفسیات کو ہوا دی جا رہی ہے اور رویش بھی تقریبا ہر تقریر میں اس کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ ملک میں ایسا ماحول ہے جس نے ہر باشعور شہری کو متفکر کر دیا ہے۔ یہاں بات کسی فرد واحد یا کسی ایک قوم کے تحفظ کی نہیں، بلکہ ملک کی سالمیت اور جمہوریت کے تحفظ کی ہے۔ اس لیے ہم آج اسی پر گفتگو کریں گے، اور ہمارے مخاطب براہ راست رویش جی ہوں گے۔
رویش کمار جی! آج آپ خوف کی جس لہر کی بات کر رہے ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ وہ خود آپ کو خوف زدہ کرتی بھی ہے یا نہیں؛ لیکن زیادہ دور نہیں بس یہی آٹھ نو سال پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو یاد آتا ہے کہ اس وقت آپ نے خوف کی اس لہر کو ہمارے سینوں میں اتارنے کا کام کیا تھا۔ اور تب ہم سچ میں ڈر گئے تھے۔ کہتے ہیں خوف ایک خطرناک بیماری ہے جو انسان کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ وہ انسان کی نفسیات پر طویل عرصے تک غالب رہتی ہے اور یہ بات شخصیت کے ارتقا کے لیے سم قاتل سے کم نہیں ہے۔ بات اس دن کی ہے جب ہمارے علاقے (بٹلا ہاوس) میں19 ستمبر 2008ء کو مبینہ طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے دو طالب علموں کو دہشت گرد قرار دے کر ایک ”انکاونٹر“ میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے اس دن ایک ریلی نکالی تھی۔ ان دنوں ہم ایک اخبار کے لیے خبر فراہم کرنے کا کام کیا کرتے تھے۔ دن بھر ہم اپنے دوستوں کے ساتھ انکاونٹر والی جگہ پر خبروں کی تلاش میں ادھر ادھر بھاگے پھر رہے تھے۔ شام تک ہم نے اپنے آفس کو خبریں فائل کر دی تھیں۔ رات کو ٹیلی ویژن پر کیا آتا ہے، اس کا انتظار تھا۔
مجھے یاد ہے کہ اس وقت جب انسپکٹر موہن چند شرما (پیدائش 23 ستمبر 1965ء وفات 19 ستمبر 2008ء، ایک متنازع پولیس انسپکٹر جو مشتبہ طور پر بٹلہ ہاوس انکاونٹر کے دوران ہلاک ہوا اور جسے بعد میں حکومت نے اشوک چکر سے نوازا) کے مرنے کی خبر آئی تو ٹی وی اسٹوڈیو میں نام نہاد حب الوطنی کا رنگ ظاہر ہونے لگا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آج کل ظاہر ہورہا ہے۔ ہم نے سوچا کہ این ڈی ٹی وی بہت سنجیدہ چینل ہے، دیکھتے ہیں یہ کیا دکھاتا ہے۔ رویش جی آپ بھی اسٹوڈیو میں بیٹھے تھے، ویسے ہی کوٹ پینٹ پہنے ہوئے، پرائم ٹائم سلاٹ پر، جیسا کہ ارنب گوسوامی (9 اکتوبر 1973ء کو گوہاٹی میں پیدا ہونے والے، چیخنے چلانے اور نام نہاد وطنیت کا گن گانے والا صحافی) بیٹھا رہتا ہے۔ آپ ارنب کی طرح چیختے چلاتے نہیں۔ یہ فرق اس دن بھی تھا۔ آپ آپے سے باہر نہیں تھے، سنجیدہ ہی دکھائی دے رہے تھے۔ یہ آپ کا انداز ہے، لیکن اس دن آپ کی سنجیدگی پر ”حب الوطنی“ کا پر تو صاف جھلک رہا تھا۔ ”انا الحق“ والے منصور کو سب پتھر مار رہے تھے، بڑے بڑے پتھر۔ منصور مسکرا رہا تھا، مگر جب منصور کے دوست شبلی نے بھی ایک پھول سے منصور کو مارا تو منصور درد سے چیخ اٹھا۔ شبلی تم بھی؟! لوگوں نے پوچھا: جب سب مار رہے تھے تو تم مسکرا رہے تھے، شبلی نے تو پھول سے مارا؟ منصور نے کہا کہ وہ لوگ جانتے نہیں کہ وہ معذور ہیں مگر شبلی جانتے ہیں، اس لیے ان کا پھول مجھ پر گراں گزرا۔ اس کے بعد منصور کے ہاتھ، پاؤں کاٹ دیے گئے اور آنکھیں نکال دی گئیں (ٹھیک اسی طرح جیسے آج کل بعض خاص طبقات کے ساتھ ہورہا ہے) رویش آپ بھی۔۔۔؟
ہاں! ہاں! اس دن، دِبانگ (بھگوا چولا کے پرستار ہندی نیوز چینل اے بی پی سے وابستہ صحافی، جو روزانہ پرائم ٹائم اور ہفتہ واری پریس کانفرنس شو کی میزبانی کرتے ہیں) کے ساتھ اسٹوڈیو میں بیٹھے آپ بھی بٹلہ ہاوس انکاونٹر پر بحث کر رہے تھے اور گراؤنڈ زیرو سے رپورٹنگ کرنے والی عارفہ خان شیروانی کا لائیو پروگرام جاری تھا تو رپورٹنگ کو درمیان ہی کاٹ کر آپ نے ایک جملہ کسا تھا۔ وہ طعنہ ارنب کے پتھر نہیں بلکہ شبلی کے پھول تھے جس نے ہمیں زخمی کر دیا تھا۔ اس دن ہم چوٹ سے بلبلا اٹھے تھے۔ آپ نے تو محض ایک طعنہ دیا تھا جو صرف عاطف اور ساجد پر نہیں تھا بلکہ پوری کمیونٹی پر تھا، ایک پورے علاقے پر تھا، اور اس دن کی رپورٹنگ کی وجہ سے عارفہ کو آپ کا چینک چھوڑنا پڑا تھا۔
کیا یہ آپ کی مجبوری تھی؟ شاید نہیں! لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ جب مسلمانوں کی بات آتی ہے توآپ اور آپ ایسے بہتوں کے رویے ان کی مجبوری بن جاتے ہیں۔ اچھے اچھے لوگ ایسے مواقع پر پھسل جاتے ہیں، بہک جاتے ہیں؛ ان کے قدم لڑ کھڑا جاتے ہیں اورجام ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ ذہین، سمجھ دار اور سیکولر افراد بھی اس مفروضے اور رویے کو کنارے نہیں رکھ پاتے، جس میں ہم انھیں ماضی میں ’حملہ آور‘ اور حال میں ’دہشت گرد‘ نظر آتے ہیں۔ میں جانتا ہوں آپ اپنے ضمیر کی سنتے ہیں، لیکن جب پورا ہجوم پتھر مار رہا ہوتا ہے، تو آپ بھی انھی میں شامل ہو جاتے ہیں یعنی پتھر مارنا شبلی کی مجبوری بن جاتی ہے۔
میں جاننا چاہتا ہوں کہ آخر ایسی مجبوری کہاں سے آتی ہے؟ کیا اس مجبوری کی بنیاد خوف ہے؟ کیا اس دن آپ سچ مچ ڈر گئے تھے؟ مجھے نہیں لگتا کہ اس دن آپ ڈرگئے تھے۔ آپ تو چوتھے ستون کی طرح مضبوط نظر آ رہے تھے، اپنے کندھے پر حکومت کی چھت لیے۔ آپ شہید گنیش شنکر ودیارتھی (پیدائش 26 اکتوبر 1890ء وفات 25 مارچ 1931ء، کانپور۔ ہندی صحافت کے ستون جو کانپور فسادات کے دوران انگریزوں کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے) کے صحافت کے اصولوں کو فراموش کرکے انسپکٹر موہن چندرا شرما کے وکیل دکھائی دے رہے تھے۔ آپ جذبات میں بہہ گئے تھے۔ جذباتی ہونا غلط بات نہیں ہے، یہ اچھی بات ہے۔ ملک کے ہرباشندے کو اپنے وطن کے تئیں جذباتی ہونا ہی چاہیے۔ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ایک صحافی کو بھی محب وطن اور اس کی محبت میں جذباتی رویہ اپنانا چاہیے۔ یہ قابل تعریف ہے۔ مگر جو لوگ آج آپ کی حب الوطنی کو شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں، ان کی نظروں میں ہماری ’دیش بھکتی‘ ہمیشہ سے مشکوک رہی ہے۔ انھوں نے اسی شک کی بنیاد پر ہمارا جینا دو بھر کر رکھا ہے۔ کئی مرتبہ آپ بھی ہمارے خلاف اس شک میں ان کے ہم جولی اور ہم نوا دکھائی دیئے اور بٹلہ ہاوس انکاونٹر والے دن بھی آپ ان کے ساتھ تھے۔ جس بے لگام بھیڑ کو لے کر آپ آج بے چین ہو رہے ہیں، اس دن اسی بھیڑ کے ساتھ آپ بھی تھے۔
آپ من موہن سنگھ سے تو وہ سوالات کر لیتے ہیں، جس کی مثال اب آپ اپنی وضاحتوں میں بھگتوں کو دیتے ہیں، مگر وہ سوالات جو بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر پر اٹھائے گئے تھے یا اٹھائے گئے ہیں، ان میں آپ من موہن سنگھ حکومت کے ساتھ ہی کھڑے نظر آئے، انھی کے جملے میں کہ ایک انسپکٹر کی موت کے بعد بھی کمیونٹی کو یقین نہیں آ رہا ہے کہ عاطف اور ساجد دہشت گرد تھے۔ رویش جی! آپ کو بھی اب یقین آ گیا ہوگا کہ صرف ماضی ہی نہیں بلکہ حال بھی اطمینان کے قابل نہیں ہے۔
آپ کی طرح نہ تو مجھے زبان و بیان پر گرفت ہے اور نا ہی میرے پاس آپ جیسے منطقی دلائل ہیں۔ مگر ایک چیز اب میرے اور آپ کے درمیان یکساں ہو گئی ہے، اور وہ ”خوف“ کی وہ لہر ہے جو میرے اور آپ کے وجود کی گہرائی تک اتر گئی ہے۔ اب آپ کو بھی ڈرایا جا رہا ہے جیسے ہم لوگوں کو ڈرایا جاتا رہا ہے، صدیوں سے۔ جس خوف کی نفسیات کے بارے میں آپ بول رہے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے البتہ یہ پہلے ایک خاص طبقے تک ہی محدود تھی اور اب ذراعام ہوگئی ہے، جس پر ملک کا لبرل طبقہ فکرمند نظر آرہا ہے۔ آپ غور کیجیے۔ اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بطور خاص اس وقت جب یہ خوف ایک فرد کا نہ ہو کر ایک طبقہ اور کمیونٹی اور پوری ایک قوم کا مقدربن جائے۔ میں آپ کو بتاوں، اس ڈر نے ہمیں بہت دکھی کیا ہے اور اب بھی اکثر ستاتا رہتا ہے۔ بنا کسی جرم اور قصور کے کسی کو مجرم بنا دینا یا سمجھنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ آپ کے پاس تو پھر بھی اسٹوڈیو ہے، پرائم ٹائم، کوٹ ٹائی اور آپ کے چاہنے والوں کا ایک جم غفیر ہے۔ ہمارے پاس کیا ہے؟ خوف کے لفافوں میں لپٹے ہوئے ماضی کے طعنے اور حال کے الزامات۔ میرا خیال ہے اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ خوف کے عالم میں جینے والے کیسا محسوس کرتے ہیں۔
مجھے معلوم ہے آپ سے بے انتہا محبت کرنے والے بہت سے لوگوں کو میری یہ بات اچھی نہیں لگے گی اور وہ مجھ سے یہ سوال کر سکتے ہیں، کہ اب جب کہ رویش کی امیج بہت بدل چکی ہے تو آپ نے اس کے ماضی اور حال کے کردار کا موازنہ کیوں ضروری سمجھا، تو ان سے مجھے یہ کہنا ہے کہ انسان کو جس سے امید ہوتی ہے، شکایت بھی اسی سے ہوتی ہے۔ جب آپ یا آپ جیسے لوگ، جو بظاہر انصاف اور حق کی بات کرتے ہیں، ان کو مزید محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ جن کو لوگ اپنا سمجھتے ہیں ان سے جب کوئی زیادتی ہوتی ہے تو زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ چوں کہ اب آپ کو ڈر کا احساس ہو گیا ہے اس لیے بھی ہم نے یہ سطریں لکھنے کی جرات کی ہے۔ میں آپ سے یہ قطعا نہیں کہوں گا کہ آپ کسی خاص طبقے کی حمایت کی بات کریں۔ ایسا ممکن بھی نہیں ہے، مگرجس چیز کے لیے آپ جانے جاتے ہیں اس میں تو سچے بنیے۔ اگر آپ معروضیت پسند (objective) نہیں رہ سکتے تو پھرصاف ستھرے (fair & accurate) تو رہیے۔ یہاں پر بات کسی خاص طبقے کی نہیں ہے بلکہ بات ملک کی سالمیت، اس کی بقا اور ترقی کی ہے۔ اس لیے ہم سب کو اس کے لیے آگے آنا ہوگا اور عوام کے دلوں سے خوف کی اس لہر کو دور کرنا ہوگا۔
خوف کی وہ لہر جوآپ کو اور ہم سب کو ستاتی ہے، وہ لہر اور اس کی خوف ناکی اپنی جگہ، مگر میرے اندرون میں ایک اور لہر دندناتی پھر رہی ہے، جو اس لہر سے قدرے مختلف ہے۔ میں ڈرتا ہوں کہ خوف کی یہ لہر کہیں ہمارے وجود پر اور خاص کر رویش کمار جیسے دیو ہیکل وجود پر مصلحت کی چادر نہ تان دے اور وہ اپنی موجودہ بے باکی اور منصفانہ امیج کو کہیں اپنے من گہرائیوں میں دفن کرکے پھر سے وہیں نہ جا بیٹھیں جہاں آپ اس دن بیٹھے تھے، یعنی 19 ستمبر 2008ء کو، اور ایسا ہوتا ہے، بلکہ ہوچکا ہے۔ اس کے لیے صرف چند مثالیں دوں گا۔ دور کیوں جائیں، قریب ہی میں دیکھتے ہیں ایم جے اکبر کو جس نے اپنے بے باک مضامین اور India: The Siege Within: Challenges to a Nation’s Unity اور Riots after Riots جیسی کتابیں لکھ کردنیائے صحافت میں نام پیدا کیا تھا، مگر اب کہاں چلے گئے؟ اسی طرح اگر کلدیپ نائیر کی بات کی جائے تو چند لمحات ہی کے لیے سہی لیکن 2014ء میں لغزش کھا گئے تھے اور اپنے رشتے دار ارون جیٹلی کی انتخابی مہم میں حصہ لینے پہنچ گئے تھے، مگر انھیں اپنی غلطی کا جلد احساس ہوگیا اور پیچھے ہٹ گئے۔ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے ڈر ہے کہ کہیں آپ اور آپ جیسے جری صحافی مصلحت جسے ہم ڈر بھی کہہ سکتے ہیں، کا واقعی شکار نہ ہو جائیں۔