منگل، 18 جولائی، 2017

چھوٹا ناگپوری زبان میں مولانا انعام اللہ رحمت ندوی کی آواز میں دوہا : ریکارڈنگ اینڈ ایڈیٹنگ : محمد علم اللہ

https://www.youtube.com/watch?v=qWroMXSftHo

چھوٹا ناگپوری زبان میں مولانا انعام اللہ رحمت ندوی کی آواز میں دوہا :
ریکارڈنگ اینڈ ایڈیٹنگ : محمد علم اللہ

۔۔۔مزید

منہ میں لواٹھی کھور گے بیٹی ، منہ میں لواٹھی کھور ریکارڈنگ اینڈ ایڈٹنگ : محمد علم اللہ ۔

مولانا انعام اللہ رحمت ندوی کی آواز میں اپنی بیٹی کے نام رخصتی ، جسے سن کر آپ روئے بغیر نہیں رہ سکیں گے:

منہ میں لواٹھی کھور گے بیٹی ، منہ میں لواٹھی کھور

ریکارڈنگ اینڈ ایڈٹنگ : محمد علم اللہ ۔

मौलाना इनामुल्लाह रहमत नदवी की आवाज में अपनी बेटी के नाम विदाई, जिसे सुनकर आप रोए बिना नहीं रह सकेंगे:

मुंह में लूवाठी खोर गए बेटी, मुंह में लूवाठी खौरू

रिकॉर्डिंग और ऐडटिंग: मुहम्मद अलमुल्लाह ।

۔۔۔مزید

سوموار، 15 مئی، 2017

طلبائے برج کورس کی خود نوشت تحریریں: ایک مطالعہ

طلبائے برج کورس کی خود نوشت تحریریں: ایک مطالعہ
محمد علم اللہ

گذشتہ دنوں ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب کے یہاں جانا ہوا تو ان کے ڈیسک پر ایک انتہائی پر کشش اور دیدہ زیب کتاب پر نگاہ پڑی اور میری نظریں وہاں ٹک کر رہ گئیں۔ ڈاکٹر صاحب نے میری دلچسپی دیکھ کر وہ کتاب میرے حوالے کر دی۔ یہ کتاب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبائے برج کورس کی خود نوشت تحریروں پر مبنی اظہاریہ تھی۔ جس کا نام ہے ”منزل ما دور نیست“۔ گھر آتے ہی ورق گردانی شروع کی۔ ایک کہانی، دو کہانی، تین کہانی اور دیکھتے ہی دیکھتے تقریبا ایک رات میں تین سو پانچ صفحات پر مشتمل کتاب چاٹ ڈالی۔ کتاب اس قدر دلچسپ تھی کہ درمیان میں حاجت کو بھی روک دینا پڑا۔ یہ کتاب در اصل دینی مدارس سے فارغ طلباء کی داستان حیات تھی جسے انھوں نے خود رقم کیا ہے۔

کتاب کو پڑھتے ہوئے احمد فراز کی معروف نظم ”خواب مرتے نہیں“گردش کرتی رہی، جس میں احمد فراز نے کہا تھا : ”خواب مرتے نہیں/خواب دل ہیں نہ آنکھیں نہ سانسیں کہ جو/ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے/جسم کی موت سے بھی یہ نہ مر جائیں گے/خواب مرتے نہیں/خواب تو روشنی ہیں/نوا ہیں ہوا ہیں/جو کالے پہاڑوں سے رُکتے نہیں/ظلم کے دوزخوں سے پُھکتے نہیں/ روشنی اور نوا اور ہوا کے عَلم/مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھکتے نہیں/خواب تو حرف ہیں/خواب تو نُور ہیں/خواب سُقراط ہیں/خواب منصور ہیں/خواب مرتے نہیں“۔

اس کتاب کو ہم احمد فراز کے اس نظم کی شرح سے تعبیر کر سکتے ہیں جس میں کل 39 خوابوں کی روداد اور خود نوشت کہانیاں ہیں اور ہر کہانی ایک مکمل داستان ہے۔ جس میں درد ہے، کسک ہے، تڑپ ہے، احساس ہے۔ پاکیزہ جذبوں، آنسووں اور نیک تمناوں سے مزین یہ کہانیاں اس وجہ سے بھی دلچسپ اور معلوماتی ہیں کہ اس میں مدارس دینیہ سے فارغ طلباء کی داستان ہے جن کے بہت سارے خوابوں کو بچپن میں ہی کچل دیا جاتا ہے اور ایک مخصوص ذہن اور کینوس میں ان کی تربیت کی جاتی ہے۔ لیکن جب وہ دنیا دیکھتے ہیں اور ان کو اپنی اہمیت اور قابلیت کا اندازہ ہوتا ہے تو کیسے ان کے خواب زندہ ہو جاتے ہیں! اور اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے وہ کس قدر بے قرار ہو جاتے ہیں! یہ کہانیاں مدارس سے فارغ طلباء کو اندھیرے میں اجالے کی نوید سناتی ہیں ۔ ان کے سوچ اور ذہن کے پردے پر کس قسم کی تہیں جمی ہوئی تھیں اور اس کو کیسے ان طلباء نے کھرچ کر پھینک دیا! کیسے مختلف مکاتب فکر اور مسالک کے ماننے والے ایک بینر تلے جمع ہو گئے! کیسے ان کے اندر دین، اسلام، انسانیت اور ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ (اسکول اور یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ طلباء کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر )جاگزیں ہوا! کیسے وہ مسلک اور فرقہ بندی کے قیودسے آزاد ہو کر“ ان الدین عند اللہ الاسلام“ کی تعبیر بننے کے لئے کوشاں ہوگئے! یہ کتاب یہ سب ایک دلچسپ انداز میں بیان کرتی ہے۔

کہانی کاروں میں محمد تمیم، اظہر احسن، محمد اسمعیل، نعیم احمد، شرافت حسین، محمد ارشد، محمد عظیم، فاطمہ اسعد، عتیق الرحمان، فرخ لودی، محمد سلمان، ابرار عادل، فرحانہ ناز، اجمل حسین، محمد اسلم، نہال احمد، مشیر احمد، عمیر خان، رقیہ فاطمہ، روشنی امیر، محمد عادل خان، ساجد علی، اصلاح الدین، عبد الاحد، عمر شمس، فہیم اختر، محمد ثوبان، نعمان اختر، اشتیاق احمد ربانی، محمد نثار احمد، محمد فرمان، نہال احمد، عبد الرقیب انصاری، محمد عدنان، ابو اسامہ، محمد اسلم، توصیف احمد، محمد منفعت اورسلیم الٰہی کے نام شامل ہیں جو ہندوستان کے مقتدر اداروں مثلا ند وۃ العلماء، دار العلوم دیوبند، جامعہ سلفیہ بنارس، جامعۃ الصالحات رامپور، جامعہ حفصہ للبنات لکھنو وغیرہ سے فارغ التحصیل ہیں۔

بیشتر طلباء کا تعلق یوپی اور بہار کے ان دور افتاد اور پسماندہ علاقوں سے ہے، جہاں کے لوگ شاید ہی اعلیٰ تعلیم کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں یا اپنے سپوتوں کو کچھ بڑا بنانے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اگر بھولے سے کبھی ان کے ذہن میں ایسا کوئی خیال پیدا بھی ہوتا ہے تو وہ اس کو وسائل کی کمی اور غربت کی وجہ سے کچل دیتے ہیں۔ بعض کہانیاں اس قدر دلدوز اور جذباتی ہیں کہ آپ کے آنکھوں میں آنسو آئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان میں سے کسی نے ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھا ہوا ہے تو کوئی آئی اے ایس افسر بننے کا متمنی ہے۔ کوئی محقق، کوئی لیڈر تو کوئی قانون داں اور سماجی کارکن بن کر قوم و ملت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہے۔ مدارس سے پڑھنے کے بعد یہ طلباء اپنے خواب کو شر مندہ تعبیر نہیں کر سکتے تھے لیکن اب ان کے لئے راہیں ہموار ہو گئی ہیں بلکہ ان میں سے کچھ طلباء تو ملک کی معتبر یونیورسٹیوں میں اچھے کورسوں میں داخلہ پانے میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔

کہانی کا انداز انتہائی سادہ اور دلچسپ ہے جو کہ نوجوانوں کےقلم، ان کی سوچ اور فکر کو ہی نہیں درشاتا بلکہ بتاتا ہے کہ یہ بہت اونچی اڑان کا خواب دیکھنے والے نوجوان ستاروں پر کمندیں نہ بھی ڈال سکیں تو کم از کم وہاں کی سیر تو کر ہی آئیں گے۔ نوجوانوں کا فطری انداز صرف قاری کو جذباتی ہی نہیں بناتا ہے بلکہ ان کے چھوٹے چھوٹے خواب اور یونیورسٹی آنے سے قبل اور بعد کی داستان آپ کو مسکرانے پر بھی مجبور کر دیتی ہے۔ ایک جگہ ایک طالب علم محمد اسماعیل انگریزی نہ جاننے اور محفل میں اس سے انگریزی میں سوالکیے جانے پر کیسے اپنے راز کو افشاء نہیں ہونے دیتا، اس بارے میں وہ بتاتا ہے : ”باہر چند کر سیاں پڑی ہوئی تھیں، جن پر لوگ سلیقے سے بیٹھے ہوئے تھے۔ دیکھنے ہی سے معلوم ہوتا تھا کہ سارے لوگ پڑھے لکھے ہیں۔ چونکہ میری بچپن سے عادت رہی ہے کہ جہاں پڑھائی لکھائی کی بات ہوتی وہاں میں ضرور بیٹھتا تھا۔ لہذا میں نے بھی اپنی کرسی کو جنبش دی اور ان کے قریب ہو لیا۔ وہ لوگ آپس میں کسی موضوع پر بات کر رہے تھے اور درمیان میں انگریزی کے الفاظ بھی استعمال کر رہے تھے، اس وجہ سے مجھے پوری بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ خیر میں اس وجہ سے ہاں میں ہاں ملاتا جا رہا تھا کہ لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ میں انگریزی نہیں جانتا۔ آخر ایک صاحب نے Where are you from؟ کہ کر میری پول کھولنے کی کوشش کر ہی ڈالی، لیکن میں بھی کہاں پیچھے ہٹنے والا تھا، آخر مولوی طبقے سے تعلق رکھتا تھا! چچی کے بلانے کا بہانہ کیا اور وہاں سے کھسک لیا۔ اس دن تو میری عزت کسی طرح بچی لیکن جو صدمہ میرے دل پر لگا وہ بہت گہرا تھا اور میں نے اسی دن سے پکا ارادہ بنا لیا کہ میں عصری تعلیم ضرور حاصل کروں گا“۔

اس طرح کے سینکڑوں ، دلچسپ، علمی، معلوماتی اور جذباتی خوبصورت شہ پارے پوری کتاب میں بکھرے ہوئے ہیں، جس سے نئی نسل کی فکر، سوچ اوراس کے رویے کا اندازہ ہوتا ہے۔ مدارس اور جدید دانش گاہوں کے درمیان دوری اور کھائی پر کرب کا اظہار کرتے ہوئے ایک طالب علم محمد تمیم سوال کھڑے کرتے ہیں اور علی گڑھ کے اپنے اساتذہ کے بارے میں بتاتے ہیں: ”یہ بہترین اور اعلیٰ قسم کے دماغ جو موجودہ دور کے تمام جدید علمی ہتھیاروں سے لیس اور اسلامی جذبات سے سر شار، اپنی صلاحیت، اسلام اور مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے قربان کرنے کو تیار کھڑے ہیں، مگر یہ سب کے سب ہمارے تقدس اور دینی و دنیوی علوم کی تفریق کی وجہ سے اپنے آپ کو ایک الگ دنیا کا باشندہ سمجھتے ہیں اور اپنے انداز، لب و لہجے، تہذیب و تمدن اور لائف اسٹائل ہر چیز میں اگر ہم سے الگ کھڑے نظر آتے ہیں تو آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ حضرات ہمیں اس قدر تقدس کا حامل سمجھتے ہیں، پر کیا ہم نے انھیں کبھی گلے لگانے اور مدرسے میں آنے کی دعوت دی؟ اب معاملہ روز بروز بد تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہم لاکھ اسلام کی غلبے کی دعا کرتے ہیں، مگر اپنے عمل سے بالکل اس کا الٹا کرتے ہیں، کہیں بھی دور دور تک کوئی ایسی تحریک نظر نہیں آتی جس سے اسلامی نظام کے برپا ہونے کی امید کی جا سکے اور طرفہ تماشہ تو یہ ہے کہ اوپر سے اہل مدارس اسلام کے تحفظ کے نام پر اسلام کے گرد گھیرا اور تنگ کر رہے ہیں“۔

ایک طالبہ فاطمہ اسعد جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچی اور داخلہ وغیرہ کی کارروائی کے بعد ہاسٹل چھوڑ کر اس کے والد جانے لگے تو اس نے کیسا محسوس کیا، اس کا منظروہ کچھ اس طرح جذباتی انداز میں بیان کرتی ہے : ”یہ کیا؟ والد کی آنکھوں میں آنسو؟ یہ میرے لئے نہات حیران کن بات تھی۔ آج تک اتنی بڑی ہو گئی مگر کبھی والد کو اتنا کمزور نہیں پایا تھا۔ نہ جانے کیوں آنسو خود بخود آ گئے تھے اور اس بات کی دلیل دے رہے تھے اور مجھے احساس کرا رہے تھے کہ یہ آنسو ایک بیٹی کے لئے ہے جو ان کے لئے ایک بیٹا ہے اور ان کا فخر، ان کا غرور۔ جب میری طرف سے انھوں نے اپنی آنکھیں پھیر دیں تو پھر پلٹ کر نہیں دیکھا، کہیں میرے آنسو ان کے پیروں کی بیڑیاں نہ بن جائے۔ وہ آخری وقت جب والد نے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا جاؤ اندر!بس اتنا ہی کہا، نصیحت بھی نہیں کی۔ یہ کیا کہوں میں؟ شاید ان کی آواز بھرا سی گئی یا ان کو مجھ پر خود سے سکھانے یا کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوئی۔ “۔

غازی پور کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی فرحانہ ناز کی کہانی کافی دلپذیر ہے۔ وہ کہتی ہے : ”بچپن کے اس لمحے کو یاد کرکے آنکھو ں میں آنسو بھر لاتی ہو ں جب میں ڈاکٹر کی ڈریس پہن کر کھیلتی تھی۔ میرے آس پڑوس کے لوگ مذاق مذاق میں کہتے کہ یہ بڑی ہو کر ڈاکٹر بنے گی۔ لیکن میں جانتی تھی کہ یہ نا ممکن ہے۔ اپنے ماحول کو دیکھتی پھر کالج کی پڑھائی۔ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ اللہ پاک کا ہم پر کرم تھا کہ ہم فضیلت ایک ہاسٹل میں رہ کر کر رہے تھے۔ اور میں نے وہاں پر بی یو ایم ایس کی کتابیں خرید کر چوری چوری پڑھنا شروع کر دی تھیں۔ جب ہاسٹل میں کسی لڑکی کو سر درد ہوتا یا بخار ہوتا تو ہم اسے دوائی دے دیتے تھے۔ جب مدرسہ کی چھٹی ہوتی تو میں مطالعہ کے درمیان، جب دوسری لڑکیاں کھیل رہی ہوتیں یا بات کر رہی ہوتیں، تو میں یہ سب سیکھتی اور میں نے ڈھیر ساری کتابیں اپنی جیب خرچ سے خریدی تھیں۔ میرے استاد نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے دعا دی اور کہا : تم ضرور کامیاب ہوگی انشاء اللہ۔ اور میں نے پاپا کو اگلے دن سب بتا دیا۔ میرے پاپا مجھے پڑھانا تو چاہتے تھے لیکن پیسے کی کمی تھی کہ اتنا خرچہ ہوتا تھا گھر کا اور میرے بھائی لوگوں کی پڑھائی پر اور میرے چچا زاد بھائی بہن بھی پڑھ رہے تھے، اس لئے اتنا پیسہ نہ تھا کہ ہم کالج میں پڑھائی کر سکیں۔ اس کے بعد گاؤں میں آہستہ آہستہ پڑھانے اور پڑھنے کا رواج عام ہو گیا۔ جو لوگ اپنے بچوں کو نہیں پڑھاتے تھے وہ اب انھیں پڑھانے لگے۔ اور میں نے اپنے ایک استاد کی مدد سےایک اسکیم چلائی۔ گھر گھر میں دوائی سپلائی کرائی۔ اور ہر گھر میں مجبوری کے تحت جن دواوں کی ضرورت ہوتی ان کو رکھوایا۔ میرا محلہ مجھے ڈاکٹر بٹیا کہنے لگا۔ اس کے بعد میرے انھیں استاد نے اخبارات میں میرے لئے کھوج شروع کر دی۔ لیکن میری مارک شیٹ کوئی کالج نہیں مانتا تھا۔ پھر بھی ہم نے ہمت نہ ہاری اور برابر اپنی کوشش جاری رکھی۔ اب میرے ساتھ پورا گاؤں تھا“۔

ایک اور طالبہ رقیہ فاطمہ، جس کا تعلق اتر پردیش کے ایک قصبہ لونی سے ہے، اپنی داستان سناتے ہوئے کافی پر عزم ہے۔ وہ کہتی ہے: ”انسانیت جس کرب سے کراہ رہی ہے اسے نجات دلانے کی فکر عمر کے ساتھ ساتھ وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ اسلام نے جو حقوق دیے تھے مسلم خواتین کے اعتبار سے اس کو معاشرہ نے چھین لیا۔ مسلم خواتین کو پبلک اسپیس سے بے دخل کر دیا اور گھر کو محدود دائرہ کار بتا کر گھروں میں بند کر دیا۔ حالانکہ عورتوں کا دائرہ کار اگر صرف گھر ہوتا تو ہماری تاریخ میں عورتوں کے جو نام ملتے ہیں وہ نہ ملتے۔ اب برج کورس اس پر کام کر رہا ہے کہ مسلم خوتین کی بھی ایک نئی نسل سامنے آئے جو اسی رول کو زندہ کرے جو کہ صد ر اول کی مسلم خواتین نے کیا۔ لہذا سماجی و فلاحی کاموں کا حصہ بن کر سماج کی انسانیت کی اور امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ کرنا چاہتی ہوں ”۔

میں نے یہاں مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر محض چند اقتباسات پر ہی اکتفا کیا ہے، ورنہ پوری کتاب میں ایسے بے شمار واقعات، حالات اور رویوں کا ذکر ہے جس سے جوجھتے لڑتےیہ طلباء اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے علی گڑھ پہنچے جہاں انھیں اپنی منزل کی مراد ملتی نظر آئی۔ طلباء کے اس لازوال خوابوں کی تکمیل کا ذریعہ بنا برج کورس جو معروف مفکر، عالم دین، محقق اور متعدد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر راشد شاز کی تمناوں کا مرکز ہے، جسے انھوں نے سوچا اوراپنے خون جگر سے سینچا ہے۔

کتاب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ہی پروفیسر ڈاکٹر کوثر فاطمہ کی نگرانی میں پایہ تکمیل کو پہنچی ہے۔ معروف عالم دین اور جدید مسلم مسائل پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی نے پیش لفظ لکھا ہے جس میں انھوں نے کتاب کے منصہ شہود پر لانے کی وجوہات بیان کی ہیں۔ وہ کہتے ہیں : ”برج کورس اب طلباء کے مضامین کے اس مجموعہ کو شائع کر رہا ہے تاکہ ملت اسلامیہ ہند کے سامنے خود ان طلباء کی زبانی برج کورس کی افادیت، اس کی یافت اور اس کے امکانات کی ایک جھلک حقیقی پس منظر کے ساتھ آ جائے اور برج کورس کے بارے میں جو معاندانہ پرو پیگنڈہ کیا گیا ہے جس کے باعث کچھ حلقے اس کے بارے میں تشویش بے جا کا شکار ہو گئے ہیں اور مدارس اور علماء کے حلقوں میں جو بے جا تحفظات پائے جاتے ہیں ان کا ازالہ ہو سکے اور ان کی غلط فہمیاں اور خدشات دور ہو جائیں“۔ کتاب کی اشاعت کا اہتمام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کےمرکز برائے فروغ تعلیم و ثقافت مسلمانان ِ ہند نے کیا ہے۔ کتاب عمدہ موٹے کاغذپر مجلد شائع کی گئی ہے۔

http://www.humsub.com.pk/63728/طلبائے-برج-کورس-کی-خود-نوشت-تحریریں-ایک/

۔۔۔مزید

سوموار، 6 مارچ، 2017

ہندوستان میں مسلم جدوجہد کے استعارے کی موت

ہندوستان میں مسلم جدوجہد کے استعارے کی موت
محمد علم اللہ ٭

اور عدالت کے ایک کونے میں پڑے سید شہاب الدین نے اپنی کھانسی سے دستک دی۔ جو انڈین مسلم نہیں ’’مسلم انڈیا‘‘پرچہ نکالتے تھے اور اپنی ’’انصاف پارٹی‘‘کی لاش سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ عدالت نے شہاب الدین سے پوچھا: ’’ تم یہاں کیسے؟ ‘‘۔ ان دنوں میری حالت مردوں سے بدتر ہے، مجھے کچھ کہنا ہے! اتنا کہہ کر سید شہاب الدین پھر کھانسنے لگے۔ عدالت کھانسی کا جواب نہیں دیتی۔ لیکن اس کھانسی میں بیماری کے جراثیم تھے۔ اس لئے یہ کھانسی بھی دستک بن گئی تھی۔ لیکن دستک کی آواز کون سنتا؟ ۔ دستکیں تو در کھلنے کی آس پر دی جاتی ہیں۔ روشن دلوں پر دی جاتی ہیں۔ جہاں سبھی بہرے ہوں۔ وہاں دستک کون سنتا ہے؟ غیر تو غیر ہی ہوتے ہیں ان سے کیا گلہ؟ لیکن جب اپنے بھی نہ سنتے ہوں تو۔ اس نے وہیں دم توڑ دیا!

سید شہاب الدین کے انتقال کے فوراً بعد فیس بک پر تحریر کردہ میری یہ تحریر کیا محض ایک شخص کی کہانی ہے یا صدیوں کی کہانی؟ حقیقت تو ایک بے لاگ تجزیہ نگار یا مورخ ہی بتائے گا، لیکن یہ بھی اپنی جگہ سچ ہی ہے کہ سید شہاب الدین کے انتقال کے بعد ہندوستان میں ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ تقریبا تین دہائیوں تک سید شہاب الدین تعریف وتنقید کے درمیان، مسلم سیاسی شعور کی بیداری، شرکت اور تقویت کے لئے سرگرم رہے۔ ان کی کوششوں کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ تاریخ کرے گی لیکن ان کے اخلاص، بے باکی اور ملک و ملت سے بے پناہ محبت کے لئے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ کام کرنے والوں سے ہی غلطیاں ہوتی ہیں۔ بلاشبہ ان سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں لیکن آخری دنوں میں قوم نے ان کے ساتھ جو رویہ اختیارکیا، وہ بھی انتہائی افسوس اور ماتم کے لائق تھا۔ ہماری یہ بد قسمتی رہی ہے کہ ہم شخصیتوں کی خدمات کا اعتراف ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد کرتے ہیں، سید شہاب الدین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور وہ بھی ہماری مردم خور قوم کے ساتھ آخر وقت تک انھیں کے لئے لڑتے لڑتے ہمیشہ ہمیش کی نیند سو گئے۔

جمعرات، 27 نومبر، 2014 کی وہ شام آج بھی مجھے یاد ہے جب میری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ گلابی سردیوں کی ایک معمول سی شام۔ انتقال کے بعد ان سے متعلق کچھ لکھنے کا سوچا تو بے شمار چیزیں یاد آئیں کیا لکھوں اور کیا چھوڑ دوں۔ میری ان سے بہت زیادہ آشنائی نہیں تھی لیکن مشاورت کے بارے میں تحقیق کے دوران جب ان کی چیزوں کو پڑھنے کا اتفاق ہوا تو احساس ہوا کہ وہ ہندوستان میں اس صدی کے جناح، اقبال اور ابوالکلام آزاد سے کم نہیں ہیں۔ ان کی تحریروں میں سب سے پہلے مسلم مسائل سے متعلق ایک دستاویز کی تیاری کے سلسلے میں معروف انگریزی مجلہ’’مسلم انڈیا‘‘کو پڑھنے کا اتفاق ہوا، جو سید شہاب الدین کی ادارت میں 1983 سے نکلنا شروع ہوا اور 2009میں بند ہو گیا۔ اس رسالے کو دیکھنے اور خصوصاً اس کے اداریوں کو پڑھنے کے بعد ان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ حالانکہ ان کے بارے میں بہت پہلے سے سنتا رہا تھا لیکن ان کی علمیت اور قابلیت کا قائل میں ان کی تحریروں کو پڑھ کر ہوا۔ چنانچہ جب میں نے ان سے ملنے کا ارادہ بنایا تو پتہ چلا کہ وہ ایمز میں ایڈمٹ ہیں اور ان کی صحت انتہائی نازک ہے۔ اس خبر کو سن کر دل میں ایک دھکا سا لگا تھا کہ شاید امت مسلمہ ایک اور عظیم قائد سے محروم ہو جائے گی۔ مگر پھر جلد ہی یہ مژدۂ جاں فزا بھی ملا کہ وہ اسپتال سے گھرواپس آگئے ہیں اور پھرموصوف مشاورت کے آفس بھی باضابطہ آنے بھی لگے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب نے بتا یا کہ ا گرچہ پہلے جیسے حالات نہیں ہیں لیکن کام کا شوق اور خالی نہ بیٹھنا ان کی فطرت ثانیہ ہے۔

اسپتال سے واپسی کے بعد میں نے ان سے ملنے کا پھر ارادہ کیا اور اس غرض سے کئی مرتبہ مشاورت کے دفتر گیا لیکن ان کے انہماک اور کام میں یکسوئی کو دیکھ کر ہمت نہ ہوئی کہ میں ان کے کام میں حارج ہوجاؤں اور وہ بلا وجہ ڈسٹرب ہوں۔ اور پھر ایک بہانہ ہاتھ آگیا۔ ہفت روزہ’’عالمی سہارا‘‘کی جانب سے مجھے ایک اسٹوری لکھنے کوکہا گیا، جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے راستے کی نشان دہی کرنے والے بورڈوں اور ہورڈنگز سے پی ڈبلیو ڈی نے لفظ’’اسلامیہ‘‘ کو حذف کر دیاتھا۔ سید شہاب الدین نے اس سلسلہ میں دہلی کے وزیر اعلیٰ سمیت دیگر اعلی ذمہ داران کو متوجہ کراتے ہوئے اس میں اصلاح کی خاطر خطوط ارسال کیے تھے۔ اس کا درست اندازہ ’’مسلم انڈیا‘‘ اور’’مشاورت بلیٹن‘‘کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ جس چیز کو اردو اخبارات نے اب موضوع بحث بنایا تھا، اس بارے میں برسوں پہلے منتظمین کو سید شہاب الدین نے خطوط لکھے تھے۔

ان کا بیان ایک انگریزی اخبار میں بہت پہلے میں نے دیکھا تھا اور جب’عالمی سہارا‘ کی جانب سے اس موضوع پر اسٹوری لکھنے کے لئے کہا گیا تو براہ راست سید شہاب الدین سے ملاقات کرنے اور اس موضوع پر ان کی رائے جاننے کا اشتیاق پیدا ہوا اور ایک صبح مشاورت کے دفترپہنچ گیا۔ دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ ایک نیم تاریک کمرے میں بیٹھے ہیں۔ ٹیبل لیمپ جل رہا ہے اور وہ کچھ لکھنے میں مصروف ہیں۔ اس قدر پیرانہ سالی میں بھی بابوؤں والا ٹھاٹ نہیں گیا ہے۔ مشاورت کے آفس سکریٹری عبد الوحید صاحب نے میرا نام اور ملاقات کا مقصد لکھ کرانہیں دیا۔ ایک نظر دیکھنے کے بعد انھوں نے کہا بھیج دو۔ کمرے میں تاریکی اور خاموشی دونوں مل کر ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر رہی تھی۔

ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ بات کی ابتدا کیسے کروں کہ آواز آئی ’’جی! تشریف رکھیے! ‘‘آواز میں ارتعاش اور کڑک تھی۔ میں سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔ حکم ہوا:۔ ’’فرمائیے کس غرض سے آنا ہوا ہے؟ ‘‘میں نے دیکھا کہ ان کے کانوں میں آلہ سماعت لگا ہوا ہے، میں نے انھیں اپنا تعارف کرایا، مگر ان کے اشاروں سے لگا کہ وہ میری بات یا تو سن نہیں سکے یا سمجھ نہیں سکے، اب میں نے پوری طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بلندآواز سے بولنا شروع کر دیا، لیکن پھر بھی وہ نہ سمجھ سکے۔ میں تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گیا۔ انہوں نے اپنے آلہ سماعت کا لیول ٹھیک کیا اور کہا’’چیخئے مت دھیرے دھیرے بولئے‘‘۔ میں نے دھیرے دھرے بولنا شروع کیا، لیکن پھر بھی وہ میری بات نہ سمجھ سکے۔ پھر میں نے ایک کاغذ پر اپنا مدعا اوراپنا سوال لکھ کر بڑھا دیا۔ انہوں نے سوال پڑھتے ہی جواب دینا شروع کر دیا اور بات ختم ہوتے ہی یکے بعد دیگرے میں انہیں سوالات لکھ لکھ کر دیتا رہا اور وہ ان سوالوں کے جواب دیتے رہے۔ جواب کے درمیان کبھی کبھی وہ زور زورسے ہنسنے لگتے تو کبھی افسوس کا اظہار کرتے۔ جواب کیا تھے بس علم، تاریخ، زبان، سیاست، قیادت، ثقافت کا مرقع تھے، میرا اشہبِ قلم بہت تیزی سے صفحہ قرطاس پر دوڑ رہا تھا اور وہ اسی تیزی سے گفتگو کرتے جا رہے تھے۔ اندازِتخاطب انتہائی دلچسپ اور شاندار تھا اور ایسے میں میرے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کون سی بات چھوڑ دوں اور کو ن سی لکھوں، جی چاہ رہا تھا وہ گفتگو کرتے رہیں اور میں سنتا رہوں، لیکن اس کا وقت نہیں تھا۔

آپ کو بھی تجسس ہوگا کہ آخر کیا کیا باتیں ہوئیں، یادداشت کی بنیاد پر سب کچھ لکھنا بہت مشکل ہے۔ اس لئے کہ بات کرتے وقت جس مقصد سے میں اُن کے پاس گیا تھا وہی نکتہ پیش نظر تھا۔ یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے لفظ’’ اسلامیہ‘‘ کے خاتمے کا موضوع۔ اس سے متعلق تحریرعالمی سہارا کے 18 ستمبر2014 کے شمارے میں آچکی ہے جس کا مکرر تذکرہ کرنا یہاں مناسب نہیں۔

اس کے علاوہ میں نے ان سے اور کیا سوالات کیے وہ تو یاد نہیں ہیں لیکن ڈائری میں جو نکات درج کیے تھے ان کی روشنی میں کئی اہم باتوں کا تذکرہ یہاں دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ جب ہماری بات مکمل ہو گئی تو میں نے ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر ان کی طرف بڑھا دیا ’’آپ کی خدمات بہت ہیں اور آپ ہماری نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہیں، کاش آپ میری بات سن سکتے تو میں آپ سے ڈھیر ساری باتیں کرتا‘‘ اس پر وہ مسکرائے اور کہنے لگے :’’ ارے نہیں بھائی! ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق کرتا ہے۔ میری خواہش تو بہت کچھ کرنے کی تھی، آپ کو کیا کیا بتاؤں، اب صحت ساتھ نہیں دیتی۔ اب تو بس اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ اگر تجھے لگتا ہے کہ میں کچھ کر سکتا ہوں تو کم از کم مجھے اتنی مہلت دے کہ میں اپنے بکھرے ہوئے کام کو سمیٹ سکوں‘‘۔

میں نے سید صاحب سے کہا کہ ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ کی شخصیت سے متعلق ایک کتاب لکھوں۔ ابھی کچھ مصروفیات ہیں۔ ان سے نمٹ لوں تو بہت جلد آپ کی خدمت میں حاضری دوں گا، یہ سنتے ہی ان کی آنکھوں میں جیسے چمک سی آ گئی۔ ہنستے ہوئے کہنے لگے : ’’ارے بھئی! یہ تو بس ڈاکٹر صاحب کی محبت ہے کہ انھوں نے مجھ ہیچ مداں کے بارے میں یہ سوچا۔ ’’میں نے جلدی سے ایک اورکاغذلکھ کر بڑھایا ’’نہیں! میں نے خودبھی ’’مسلم انڈیا‘‘کی فائلیں پڑھی ہیں۔ آپ نے جو لکھ دیا ہے وہ خود ایک تاریخ ہے۔ ‘‘یہ سنتے ہی کہنے لگے :’’آپ نے کتاب لکھنے کی بات کہی تو کیا بتاؤں بہت سی یادیں ہیں کن کن چیزوں کا تذکرہ کروں۔ کوئی اچھا اسٹینو گرافر مل جائے تو اسے لکھوا دوں‘‘۔ پھر ایک سرد آہ بھرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔
’’آہا! وہ کیا زمانہ تھا اور کیسے کیسے لوگ تھے اس زمانے میں! دیکھئے آپ نے تذکرہ کیا تو یاد آیا، آپ کو بتاتا ہوں: ’’میں نے سول سروسز کے لئے امتحان دیا میرا نام آ گیا لیکن مجھے جوائننگ لیٹر نہیں ملا۔ میرے ماموں نے مجھ سے کہا ارے بھئی شہاب الدین! تمہارے تمام ساتھیوں کا تو لیٹر آ گیا، تمہیں اب تک کیوں نہیں ملا؟ تو میں سیدھے ڈی ایم آفس گیا اور ان سے ڈائرکٹ کہا: آپ نے میرے خلاف کیا لکھا۔ وہ مجھے جانتے تھے، مسکرا کر کہنے لگے جو کچھ میں نے لکھا ہے اس سے تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ میں نے کہا کیا لکھا ہے؟ تو انھوں نے دراز میں سے اس خط کی کاپی نکالی اور دکھاتے ہوئے کہا دیکھو میں نے اس میں لکھا ہے کہ طالب علمی کے زمانے میں یہ کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ تھا۔ اس کے بعد دو سال سے پٹنہ یونیورسٹی میں استاذ ہے اور اس درمیان میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں آئی ہے جو قابل اعتراض ہو ‘‘۔

(ہنستے ہوئے! ) ’’اصل میں مجھے ڈر اس بات کا تھا کہ جب میرے کالج میں پنڈت نہرو پٹنہ آئے تھے تو میں نے ان کے خلاف لڑکوں کو موبلائز کیا تھا اور انھیں کالا جھنڈا دکھایا تھا۔ میرے ذہن میں یہی بات تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ اسی وجہ سے میری جوائننگ روک دی گئی ہے۔ بات یہی تھی۔ اس کا علم مجھے بعد میں ہوا اورانہیں ڈی آئی جی صاحب نے مجھے یہ بات بتائی کہ میری فائل پنڈت نہرو کے پاس گئی۔ اور میری فائل میں انھوں نے جو لکھا وہ قابل قدر بات ہے۔ اس سے بڑے لوگوں کے بڑکپن کا اندازہ ہوتا ہے۔ پنڈت نہرو نے میرے بارے میں جو کچھ لکھا تھاوہ ایسے ہی ہے جیسے لوگ حافظ کے اشعار کو نقل کرتے ہیں‘‘۔ صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے انہوں نے فخریہ انداز میں کہا’’’میں پنڈت جی کی بات آپ کو سناتا ہوں ’’( اپنا گلا صاف کرتے ہوئے پوچھا )‘‘انگریزی سمجھتے ہیں ناں؟ ’’میں نے کہا: جی! ۔ اچھا تو پنڈت جی نے لکھا :

I know I have met Shahabuddin. His participation in the part of disturbances was not for politically motivated; it was an expression of his youthfulness.

یعنی’’ انہوں نے یہ کام جوانی کے جوش میں کیا۔ اس کے پیچھے کوئی سیاست نہیں تھی‘‘۔ اب میں اس آدمی کے بارے میں کیا کہوں؟ میں نے تو اسے کالا جھنڈا دکھایا تھا اور میرے بارے میں وہ یہ تبصرہ کر رہا ہے، ان سے میری زبانی کشتی بھی ہوئی۔ کالج کے زمانے میں نے انہیں بتایا کہ بی این کالج کی دیوار پر 74گولی کے نشانات ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ چل کر دیکھیں۔ تو پنڈت جی کہنے لگے ’’ دیکھئے بھائی! دیکھ کے کیا کریں گے‘‘ارے بڑے افسوس کی بات ہے اسی لئے تو ہم یہاں آئے ہیں پٹنہ‘، پھر کہنے لگے : ’ارے بھئی! گولی چلنا بڑی بری بات ہے وہ جب چلتی ہے تو کسی کو بھی لگ سکتی ہے ‘‘۔ اسی رات کو جب پنڈت نہرو تقریر کے لئے آئے تو خوب ہنگامہ ہوا، ہم نے تو کچھ نہیں کہا لیکن پنڈت جی خود ہی کہنے لگے :’’بچے آئے تھے ملنے کے لئے، ہم نے ان سے کہہ دیا ہے جو کارروائی ہونی ہے کریں گے ‘‘، کچھ لوگوں نے ادھر سے شور مچایا کہ واپس جاؤ! واپس جاؤ! تو تنک مزاج تو تھے ہی بگڑ گئے، کہنے لگے (پنڈت نہرو کے ہی انداز میں اچک کر اور سینہ تان کر)’ابھی میں نے آپ کو سمجھایا۔ جو کچھ کہا آپ نے سن لیا ہے، میں نے بات کر لی ہے، جو ممکن ہے وہ کروں گا، اب میں آپ سے کچھ دیس کی ترقی کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہاں تو میں نے یہ بھی کہا بچوں سے کہ اگر پولیس کی غلطی پائی گئی تو اس کو سزا دی جائے گی۔ ‘‘ تو میاں خوب تالیاں بجیں وہاں لان کے میدان میں۔ (پھر اچانک نہرو کے ہی اسٹائل میں چیخ کر)’تالیاں کیوں نہیں بجاتے ہیں، بجائیے تالیاں ‘۔ (ہنستے ہوئے ) کیا آدمی تھا :

سید شہاب الدین نے پھر تھوڑی دیر توقف کیا اور آگے بات کی۔ ’’ایک ڈیڑھ سال کے بعد موقع ملا مجھ کو پنڈت جی کے گھرپراُن کے ساتھ کھانا کھانے کا۔ کھانے کے بعد کافی پینے کے لئے وہ کمرے سے باہر نکلے۔ اور مدعو لوگوں کے ساتھ میں بھی تھا پنڈت جی کے ساتھ، تو میرے کندھے پر انہوں نے ہاتھ رکھا۔ میں نے کہا اے پنڈت جی :تو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا :

‘‘You are that mischievous boy from Bihar’’

’’تم وہ شرارتی لڑکے ہو بہار والے۔ پیار سے کہا انھوں نے۔ عجیب و غریب انسان تھا وہ۔ ‘‘

ابھی ہماری بات جاری ہی تھی کہ ایک شخص دوا لے کر ان کے کمرے میں حاضر ہوا۔ بات اس سے ہونے لگتی ہے۔ ’’اچھا تو یہ دوا ہے ‘‘۔ پھر دوا کو ہاتھ میں لیتے ہوئے میری طرف دیکھ کر کہنے لگے : ’’اب یہی میری زندگی ہے جس کے سہارے ٹکا ہوں۔ بہت کام کر لیا، جو کچھ کرنا تھا سب کر لیا۔ اب تو بس نماز میں اللہ سے یہی دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ! اگر تومیری زندگی اوررکھنا چاہتا ہے تو مجھے طاقت دے کہ میرا جو بکھرا ہوا کام ہے، اس کو پورا کر سکوں۔ (پھر پر امید لہجہ میں)’’: دیکھئے اگر اللہ نے صحت دی تو’ اداریہ ‘ کو جمع کر کے کتابی شکل میں لاؤں گا۔ اس کے لئے کام شروع بھی کر دیا ہے۔ اب دیکھئے کب تک مکمل ہوتا ہے۔ ‘‘

پھر اچانک جیسے انھیں کچھ یاد آ جاتا ہے۔ ’’جائیے اب مجھے کام بھی کرنا ہے، لیکن ہاں اتنی گذارش ہے اب جب کبھی آئیں تو ریکارڈر ضرورساتھ لائیں ‘‘۔ میں نے ایک چھوٹی سی شکریے کی چٹ لکھ کر ان کی جانب بڑھا دی۔ وہ ’’ویلکم‘‘کہتے ہوئے مسکرا دیے اور میں یہ سوچتے ہوئے واپس آگیا کہ اس ضعیف العمری میں بھی کام کا انہیں بے حد احساس ہے۔ کس کے لئے کام؟ اپنے لئے نہیں بلکہ قوم کے لیے، اے کاش اگر ایسا ہی احساس ہمارے سب قائدین کو ہو جاتا تو آج ہندوستانی مسلمانوں کی یہ حالت نہ ہوتی۔ افسوس آج وہ مرد درویش نہ رہا جس کی سوانح لکھنے کی میری تمنا پوری نہ ہوسکی اور خود ان کی خواہش بھی ان کے سینے میں ہی دفن ہوگئی۔

٭ محمد علم اللہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، شعبہ ابلاغ عامہ سے وابستہ ہیں ۔

۔۔۔مزید