اتوار، 30 ستمبر، 2012

انسانی بستیوں میں ویران آشیانہ



عجب مکاں ہے کہ جس میں مکیں نہیں آتا

محمد علم اللہ اصلاحی

 مکان انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔اس کے بغیر انسان کا جینا دوبھر ہے۔یہ ایسی جگہ ہے جہاں کسی شخص کے اور اسکے گھرانے کے رہنے، سونے، آرام کرنے، کھانہ پکانے، نہانے اور ملنے جلنے کا بندوبست ہوتا ہے ۔مکان انسان کیلئے اس قدر ضروری چیزہے کہ اس کے بغیر زندگی کی گاڑی آگے نہیںبڑھ سکتی۔ وہ کہیں بھی ہو وہ اپنے مکان میں آنا چاہتا ہے۔ یہ ایک عام انسان کی پناہ گاہ ہے۔مکان انسان کی شخصیت کا عکس بھی ہوتا ہے اور اس کی شخصیت کو بناتا بھی ہے۔مکان ملک کی شہر کی یا قصبہ کی بنیادی اکائی ہے۔مکان ہمیشہ سے انسان کے لیے اہم رہا ہے۔جن کے پاس مکان نہیں ہوتا وہ ہر وقت اسے حاصل کرنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں ۔اس لئے ابراہم ایچ میزلو نے گھر کو انسان کی بنیادی ضرورت قرار دیا ہے۔ لوگ گھریا مکان اس لئے بنواتے ہیں کہ وہ اس میں خوش و خرم رہیں اور نھیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو لیکن ملک کی راجدھانی دہلی میں تقریبا پانچ لاکھ چھ ہزار 500 سے زائد مکان خالی پڑے ہیں جہاں کوئی نہیں رہتا ۔

 ان خالی پڑے مکانوں میں کسی کے نہ ہونے کا یہ نتیجہ ہے کہ اس میں الو ں کا بسیرا ہو گیاہے۔ بعض مکانات تو کھنڈر میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ بعض غنڈوں اور اوباشوںکی آماجگاہ بن گئے ہیں بلکہ رات ہوتے ہوتے یہ مکان شرابیوں اور غیر سماجی عناصر کا محفوظ ٹھکانا بن جاتے ہیں۔کئی جگہ تو کوئی نگہبان نہ ہونے کی وجہ سے یہ مکانات غلاظت خانہ میںتبدیل ہوچکے ہیںیاپھر غیر سماجی سرگرمیوں کا اڈہ بن گئے ہیں۔ گندگی اور تعفن کی وجہ سے گشت کرنے والے پولیس اہلکار ان کی طرف جھانکتے تک نہیں ہیں۔اس سلسلہ میں کئی جگہوں سے اس قسم کی بھی خبریں بھی سننے کو ملی ہیں کہ ان کی بنیاد کمزور ہو چکی ہیں اور کبھی بھی یہ حادثے کا شکار ہوسکتے ہیں۔ مرکزی وزارت برائے رہائش اور خاتمہ ¿ غربت کی طرف سے 12 ویں پنچ سالہ منصوبے (سال 2012-17) کےلئے تشکیل تکنیکی گروپ کی رپورٹ کو پیش کرتے ہوئے باضابطہ طور پر کماری شےلجا نے یہ بات کہی ہے ۔ اس خبرکو پڑھتے ہی مجھے پروین شاکر کا ایک شعر یاد آ گیا

عجب مکاں ہے کہ جس میں مکیں نہیں آتا
حدودِ شہر میں کیا دل کہیں نہیں آتا

 پروین شاکر اگر زندہ ہوتیں تو ہم انھیں بتاتے کہ شہروں کے لوگ اتنے زندہ اور فراخ دل ہوتے تو اسی دہلی میںہزاروں افراد بے گھر نہیں ہوتے اور یہ بھی کہ اسی سر زمین دہلی میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد نفوس یونہی بغیر چھت کے اپنی زندگی نہ گذار رہے ہوتے۔صحیح معنوں میں اسے المیہ ہی سے تعبیر کیا جائے گا کہ ملک کی راجدھانی میں پانچ لاکھ چھ ہزار پانچ سو مکانات خالی پڑے ہیں۔ یہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ حکومتی اعداد و شمار ہی یہ باتیں ظاہر کر رہی ہے۔ یقین نہ آئے تو مردم شماری 2011کی رپورٹ کو دیکھ لیجئے جس میں بتایا گیا ہے کہ دہلی کی ایک فیصد آبادی بے گھر ہے۔یہاں یہ بات بھی عرض کر دینے کی ہے کہ ان میں وہ لوگ شامل نہیں ہے، جوکہیں رکشہ یا فٹ پاتھ پر رات گزارتے ہیں، جھگیوں میںاپنی زندگی بسر کرتے ہیں، کہیں پلاسٹک شیڈ کے نیچے اپنا دن کاٹتے ہیںیاپھر کہیں درختوں کی چھاو ¿ں میں یافٹ پاتھ پر جاڑا، گرمی، برسات میںشب بسری کرتے ہیں اور وہ حکومت کی تجاہل عارفانہ کے سبب در در کی ٹھوکر کھاتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔یہ محض کوئی تخمینہ یا اندازہ کی بات نہیں ہے بلکہ وزیر محترمہ نے یہ بھی کہا ہے کہ دہلی میں 4 لاکھ 90 ہزار مکانوں کی کمی ہے ،جبکہ 2011کے مردم شماری محکمہ کی مانیں تو دہلی میں کل 46 لاکھ 5 ہزار مکانوں کی گنتی کی گئی تھی جو مردم شماری مکان کہا جاتا ہے۔ اس میں سے 11.1 فیصدمکان خالی پائے گئے تھے۔مردم شماری کے دوران خالی ملنے والے مکانوں سے مراد یہ نہیں ہے کہ یہ تمام رہائشی مکان ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ دکانیں ہوں یا ایسا ڈھانچہ ہو، جہاں رہا نہیں جا سکتا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دہلی جیسے بڑے شہر میں لوگوں کے پاس کئی کئی مکان ہیں اور وہ خالی پڑے ہیں۔

  اس بابت تکنیکی گروپ جس نے یہ رپورٹ مرتب کی ہے کے صدر پروفیسرامیتابھ نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مکانات پرائیویٹ بلڈر اور پراپرٹی ڈیلروں کے پاس ہیں۔ اگر ان مکانوں کو استعمال میں لایا جائے تو مکانوں کی کمی کو کافی حد تک دور کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے انھوں نے ایسے مکان مالکان پر بھاری ٹیکس لگانے کی تجویز رکھی ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے جس کو وزیر کماری شےلجا نے بھی تسلیم کیااور کہا کہ کچھ خامیوں کی وجہ سے راجیو رہائش منصوبہ کے تحت دہلی میں 14 ہزار سے زیادہ مکانات بن تو گئے، لیکن ان میں تقریباً تمام مکانات خالی ہیں، حکومت ان خامیوں کو دور کرے گی۔انہوں نے جھگی بستیوں کی جگہ پر ہی فلیٹ بنانے کی دہلی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کی منصوبہ بندی کا بھی جائزہ لینے پر اتفاق ظاہر کیاہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ دہلی حکومت نے انہیں یقین دلایا ہے کہ حکومت کرائے پر دینے کےلئے گھر بنائے گی۔جبکہ مذکورہ وزارت کے ذریعہ تشکیل تکنیکی گروپ کے صدر امیتابھ کنڈو نے بھی یہ کہا کہ دہلی میں اقتصادی طور پر کمزور (ای ڈبلیو ایس) و درج ذیل آمدنی طبقے (ایل آئی جی) کےلئے مکانوں کی کافی کمی ہے، جبکہ حکومت فارم ہاو ¿س پالیسی بنا کر زمین کا بڑا حصہ ایک خاندان کو دینے پر غور کر رہی ہے۔اس خبر کے آنے کے بعد ڈی ڈی اے نے اپنے تیور سخت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پوری طرح سے غلط ہے ۔ڈی ڈی اے نے مرکز کو بھیجی گئی ایک تجویز میں کہا ہے کہ ایک ایکڑ کے فارم ہاو ¿س میں ایک خاندان کے رہنے کےلئے مکان بنانے کی اجازت دی جائے، جبکہ ابھی تین ایکڑ پر بنے فارم ہاو ¿س میں صرف چوکیدار کے رہنے کا انتظام ہے۔

 ڈی ڈی اے جو بھی کہے لیکن اس بات سے بہر حال انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس کی وجہ سے جہاں غریبوں بلکہ وسط درجہ کے لوگوں کو جن پریشانیوں کا سامنا کر نا پڑتا ہے وہیں امیروں کی جیبیںمزید بھردی جاتی ہیںجس کی وجہ سے مافیا مزید شہ زور ہو جاتے ہیں اور انھیں اپنی من مانی کر نے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس کااندازہ کسی کوہویانہ ہو غریبوں کو ضرور ہے حالانکہ یہ صرف غریبوں یا بے گھر افراد کےلئے محض پریشانیوں کی ہی بات نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سے جرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ان میں سے بعض جگہیں تو ایسی بھی ہیں جن کے مکان مالکان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔کچھ لوگ کہیں دوسری جگہ شفٹ ہو گئے لیکن انھوں نے مکان نہ تو کرائے پر دئے اور نہ ہی فروخت کیا ان میں سے بہتیرے مکانات تو سرکاری ہیں جسے سرکار نے کئی منصوبوں کے تحت بنوایا لیکن منصفانہ طور پر نہ تو اس کی تقسیم عمل میں آئی اور نہ ہی وہ افراد جن کے نام پر یہ مکانات تعمیر کئے گئے تھے حوالہ کئے گئے ۔

 اس معاملہ کولے کرحالانکہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ باتیں بھی کہی جا رہی ہیںکہ جو ان گھروں کے مالک ہیں انہیں گھروں کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ان کے پاس پہلے سے ہی ضروریات سے کہیں زیادہ جگہ یا گھرموجود ہے۔ جو حصہ ضرورت سے زیادہ ہے، وہ کرایہ داروں سے بھرا ہے اور شہروں میں مکانوں کے کرائے کی شرح بھی اتنی زیادہ ہے کہ عام طور پر ہر کرایہ دار دس سال میں ہی اس رہائشی حصے کی قیمت ادا کر دیتا ہے جو اس کے پاس کرائے پر ہے ۔ وہ مکان نہیں خرید سکتا کیونکہ اس کے پاس مکان کی یکمشت قیمت ادا کرنے کے لئے کافی رقم نہیں ہے ۔ اس لیے جن کے پاس پیسہ ہے، بلیک منی ہے، وہ اسے پراپرٹی میں لگا کر مستقل اسٹیٹ میں تبدیل کر رہے ہیں۔ چالیس لاکھ کے مکانات کی خرید 5 لاکھ دکھادی جاتی ہے، یعنی 35 لاکھ روپیہ دو نمبر میں ادا کیا جاتا ہے ۔

 شاید اسی وجہ سے وہ ببانگ دہل یہ بات کہتے ہیں کہ اب کیا کر لیں گے انکم ٹیکس والے؟ کالی کمائی کو چھپانے کا اس سے بہتر طریقہ اور بھلا کیا ہو سکتا ہے؟اتنا ہی نہیں سرکاری نیم سرکاری رہائشی اداروں اور شہری ترقی اتھارٹیوں کی عمارات اور زمینوں کے الاٹمنٹ میں سرکاری مشینری اپنی جیبیں گرم کرنے کا جو کھیل کھیلتی رہی ہے، اس سے ان لوگوں کےلئے منصوبے بنائی گئی تھیں، انکا شاید ہی بھلا ہو سکا ہو، لیکن با اثر اور کالی کمائی والوں نے ایک ہی ادارے سے تین تین، چارچار مکان حاصل کر لئے ۔ خاندان میں چارفراد اور چاروں کے نام پر الگ الگ مکان۔ کہیں تو ایک ہی نام پر تین تین مکان اور وہ بھی ایک ہی شہر میں، ایک ہی تنظیم کی طرف سے الاٹ کرا لئے گئے، جب کہ انہوں نے یقینا درخواست کے ساتھ یہ حلف نامہ داخل کیاہی ہوگاکہ شہر میں ان کے نام سے کوئی اور رہائش نہیں ہے ۔اس بد عنوانی کے معاملہ میں ترقی اتھارٹیوں کے افسروں سے لے کر چپراسی تک نے خوب کالی کمائی کی تو شہروں میں تعینات لےکپال راتوں رات کروڑ پتی بن گئے ۔دہلی میونسپل کارپوریشن سے لے کر لکھنو ترقیاتی اتھارٹی کے بابوو ¿کی کرتوت پرمبنی خبریںاخباروں میں کئی مرتبہ شائع بھی ہوئیں اور ہوا بس یہ کہ نظام بدلا تو اتھارٹی کے بڑے افسر کو وہاں سے ہٹا کر کسی دوسری پوسٹ پر بٹھا دیا گیا ۔

 حکومت نے اگر اس پر جلد نوٹس نہ لی تو معاملہ اور بھی بد سے بدتر ہوگا حکومت کو پہلی فرصت میں اس پر کچھ نہ کچھ کاروائی کرنی چاہئے ۔اس سلسلہ میں ایک کام کرنے کا یہ بھی ہے کہ اولین فرصت میں حکومت ان خالی پڑے مکانات کو الاٹ کر نے کے لئے اقدامات کرے کیونکہ اس سے ڈھیر سارے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے اور یہ بھی کہ اگر ان مقفل گھروں کو آباد کر دیا جائے اور اوسط فی چھ ارکان پر مشتمل خاندان کو ایک چھت فراہم کر ادی جائے تولاکھوں لوگوں کو اپنا گھر فراہم کیا جا سکتا ہے، یعنی پھر کسی کو نہیں سونا پڑے گا کھلے آسمان کے نیچے ،پھر شاید حکومتوں اور ترقی اتھارٹیوں کو بے گھر لوگوں کےلئے نئے گھر بنانے، ان کےلئے بجٹ حاصل کرنے اور زمینیں تلاش کرنے کی جدوجہد بھی نہیں کرنی پڑے گی اور وہ پیسہ جو رہائشی منصوبوں میں خرچ کرنا پڑرہا ہے، ترقی کے دیگر ضروری منصوبوں، شہری سہولیات کو بہتر بنانے پر خرچ کیا جا سکتا ہے ۔سچ یہ ہے کہ حکومت اور ملک کے نظام میں ایسا کرنے کیلئے قوت ارادی کی کمی ہے، نہیں تو محض ایک منصوبہ، ایک آرڈیننس کے ذریعہ ملک کی سب سے بڑی پریشانی کا فوراًحل ممکن ہے لیکن کیا کبھی ایسا ہوگا؟ہم یہ نہیں کہتے کہ بے گھرو ںکو گھر مفت میں دے دئیے جائیں، ان سے گھروں کی قیمت لی جائے اور اسے سہولت کے مطابق قسطوں میں وصول کیا جائے، اس سے وہ اپنی رہائش گاہ کی قیمت اداکر سکیں گے ۔ ساتھ میں اپنے گھر والوں کی سہولت اور حفاظت کے تئیں اعتماد بھی پیدا کرنے میں کامیاب ہونگے۔اس سے وہ زیادہ دیر تک، زیادہ کام کر سکیں گے،زیادہ کما سکیں گے اور اپنا خود کا گھر ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے گھر کی قیمت ادا کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ تب شاید جرائم کا گراف بھی گرے گا کیونکہ مجرموں کے جرائم کے مواقع گھٹےںگے اور حکومتوں کا قانون اور ا نتظام کوبرقرار رکھنے کا بھاری بوجھ بھی کم ہوگا۔
alamislahi@gmail.com
رابطہ کا پتہ 
CONTECT NO: 09911701772
E.26 ABULFAZAL JAMIA NAGAR
OKHLA NEW DELHI 
110025


۔۔۔مزید

منگل، 25 ستمبر، 2012

طلبا یونین انتخابات : 2004 پارلیمانی انتخابات کا پیش خیمہ

طلبا یونین انتخابات : 2014 پارلیمانی انتخابات کا پیش خیمہ

محمدعلم اللہ اصلاحی 
http://siyasitaqdeer.com/page3.html
ملک کی دو بڑی یونیورسٹیاں جواہر لال نہرو اور دہلی یونیوسٹی میں بخیر و خوبی الیکشن کا اختتام اور نتائج کے اعلان کو آنے والے 2014میں پارلیمانی انتخابات کا پیش خیمہ تصور کیا جا رہا ہے اور طلبائی تنظیموں سمیت مر کزی سیاسی پارٹیاں بھی اس یونین انتخاباب کو اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ۔ اس الیکشن کو لیکر صرف طلباءکے درمیان ہی بحث ومباحثہ کا بازار گرم نہیں ہے بلکہ مرکزی سطح پر بھی سرد جنگ اور لفظی محاذ آرائی کا دور جاری ہے ۔شاید اسی وجہ سے اس طلبہ یونین انتخابات سے جو اشارہ آ رہے ہیں انہیں نظر انداز کرنا تقریبا ناممکن بن گیا ہے۔ دونوں یو نیورسٹیوں میں مختلف وجوہات کو لیکر الیکشن پر پابندی عاید تھی ۔عدالت کی مداخلت کے بعد یہ انتخاب عمل میں آیا ،سینٹرل یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی عدالت نے الیکشن کرائے جانے کا حکم دے رکھا ہے لیکن تا ہنوز جامعہ میں عدالت کے فیصلے کو ممکن العمل نہیں بنایا جا سکا ہے ۔اسی وجہ سے جہاں جے این یو اور ڈی یو کے طلباءاپنے حقوق کو لیکر بے فکر ہیں وہیں جامعہ کے طلباءانتخابات نہ کرائے جانے کو لیکر فکر مندہیں ۔ دونوں یونیورسٹیوں میں فتح پانے والے طلباءاپنے عزائم اور خوشی کا اظہار کر رہے ہیں تو شکست پانے والے شور اور ہنگامہ۔

دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں طلبا یونین انتخابات کے نتائج سے صاف ہے کہ دونوں ہی یونیورسٹیوں کے طلباءنے فرقہ پرست طاقتوں کو مسترد کیا ہے۔ دہلی میں طلبا یونین کے انتخابات کوئی عام انتخابات نہیں ہوتے۔ پورے شہر میں باقاعدہ تشہیر ہوتی ہے اور ان یونیورسٹیوں میں پورے ملک سے طالب علم آتے ہیں۔یہاں یہ اہم نہیں ہے کہ انتخابات میں جیت کس کی ہوئی ہے۔ دہلی یونیورسٹی میں کانگریس کی طلباءتنظیم این ایس یو آئی بی جے پی کے اسٹوڈنٹس کے مقابل تھا تو طلبا نے اسے جیت دلا دی جب کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم مضبوط تھا تو انہیں جیت دلا دی۔ غور طلب یہ ہے کہ دہلی یونیورسٹی تو اے بی وی پی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جب کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں بھی ایک سے زیادہ بار اے بی وی پی کافی مضبوطی کے ساتھ الیکشن لڑ چکی ہے اور صدر کی سیٹ پر بھی قبضہ کر چکی ہے۔

شکست کے بعد بی جے پی نے دونوں جگہ جس انداز سے توڑ پھوڑ اور ہڑتال کی ہے اسے نیک شگون تصور نہیں کیا جا رہا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ ان دونوں یونیورسٹیوں میں بی جے پی کو بری طرح شکست ہوئی ہے جہاں جے این یو میں کمیونسٹ پارٹی نے اپنا غلبہ درج کرایا ہے تو دڈی یو میںکانگریس نے ۔دہلی یو نیورسٹی میں کانگریس کی اسٹوڈنٹ ونگ این ایس یو آئی کو شاندار کامیابی ملی ہے اور بھاجپا کی یونٹ اے وی بی پی کا صفایا ہوگیا ہے۔ این ایس یو آئی چاروں سیٹوں میں سے تین جیت گئی ہے۔ 2007 ءکے بعد دلی کی سیاست میں لگاتار کمزور پڑ رہی این ایس یو آئی کو سنجیونی مل گئی ہے۔ این ایس یو آئی اچھے خاصے فرق سے پریسڈنٹ ، وائس پریسڈنٹ اور سکریٹری کے عہدے پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔اسٹوڈنٹس انتخابات کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہواہے کہ کسی عہدے پر مقابلہ برابر رہا۔ جوائنٹ سکریٹری کے لئے ہوئے چناؤ میں دونوں تنظیموں کو برابر ووٹ ملے۔

دراصل انتخابی نتائج نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو پوری طرح سے سکتے میں ڈال دیا ہے اور وہ سمجھ نہیں پا رہی ہے کہ آخر طلبا نے یہ کیسا پیغام دیا ہے کے تمام منفی اشوز کے ہونے کے باوجود بھی ان کی حمایتی اے بی وی پی کو نہ صرف زبردست شکست ملی بلکہ اس تنظیم کا صفایا بھی ہوگیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پارٹی کو یہ ہضم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ دوسری طرف این ایس یو آئی کی اس جیت نے کانگریس ورکروں میں نئے پیش رفت کا کام کیا ہے اور انہیں یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ دہلی کے نوجوانوں نے صاف صاف یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ کانگریس پارٹی اور اسکی پالیسیوں کے ساتھ ہے۔ راجدھانی میں انا ہزارے کے ذریعے کرپشن کے خلاف چلائی جانے والی تحریک میں بھاری تعداد میں اس وقت لڑکوں نے ہی شرکت کی تھی جسے لیکر بی جے پی خوش فہمی میں تھی اور اسے لگ رہا تھا کانگریس مخالف نوجوانوں میں لہر ہے اس کا فائدہ انہیں ملے گا اور اس بات کو وہ پکا مان کر چل رہی تھی کہ دہلی اسٹوڈنٹس انتخابات میں تو ان کا پرچم لہرانا طے ہے۔ اے بی وی پی کومحسوس ہوا کہ جس طرح پورے ملک میں کرپشن، مہنگائی سے لوگ پریشان ہیں اس کے چلتے دہلی اسٹوڈنٹس انتخابات میں لوگ این ایس یو آئی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ لیکن اس کے امیدوار ہار گئے کانگریس کے طلباءلیڈروں کی اس جیت کو کانگریس کے رہنما آئندہ سیاست کا اشارہ دے رہے ہیں۔ 

پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں کی فکر یہ بتاتی ہے کہ متوسطہ طبقہ کے لوگ اور خاص طور سے نوجوان کس سمت میں سوچ رہے ہیں دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا یونین انتخابات خالص طور پر سیاسی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں۔ ووٹنگ کے کچھ گھنٹے پہلے ہی جب ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو یہ پختہ یقین تھا کہ این ایس یو آئی نے بہتر حکمت عملی کے تحت چناؤ لڑا اور قومی اشو کو اس چناؤ میں حاوی ہونے نہیں دیا۔ اے بی وی پی کو کوئی خاص مدد نہیں ملی جبکہ کئی سینئر کانگریسی لیڈر چناؤ میں کود پڑے اور ہر سطح پر طلبا یونٹ کو مدد دی۔جس میں پیسہ بھی پانی کی طرح بہایا گیا۔ حالانکہ ضابطہ انتخابات کے مطابق کوئی امیدوار پانچ ہزار سے زیادہ خرچ نہیں کرسکتا لیکن بڑی سیاسی پارٹیوں نےشامل ہو کر یہ کمی بھی پوری کردی۔کانگریس نے اسٹڈنٹس انتخابات کو بہت سنجیدگی سے لیا اور اپنی پوری طاقت جھونک دیا۔ ممبر اسمبلی، کونسلر اور وزیر اعلی سبھی نے مورچہ سنبھال رکھا تھا۔ دہلی یونیورسٹی میں ریزرو زمرے کی خالی سیٹوں کا بھی اشو گرم رہا۔ ان سیٹوں کو اس بار جنرل کیٹگری میں تبدیل نہیں ہونے دیا گیا۔ ایچ آر ڈی وزارت کے حکم پر کالجوں کو زیادہ داخلےملنے کا اثر دیکھا گیا۔ ووٹنگ فیصد بڑھ کر 40 فیصد تک پہنچ گیا۔ مانا جارہا ہے کہ اس سے کافی فائدہ این ایس یو آئی کوملا۔این ایس یو آئی کے ترجمان کا کہنا ہے اے بی وی پی نے دہلی اسٹوڈنٹس انتخابات میں قومی اشوز کو اچھالا اور طلبا کے مفادات والے مسئلےکو پس پشت ڈال دیا جبکہ طلبا نے قومی اشوز کو اہمیت نہیں دی۔

اسٹوڈنٹس انتخابات خاص بات یہ ہے کہ پہلے سال کے طلبا زیادالیکشن میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور انہیں اپنےقریب لانے میں اے بی وی پی ناکام رہی۔ دہلی کی وزیراعلی شیلا دیکشت نے ہاتھوں ہاتھ اس جیت کو بھی کیش کرا لیا۔ انہوں نے اپنی صاف شفاف انتظامیہ کا نتیجہ بتاتے ہوئے طلباءکا جنادیش بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی نے اس چناؤ میں بھی گھٹیا ہتھکنڈے اپنائے اور جھوٹ کے سہارے چناؤ جیتنے کا خواب دیکھا تھا جسے طلبا نے چکنا چور کردیا۔ اب اسے بہانوں کا سہارا نہیں لینا چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسٹوڈنٹس انتخابات جیت سے وزیر اعلی شیلا دیکشت کا قد بڑھا ہے۔ خود وزیر اعلی کی پیٹھ پارٹی صدر سونیا گاندھی نے تھپتھپائی ہے کیونکہ کانگریس مخالف ماحول میں اسے روشنی کی کرن مانا جا رہا ہے۔

اسی طرح جے این یو میں لال جھنڈے کوکامیابی ملی اور بی جے پی اور کانگریس دونوں کو جس طرح شکست ملی ہے اس نے طلباءکے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اب سیاست محض مذہب اور ذات کے درمیان الجھ کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ اب لوگ اس سے پرے اٹھ کر سوچنے لگ گئے ہیں۔شاید اسی وجہ سے ان انتخابات کو پارلیمانی انتخابات2014 کا پیش خیمہ تصور کیا جا رہا ہے ۔ظاہر ہے کہ ان انتخابات سے سیاسی جماعتوں کو ایک پیغام تو ضرور ملا ہے ۔ شاید اسی سبب دہلی میں موجود مختلف قسم کی پارٹیوں کے لیڈروں نے ان انتخابات کو ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف بن رہے ماحول کی علامت بتایاہے۔ حالیہ دنوں میں ملک میں بدعنوانی اور مہنگائی کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے خلاف جو ماحول بنا ہے،دہلی اسٹوڈنٹس انتخابات اور جے این یو طلبہ یونین انتخابات میں اس کا عکس دیکھاگیا۔ لوگوں کا سیاسی جماعتوں سے اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے اور عام لوگوں کا خیال ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں بدعنوانی میں ڈوبے ہیں اور عام آدمی کے مفادات کو وہ مسلسل نظر انداز کر رہی ہیں۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ کوئلہ کانوں کے تقسیم کے علاوہ دو دن پہلے ڈیزل اور رسوئی گیس کو لے کرحکومت کے فیصلوں کا اثر بھی ان دونوں انتخابات پر پڑا ہے ۔


۔۔۔مزید

جمعرات، 20 ستمبر، 2012

بٹلہ ہاؤس انکاونٹر کی چوتھی برسی


بٹلہ ہاؤس انکاونٹر کی چوتھی برسی

محمد علم اللہ اصلاحی 

دو ہزار آٹھ کی19ستمبرکی تاریخ،رمضان المبار ک کا مقدس مہینہ اور ایک معمول کی صبح ،موسم میں ذرا خنکی تھی، شاید اسی سبب سورج بھی آج سست روی سے چڑھ رہا تھا ۔اوکھلا میںعوام حسب معمول اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو چکے تھے جبکہ ہم جیسے غریب الوطن نوجوان اپنے کاموں اور تعلیمی اداروں کا رخ کر چکے تھے یا کرنے والے تھے کہ اچانک فائرنگ کی یکے بعد دیگرے کئی آوازوں نے فضا میں ارتعاش پیدا کر دیا ۔گھبراہٹ و استعجاب میں گرفتار ہر شخص کی زبان پر بس ایک ہی سوال تھا معاملہ کیا ہے ؟ذرا سی دیر میں جو خبرآئی وہ سوگوار،سنسنی ،پریشان کن اور دہشت واضطراب پیدا کر دینے والی تھی ۔دو نوجوان جو اپنے سنہرے مستقبل کا خواب سجائے اپنے گھر سنجر پور ضلع اعظم گڑھ سے سیکڑوں میل دورجامعہ میں پڑھنے آئے تھے ،محافظوں کے ذریعہ دہشت گرد قرار دے کر درد ناک انداز میں مارڈالے گئے تھے ۔اس کے بعد تو جیسے دہشت کی چڑیل نے اوکھلاکو اپنا بسیرابنالیا۔ تب کا دن ہے اورآج کا دن، یہاں کے عوام اس واقعہ کے بعدسے آج تک کبھی چین کی نیند نہیں سو سکے ہیں۔مجھے آج بھی یادہے جس دن یہ حادثہ پیش آیا تھا ،اس دن میرے پاس فون کا تانتا بندھ گیا تھا۔والدین ،دوست،احباب سب فکرمند،ہر کوئی خیریت دریافت کرنے اور احوال جاننے کو بے قرارتھا۔یہ کیفیت اوکھلا میں رہنے والے ان تمام لوگوں کی تھی، جو بغرض تعلیم یا روزگاریہاںمقیم تھے۔ ہر کوئی اپنے عزیز کی خیریت کےلئے متفکر اور بے چین تھا۔بٹلہ ہاس اور ذاکر نگرمیں میڈیا کی گاڑیاں نظر آ رہی تھیںیاپھرپولس والوںکی ۔اس سے قبل میں نے کبھی اس قدر میڈیاوالوں اور پولس کی گاڑیوںکا اژدہام اس علاقہ میںنہیں دیکھاتھا ۔شام ہوتے ہی پورے علاقہ میں سناٹا پھیل گیا۔ واقعہ کے بعدمسلم نوجوانوں اور خاص طورسے جامعہ کے طلباءمیں خوف و ہراس اور دہشت کا ماحول تھا۔ 

رمضان المبارک کے مہینہ میں پوری پوری رات آباد رہنے والے بٹلہ ہاس میں یا تو آوارہ کتے بھونکتے نظر آتے یا پھر وہ پولس کے جوان جو علاقہ میں نقض امن کے نام پر تعینات کئے گئے تھے ۔اس واقعہ کے بعد ڈر کے مارے مائیں اپنے بچوں کو گھروں سے باہرنکلنے نہ دیتی تھیں۔روزانہ کبھی شاہین باغ ،کبھی ابوالفضل انکلیو ،کبھی ذاکر نگر تو کبھی غفار منزل سے مسلم نوجوان پولس کے ذریعہ دہشت گرد بتا کر دبوچ لئے جاتے تھے۔جس کی وجہ سے مسلم طلباءنہ صرف عدم اعتماد کی فضا میں زندگی گذاررہے تھے بلکہ اپنے ہی وطن میں اجنبی اوربے گانہ بھی محسوس کرنے لگ گئے تھے۔ (بد قسمتی سے یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے،اور بجائے اس میں کمی آنے کے شدت میںمزید اضافہ ہوتاجا رہا ہے ۔ )مجھے یادآتا ہے اس وقت اوکھلا سمیت سرائے جولینا ،سریتا وہار ،آشرم ،مہارانی باغ اور آس پاس میں رہنے والے ہندو مالک مکان تو کیا بہت سے مسلم مکان مالکوں نے بھی اپنے گھروں سے جامعہ میںزیر تعلیم بچوں کو نکال دیا تھا،اس خوف سے کہ کہیں ان کے گھروںمیں رہنے والا کرایہ دار بھی دہشت گرد قرر نہ پاجائے۔ہر کوئی ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا۔ یہاں تک کہ وہ دوست اوراحباب بھی جواس حادثہ سے قبل ایک ساتھ کینٹین میں بیٹھ کر چائے پیتے اور گھنٹوں خوش گپیوں میں مصروف رہتے تھے اپنے ہی ساتھی سے دور دور رہنے لگے تھے ۔جن لوگوں نے ہمت جٹا کر روم یا مکان کرایہ پر دیا بھی تھا توان کا رویہ انتہائی جارحانہ بلکہ گستاخانہ ہوتا تھا۔مالک مکان دوست یار سے ملنے کےلئے فلیٹ میں آنے جانے والے ہر طالبعلم کو شک کی نگاہ سے ایسے دیکھتے کہ کہیںآنے والا نوجوان دہشت گرد نہ ہو ۔بسا اوقات تومکان مالکان باہرسے ملنے آنے والے مہمان تک کو بھگا دیتے ،یا پھر اتنے سوالات کرتے کہ شریف آدمی خود ہی وہاں رہنا یا آنا پسند نہ کرتا۔

یہ حادثہ عید کے کچھ ہی دن قبل پیش آیا تھا،شاید اسی وجہ سے جامعہ میں پڑھنے والے کئی طلباءعید کے موقع سے جب گھر گئے تو لوٹ کر پھر کبھی واپس نہیں آئے ۔اور ان کا وہ خواب جو انھوں نے جامعہ آنے سے قبل دیکھا تھا سب چکنا چور ہو گیا ۔ظاہر ہے کہ اس سے بہتیرے مسلم نوجوان اعلی تعلیم سے محروم ہوگئے ۔حالانکہ اس وقت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مشیر الحسن نے بچوں کو خوف زدہ نہ ہونے کی تلقین کرتے ہوئے ہر قسم کے تحفظ اور قانونی چارہ جوئی کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اس حادثہ کے بعد کئی نوجوانوں کوپوچھ تاچھ کے نام پر گرفتارکر لیا گیا جن میں سے کئی ایک کا اب تک کوئی اتہ پتہ نہیں ہے،تو انھوں نے زبان تک نہ کھولی ۔دہشت کے باعث لوگ خصوصاً اعظم گڑھ کے بچوں سے ملنا گوارہ نہیںکرتے تھے ۔ہر چہار جانب شک اور شبہ کا ایک ایسا ہالہ بن گیا تھا اور ایسی بد اعتمادی کی فضا پیدا کر دی گئی تھی کہ اس نے برسوں کی یاری دوستی کو بھی متزلزل کر ڈالا تھا ۔اس طرح کے حالات پیدا کرنے میںبالخصوص ہندی اور انگریزی کے بعض میڈیاگھرانے نے خوب خوب کردار نبھایا تھا ۔مجھے یاد ہے ایک معروف ٹی وی چینل کے معتبر صحافی نے تو جہاں یہ حادثہ پیش آیا تھا، اس سے چند فاصلہ پر موجود مسجدخلیل اللہ کو ہی آتنگوادیوں کی پناہ گاہ قرار دے دیا تھا۔شبلی ،فراہی رحمہم اللہ علیہم اورکیفی اعظمی کااعظم گڑھ راتوں رات آتنک گڑھ بنا دیا گیا تھا ۔دہلی اور اعظم گڑھ ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے مسلمان پولس، انتظامیہ اور میڈیا کے اس متعصبانہ رویہ پر افسردہ اور اداس تھے ۔اس سال عیدکیا منائی گئی، دہلی اور اعظم گڈھ کے مسلمانوں نے اپنے سروں اور بازو ںپر کالی پٹیاں باندھ کر”یوم عید “کو ”یوم سیاہ “کے طور پر منایا ۔

میرے ذہن میں آج بھی اس خوفناک منظرکی یاد یں مر تسم ہیں،جب میں نے پولس والوں کو عاطف اور ساجد کی لاشوں کو بے دردی سے گاڑی میں ڈالتے ہوئے دیکھا تھا اورالیکٹرانک میڈیا کے افرادکیمرہ لئے گاڑی کے پیچھے شکاری کتے کی طرح دوڑتے ہوئے بتا رہے تھے کہ یہ وہی گاڑی ہے جس میں آتنک وادیوں کو لے جایا جا رہا ہے ،اور بلیک شیشے سے آتنگ وادی کا جوتا نظر آ رہا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ مجھے کئی رات تک نیند نہیں آئی تھی ۔مجھے کھانا کھاتے ،اٹھتے بیٹھتے وہی خوفناک منظر دکھائی دیتا تھا ۔ان دنوں میں ہندوستان ایکسپریس میں کام کرتا تھا اس حادثہ کا میرے ذہن پر اسقدر اثر ہوا تھا کہ اس دن میں چاہ کر بھی کچھ نہیں لکھ سکا تھا ۔اس دن کے سانحہ کی جو رپورٹ واقعہ کے اگلے دن ’ہندوستان ایکسپریس‘میںشائع ہوئی،اس کی سرخی’جامعہ نگرمیں انکاؤنٹر، مگرفرضی یااصلی؟‘قائم کی گئی۔اس وقت کئی لوگوں نے ایکسپریس میں چھپی اس رپورٹ پر اعتراض بھی ظاہر کیا لیکن بعد کے دنوں میں این ایچ آر سی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سمیت کئی حقائق نے اس کو حرف بحرف ثابت کر دیا ۔

آج اس سانحہ کے ۴سال مکمل چکے ہیں لیکن جب کبھی اس وقت کو یاد کرتا ہوں تومضطرب ہو جاتا ہوں اور بدن میں کپکپی سی طاری ہو جاتی ہے ۔پولس انکانٹر کو عاطف و ساجد کے اہل خانہ ہی نہیںبلکہ ملک کے بڑے بڑے لیڈران ،حقوق انسانی کے کارکنا ن ،وکلاء،صحافی اوربڑی تعداد میں علاقہ کے افراد فرضی گردانتے رہے ہیں۔ پولس کی کاروائی پر اول دن ہی ان افرادنے سوالات کھڑے کر دئے تھے اور پولس کی کہانی کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے جوڈیشیل انکوائری کی مانگ کی تھی لیکن طویل عرصہ گذرجانے کے باوجودپولس کی اس کاروائی اور اس کے ذریعہ گڑھی گئی کہانیوں پر اٹھائے گئے سوالات ہنوز جواب طلب ہیں ۔حالانکہ اس دوران شور، ہنگامہ ،احتجاج ،مظاہرہ سب کچھ ہوا لیکن” کون سنتا ہے نقار خانہ میں طوطی کی آواز“ اب تو مختلف ذرائع سے اس مبینہ انکاونٹر کے متعلق بہت سارے راز ہائے سر بستہ بھی بے نقاب ہو چکے ہیں اور اس واقعہ کے متعلق نام نہاد قومی پریس کے ذریعہ ابتداقائم کی گئی رائے میں بھی تبدیلی آئی ہے لیکن عملاً سارے منظر نامے میں اب بھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے ۔الٹے اس واقعہ کی آزادانہ تحقیق کئے بغیرمہلوک انسپکٹر موہن چند شرما کو’ اشوک چکر ‘ایوارڈ دے کر انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا، جبکہ دوسری جانب شہید ہونے والے طلباءکی ماں کی آنکھیں اپنے لال کی یاد میں رو رو کر خشک ہو گئیں لیکن کوئی سرکاری ذمہ دار اشک شوئی کےلئے نہیں پہنچا ۔خاص طور پر حکومت نے اس واقعہ سے متعلق اول دن سے جونظریہ اختیار کیا تھا وہ متعدد حقائق کے انکشاف کے بعد بھی تا ہنوز قائم ہے ۔اس سانحہ کی عدالتی انکوائری کا مطالبہ آج بھی جاری ہے لیکن نہ جانے کیا خوف ہے کہ پولس ،انتظامیہ ، مرکزی حکومت حتی کہ وزیر اعظم تک اس معاملہ میں مداخلت کرنااور اس انکاؤنٹر کی حقیقی سچائی کو سامنے لانا کیوں نہیں چاہتے ۔اب توکئی ایسے شواہد سامنے آچکے ہیں جن سے اس انکاؤنٹرکا فرضی ہوناتقریباًثابت ہو چکاہے لیکن پھربھی بٹلہ انکاونٹر کی تحقیقات کا مطالبہ یہ کہہ کر مسترد کیا جاتا رہاہے کہ اس سے پولس کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔
ہمارے سیاستدانوں نے بھی اس معاملہ میں خوب خوب روٹیاں سینکیں۔اس معاملہ پر اپنے مفادات کی خاطر علاقائی لیڈران سے لے کر مرکزی ذامہ دارن تک سبھوں نے شہید طالب علموں کی لاشوں پر سیاست کی اور مگر مچھ کے آنسوبھی بہا ئے اوراپنا سیاسی مقصد حاصل کیا اور وقت آنے پر” دیتے ہیں دھوکا بازیگر کھلا “کے مانند اسٹیج سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ بعضوںنے حقائق کو ہی توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی توبعض اعظم گڑھ میں جاکر کف افسوس مل آئے ۔

اب حالات کیا رخ اختیارکریں گے، اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن مستقبل قریب میں بھی اس انکاؤنٹرکی انکوائری کے امکانات ظاہر نہیں ہوتے ۔ہندوستان میں انصاف کے مسلسل مہنگے ہونے سے یہ امر اب اور نا ممکن سا لگ رہا ہے جبکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ متاثرہ افراد میں زیادہ تر معاشی لحاظ سے کمزور لوگ ہیں۔بھلا ہم مسلمانوں کو کیسے بتائیں کہ قیادتیں سازگار حالات میں برپا نہیں ہوتی ہیں بلکہ حالات کے تھپیڑے ان میں نکھار لاتے اورنہیں صدا بہار بناتے ہےں ۔ہمارا یہ المیہ ہی ہے کہ سخت ترین حالات میں بھی ہمیں کوئی پائدار سیاسی ،سماجی یا دینی قیادت ملتی نظر نہیں آتی ۔لے دے کر کچھ سیاسی یا نیم سیاسی سماجی لوگ ہیں لیکن ان کی حیثیت بھی ”مٹی میں مادھو “کی سی ہے ۔کوئی ان کو استعمال کرتا ہے تو کوئی کسی کیلئے بہ رضا و خوشی استعمال ہو جاتے ہیں۔19ستمبر 2008کا وہ دن اور آج کا دن 19ستمبر 2012۔حالات کتنے بدل گئے ،اس وقت جامعہ نگر میں چند نام نہاد دہشت گردوں کے نام لئے جا رہے تھے جن کو گرفتار یا فرضی انکاؤنٹر میں مار کر ان کی زندگی تباہ کر نے کی باتیں کی جا رہی تھیں ،اور آج پوری کالونی کو ہی دہشت گردی کا اڈہ بتا کر اسے تباہ کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں اور ان کو بروئے کار لایا جا رہا ہے ،سازشی عناصر متحرک ہیں اور ہم خواب غفلت میں شاید اپنی تباہی و بربادی کا انتظار کر رہے ہیں ۔


۔۔۔مزید

جمعہ، 7 ستمبر، 2012

روداد قفس

(برسا منڈا سینٹرل جیل رانچی کی کہانی)

نوٹ : زیر نظر سفرنامہ دراصل برسا منڈا سنٹرل جیل رانچی کاہے ، دہلی سے ر انچی جیل کا یہ دورہ میں نے ” ہندوستانی فلموں میں جیل کی عکاسی اور اس کی حقیقت“(قیدیوں سے بات چیت کے تناظر میں) جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اپنے موضوع سے متعلق ایک تحقیقی مقالہ کے لئے قیدیوں سے انٹرویو کی غرض سے کیا تھا۔ جیل سے واپسی کے بعد جو کچھ میں نے دیکھا اور محسوس کیا اسے قلم بند کرنے کی کوشش کی ہے ۔
(http://www.dailyhindustanexpress.com/epaper/page_5_large.htm ) ۔ یہ روددا روزنامہ ہندوستان ایکسپریس میں شائع ہو چکا ہے شکریہ کے ساتھ اسے یہاں شائع کیا جا رہا ہے ۔ اس سلسلہ کی اگلی کڑیاں (قیدیوں کی کہانی قیدیوں کی زبانی ) بھی ہندوستان ایکسپریس میں ہی شائع ہونگی۔ انشاءاللہ اس کی اگلی قسطیں بھی یہاں شائع کیا جائے گا . فی الحال یہ روداد ملاحظہ فرمائیے۔


 روداد قفس 

محمد علم اللہ اصلاحی 
جامعہ ملیہ اسلامی 
نئی دہلی 

 ہم شہری آبادی سے نکل کر سنسان اور غیر آبادبستی میں داخل ہو چکے تھے۔دوردور تک سناٹا اور ہو کا عالم تھا۔ حضرت انسان کے نام پر جوبھی چہرے نظرآرہے تھے،ان سے پریشانی عیاں ہورہی تھی یا پھرمخصوص لباس زیب تن کئے ہوئے وہ جوان دکھائی دے رہے تھے،جنہیں ادائیگیِ فرض کی غرض سے مستعد کیا گیاتھا۔ پولس کے جوانوںکی تئیں بےداری یہ بتا رہی تھی کہ ہم کسی دوسری دنیا میں داخل ہو چکے ہیں۔ دور سے ہی برجوں پر تعینات پولس کے جوان اور ذرا آگے بڑھنے پر نیلے رنگ کا کشادہ گیٹ صاف نظر آ رہا تھا،جوگنہگار و ںاور ناکردہ گناہوں کی سزابھگتے والے افرادکا نہایت فراخ دلی کے ساتھ استقبال کرنے کاعادی کہلایا جاسکتاہے۔جی ہاں!یہ کہانی کسی دوسری دنیا کی نہیں بلکہ اس ’ برسامنڈاسنٹرل جیل رانچی ‘کا قصہ ہے جہاں ہم داخل ہونے جارہے ہیں۔

 گوکہ ہم لوگ قیدی کی حیثیت سے یہاں داخل نہیںہوئے کہ پشیمانی اورندامت کاکوئی احساس ہو بلکہ جیل کا جو تصور عام ذہن و دماغ پر اپنا نقش چھوڑجاتاہے،ہم اسی خیال میں محورانچی کے اس زنداںکے احاطہ میں داخل ہوچکے تھے ،جہاںکی دیواروں کے پیچھے رہنے والی انسانی زندگیاں جن کے بارے میں پہلے سن رکھاتھا،مزید بھیانک ہونے کااحساس دلارہی تھیں۔ایسے لوگ جویوں توعام انسانی معاشرے میں پیدا ہوتے ہیں، یہیں پلتے بھی ہیں اورجوان بھی ہوتے ہیں مگران کی اپنی بدقسمتی یا ناکردہ گناہ انہیں عارضی یامستقل طور پرجیل کی کال کوٹھریوں کامہمان بنادیتی ہے ،جہاں ایک ایک سانس پر پہرہ ،ہر ہر قدم پر بندش اور محرومی کا سایہ ہوتا ہے۔جہاںایک ہی وارڈ میں سینکڑوںاور بعض اوقات ہزار وںکی تعداد میںلوگوںکو رکھاجاتاہے،اس طرح کہ ہر پل اور ہر لمحہ انسانیت شرمندہ اور حیوانیت سربلند دکھائی دیتی ہے ، یہی ان کا گھر ہوتاہے ،جہاں رشتہ ناطہ کاکوئی تصورہی نہیں۔ہاں! موٹے موٹے کھٹمل اور مچھرمہمانوںکے استقبال کے لئے پلکیں بچھانا نہیں بھولتے۔جہاں انھیں ہمیشہ ناپسندیدہ چہروں کو دیکھنے، گالیاں سننے اوربے ذائقہ کھانا تناول کرنے کی عادت ہوجاتی ہے ۔

 ایسے خیالات کاآنااورجسم میں ایک عجیب قسم کی جھر جھری کاطاری ہوجاناخلاف توقع بھی نہیں۔ خوف ناک خیالات کے درمیان دل نے کہاکہ واپس لوٹ چلیں لیکن پھر یہ سوچ کر کہ ہم کوئی مجرم تونہیں بلکہ حقیقت کے متلاشی ہیں ،ہمت بندھی اوردل کے فیصلے کی تبدیلی نے آگے بڑھنے کاحوصلہ دیا ۔ابھی کچھ ہی قدم آگے بڑھے ہوںگے کہ دو سپاہیوں کی وحشت ناک آوازسماعت سے ٹکرائی: کیا معاملہ ہے ؟ادھر کہاں ؟پہلے سے ہی ڈرانے خیالات ،کالے کالے چہرے ،لمبی لمبی مونچھیں اور غضبناک آنکھوں والے ان سپاہیوں کو دیکھ کرٹھٹک گئے اور ایک لمحہ کے لئے ایسا لگا جیسے ہم بھی مجرم ہیں! ڈرتے ڈرتے ہم نے ان سے جیل آنے کا مدعا بیان کیا اور جیل سپرٹنڈنٹ سے ملنے کی گذارش کرتے ہوئے کاغذات آگے بڑھا دئے جس میں جیل کے معائنہ اور قیدیوں سے بات چیت کرنے کی آئی جی نے اجازت دے رکھی تھی ۔کاغذات دیکھنے کے بعد ایک پولس والے نے پوچھا -’کہاں سے آئے ہو؟‘ہم نے بتایا دہلی سے۔’ کیوں ؟‘ریسرچ کےلئے ’اوہ! آپ لوگ میڈیا سے ہو ؟‘نہیں ہم طالبعلم ہیں’ اچھا! تو آئی کارڈ دکھا اوریہ بیگ میں کیا ہے ،جیسے یہ کسی طالب علم کا بیگ نہیں کسی خطرناک دہشت گرد کی جھولی ہو، اچھی طرح ہماری تلاشی لی گئی اور چیکنگ کے مراحل سے گزارنے کے بعد ایک کمرے کی جانب جو غالباًاستقبالیہ تھا، اشارہ کرتے ہوئے ایک دوسرے سپاہی نے کہا ”پہلے موبائل ،لیپ ٹاپ ،سیم کارڈ یا جو بھی الیکٹرانک سامان ہو ،وہاں جمع کرائیے اوردائیں جانب یہ جو سڑک جا رہی ہے ،ادھر ہی سیدھے چلے جائیے ،وہیں رہتے ہیں صاحب“۔ ہم آگے بڑھے مگر ہماری قسمت میں سپرٹنڈنٹ سے ملنا نہیں لکھا تھا ، معلوم ہوا کہ سپرٹنڈنٹ صاحب کی طبیعت خراب ہے، اس لئے انھوں نے صبح 7بجے کل ملنے کے لئے کہا ہے ۔ ہمارے یہاں ہندوستان میں دھونس اور رعب جمانے کے لئے بھی ایسا کیا جاتا ہے ،ہمیں معلوم نہیں حضرت سپرٹنڈنٹ صاحب واقعی بیمار تھے یا ٹال مٹول کے موڈ میں بیمار بن گئے تھے ۔

 خیر! دوسرے دن جب ہم وقت معینہ پر پہنچے اور پوری صور ت حال سے انھیں آگاہ کیاکہ ہمیںکیوں یہاں آناپڑاتو انھوں نے یہ جاننے کے بعد کہ ہم’ ’ہندوستانی فلموںمیں جیل کی عکاسی اور اس کی حقیقت“(قیدیوں سے بات چیت کے تناظر میں)جاننے کے لئے قیدیوں سے انٹرویوکرناچاہتے ہیں،اجازت دے دی۔کافی پوچھ تاچھ کے بعد انھوں نے جیلر سے بات کی ،اورمطمئن ہو جانے کے بعد اپنے پورے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔اس سلسلہ میں ہمیں ویڈیو،ریکارڈنگ یا فوٹو گرافی کی اجازت نہیںملی ،لیکن یہ بھی ہم لوگوں کے لئے کم نہیں تھا کہ ہمیں ان قیدیوں سے بات چیت کی اجازت مل گئی تھی جن سے ان کے گھر والے بھی نہیں مل سکتے ہیں ۔بہرحال وہی دروازہ جسے ہم کسی دوسری دنیا کا دروازہ سمجھ رہے تھے ،اور جہاں اندر و باہر دس دس کلو کے موٹے موٹے تالے لگے ہوئے تھے ،کا چھوٹا دروازہ انتہائی احتیاط کے ساتھ ہمارے لئے کھولا گیا ۔ہم اندر داخل ہوئے تو ایک دالان دکھائی دیا ،اس کے بعد بھی لوہے کا ایک اور کافی لمبا چوڑا اور مضبوط گیٹ نظر آیا،اس کو پار کرنے کے بعد ہی جیل کا احاطہ شروع ہو تا ہے ۔یہ وہی جگہ ہے جہاں جیل افسران اور دیگر اہلکاروں کے دفاتر ہیں،یہاں جیل اہلکار جنھیں اصطلاح میں سنتری کہا جاتا ہے، قیدیوں کی جامہ تلاشی لیتے ہیں۔

 اس مقام یعنی دالان کے دائیں جانب جیلر کا کمرہ ،گیسٹ روم ،باورچی خانہ وغیرہ پرنگاہ پڑی۔یہیں دائیں جانب اسسٹنٹ جیلروں کی آفس،اسپیشل قیدیوں کے لئے ملاقاتی روم (جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلی مدھو کوڑا کو ہم نے یہیں کئی افرادکے ساتھ محو گفتگوپایا )باتھ روم اور ایک آفس بنا ہوا ہے جہاں قیدیوں کی تصویر کشی اور فنگر پرنٹس لئے جاتے ہیں ۔یہیں قریب میں ایک بھاری بھرکم مشین بھی رکھی تھی جس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اشیاءکی ریڈنگ کرے اور یہ بتائے کے قیدی کے اندر لے جانے والے اثاثہ میں کیا کیا ہے ، ۔اسے اسکینر کہا جاتا ہے ،اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ سخت سے سخت مادیاتی اشیاءکی بھی ایک ایک پرتیں کھول کھول کر بتا سکتا ہے ،ایسے میں کسی غیر ممنوعہ شئے کا اندر جانا واقعی نا ممکن ہے ،یہ اور بات ہے کہ موبائل فون اورغیرقانونی اشیاءکمال حکمت کے ساتھ جیل پہنچائے اور خراج وصول کئے جاتے رہے ہیں،جس کی خبریں برابر اخباروں میں آتی ہیں۔

 برسا منڈاسنٹرل جیل بھی اس سے الگ نہیںجہاں قیدیوں کی جیبیںاگر گرم ہوں تو ممنوعہ اشیاءکے داخلہ کی نہ تومقدارکی قید ہے اور نہ ہی تعداد متعین۔یہیںہمیںذرائع نے بتایا کہ جیل میں قیدی موبائل ٹیلیفون کو مختلف کاموں کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ قیدیوں کاایک طبقہ وہ ہے جو موبائل فون کے ذریعے اپنے گھر والوں سے رابطہ کرتا،جب کہ دوسرے قیدیوںکی وہ جماعت ہے جو موبائل فون کے ذریعے جیل میں رہتے ہوئے باہر اپنا نیٹ ورک چلاتی ہے اورجیل کی محفوظ ترین پناہ گاہ میںرہ کر جرائم کی بادشاہت قائم کئے ہوئے ہے۔ابھی حال ہی میں اسی جیل کے بارے میں یہ خبر آئی تھی کہ ایک قیدی نے جیل کے اندر سے جھارکھنڈ کے اسپیکر کو فون کیا تھا،پولس کی اسپیشل ٹیم کے ذریعہ چھاپہ ماری میں کئی موبائل فون ضبط بھی کئے گئے تھے۔ یہ خبر ملک کے تقریبا سارے بڑے اخباروں میں آئی تھی ،اس واقعہ کے بعد سے برابر انتظامیہ کی جانب سے یہاں جیمر لگانے کی بات کہی جاتی رہی ہے لیکن یہ ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا ہے ۔

 بہرحال آیئے ہم اس جیل کی سیر کریں اور دیکھیں کہ کہاں کیا ہو رہا ہے۔ جیل کے اندر جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے قیدیوں کے لےے مختلف بیرکوں میںقیام کا نظم ہے۔ٹاور سیل میں نئے آنے والے حوالاتیوں کے ٹھہرنے کابندوبست ہے، قیدی بیرک میں عام قیدیوں کو جگہ ملتی ہے، سزائے موت سیل وہ جگہ ہے جہاںسزائے موت کے منتظرقیدیوں کامستقرہے، ڈاکوو ں کے لئے ڈکیتی سیل،جھگڑالوقسم کے مہمانوں کے لئے حفاظتی سیل، ، مستورات کے لئے علاحدہ سیل، قتل وغارت پھیلانے والوںکے لئے الگ قیام گاہ، پڑھے لکھے اور خواندہ افراد کی الگ بستی ،وی آئی پی اور سیاسی افراد کا بیرک الگ ،منشیات کے کاروبارسے جڑے افراد کامسکن الگ، توذہنی طور پربیمار قیدیوںکے قیام کامنفرد نظام۔غرض کہ جس پایہ اور درجہ کے قیدی ہیں،ان کے لئے اسی مرتبہ کی رہائش موجودہے۔

 جیل آنے والے مہمانوںیا قیدیوں کے لئے آداب و روایات متعین ہیںکہ کن کا استقبال کس نہج پر کیاجائے؟عام طورپر صدر دروازے پر تلاشی کے بعد حوالاتی کو جیل احاطے کے وسط میں موجود سینٹر ٹاور پر لایا جاتا ہے، جہاں سے سزا یافتہ قیدیوںکوان کے سیل میں بھیجا جاتا ہے۔ جیل میں سزا یافتہ اور زیر سماعت دونوں قسم کے قیدی ساتھ ہی رہتے ہیں ۔ قانون کے مطابق زیر سماعت قیدیوں سے مشقت نہیں کروائی جا سکتی لیکن ماہر سپاہی ان سے بھی پہلے دن ہی سے سخت کام لینا شروع کر دیتے ہیں۔ان کے ساتھ وہی سلوک اختیارکیا جاتا ہے جورویہ عام قیدیوں کے ساتھ روارکھاجاتاہے، حالاں کہ قانون میں دونوں کےلئے الگ الگ حدیں متعین ہےں، مگریہاں کے سپاہیوں کیلئے عام قیدیوں اور زیر سماعت قیدیوں میں کسی طرح کی تمیزکی گنجائش اس وقت تک نہیں نکلتی جب تک کہ رشوت کی پیش کش نہ کی جائے۔ہمیں یہاں بتایاگیاکہ جوقیدی رشوت دیتا ہے ا ±س کی جان بخشی ہوجاتی ہے اور جو پیسے نہیں دے سکتا، مشقت اس کا مقدر ہوتی ہے۔حالانکہ پرانے زمانے کی طرح جیلوں میں اب چکی پیسنے،پتھر توڑنے یا اس جیسے مشکل ترین کام کرانے کا رواج تو نہیں ہے لیکن اس کے باوجود جیل کی دنیا کے سارے کام چاہے وہ ناپسندیدہ ہوں یا پسندیدہ بہ حیثیت مزدور،چپراسی ،کلرک ،باورچی ،محرر،منشی ،استاذ ،نگراں ،بھنگی ،مہتر۔ الغرض وہ تمام کام جو باہر کی دنیا میں ہوتے ہیں جیل کے اندرانھیں قیدیوں سے انتہائی کم بلکہ برائے نام اجرت پر کرائے جاتے ہیں ۔ 

 ہم نے یہاں جیل کے اندر کئی بچوں کوبھی دیکھا ،جن کی عمر اٹھارہ سال سے کم کی رہی ہوگی ۔ملک میں کم عمر بچوں کے لئے الگ سے جیلوں کا انتظام ہے ۔اس کے باوجود ان بچوں کو یہاں رکھنے کا مطلب میری سمجھ سے باہر تھا، اس لئے حیرت وتجسس میں مزید اضافہ ہوگیا ۔بات چیت میں قیدیوں کے ذریعہ ہی معلوم ہوا کہ پولس والے چھوٹے موٹے کیسوں میں ملوث غریب اور ان پڑھ بچوں کی عمریں بلا تحقیق بڑھا کر لکھ دیتے ہیں اور اس طرح ناجائز طریقہ سے بچے یہاں لائے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک قیدی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جیل کے اندر نو عمر قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے ۔اس سے کس نے کیا سبق لیا، کون کون ذمہ دار ٹھہرایا گیا، کس کو کیا سزاملی؟ کچھ معلوم نہیں۔کم سن بچوں کو سگریٹ سمیت دیگر منشیات کون مہیا کراتا ہے؟ کچھ معلوم نہیں۔بڑی عمر کے قیدیوں کے ساتھ میل جول سے نوعمر لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی کون کرواتا ہے؟ کچھ معلوم نہیں۔جیل حکام نے نام نہ بتانے کی شرط پرالبتہ یہ ضرور بتایا کہ جب جیل میں اس طرح کا کوئی واقعہ منظر عام پر آتا ہے ،تو جیل کے اندر موجود’پنیشمنٹ رجسٹر‘ پر اس واقعے کا اندراج کیا جاتا ہے۔ تاہم اس میں یہ نہیں لکھا جاتا کہ فلاں بچے کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی، بلکہ لکھا جاتا ہے کہ ’بدفعلی‘ کرنے کی’ کوشش‘ کی گئی۔ یوں جیل میں بچوں کے ساتھ ہونے والے اس طرح کے واقعات کو جیل کے اندر ہی دبا دیا جاتاہے اور بعض اوقات اگر معاملہ زیادہ بڑھا ہو تو رسماً متعلقہ تھانے میں رپورٹ بھی کروادی جاتی ہے۔

 اس جیل کے اندر ایک اسپتال بھی ہے ،جس کا کام بیمار قیدیوں کو علاج فراہم کرنا ہوتا ہے ،لیکن شاید ہی کوئی ایسا قیدی ہو جسے بروقت اور مناسب علاج مہیا کرایا جاتا ہو۔اگر آپ کبھی جیل میں موجود اسپتال کا دورہ کریں تو آپ کو ایسے بااثر قیدی نظر آئیں گے جن کو کوئی بیماری تو نہیں ہوتی ہے ،لیکن وہ جیل عملے کی عنایتوںاورمہربانیوںکی وجہ سے وہاں محض آرام کرنے کے لئے منتقل ہوتے ہیں کیو ں کہ ان کے اپنے بیرکوں کے مقابلہ انھیں یہاں زیادہ آرام ملتا ہے۔بعض اوقات کچھ بارسوخ قیدی جیل کے ڈاکٹر وںکو رشوت دے کر شہر کے کسی اسپتال میں منتقل کئے جانے کی سفارش کرا لیتے ہیں۔یہاںکے اسپتال میں کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے حالاں کہ تقریباً ہر جیل کی طرح ہی یہاںبھی خواتین کی اچھی خاصی تعدادموجود ہے۔تشویش ناک بات یہ بھی ہے کہ زیادہ تر جیل اسپتالوںکی مانندیہاںبھی ادویات سمیت طب کے بنیادی آلات موجود نہیں ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عام طور پر جیلوں میں صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

 یہاں قیدیوں کے لئے پڑھنے لکھنے اور انھیں مصروف رکھنے کے لئے مختلف چیزوں کا انتظام ہے، جن میں آرٹ کرافٹ،کڑھائی تنائی ،کمپیوٹر کی تعلیم اور گھریلو صنعت، لفافہ سازی ،کمبل ،دری وغیرہ بناناشامل ہے ۔یہاں لائبریری بھی ہے جس میں کتابوں کا اچھا خاصا ذخیرہ ہونے کے علاوہ اخبارات اور رسائل و جرائدبھی پابندی سے آتے ہیں ۔لیکن اتنی بڑی لائبریری میں ساری کتابیں انگلش اور ہندی میں ہی نظر آئیں یہ کتابیں زیادہ تر ادبیات اور مذہبیات کی تھیں ہندی میں کئی اسلام سے متعلق کتابیں بھی نظر آئیں ۔یہاں اسکول اور’ اگنو‘ کا سینٹر بھی ہے جس میں باضابطہ کلاسیں بھی ہوتی ہیں ۔یہاں کئی ایسے قیدیوں سے ہماری ملاقات ہوئی جنھوں نے جیل کے اندر ہی رہ کر گریجویشن اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کی ہیں ۔کئی لوگ کمپیوٹر پر کام کرتے نظر آئے ،پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ یہاں کئی ایسے دیہاتی جنھوں نے کمپیوٹر کا نام تک نہیں سنا تھا اس کے ذریعہ خوب کام کر لیتے ہیں، جیل کے سارے ڈیٹا بیس اور کمپیوٹر کا 
کام بھی یہی لوگ بہ حسن و خوبی انجام دیتے ہیں ۔
 یہاں پوجا پاٹ کے لئے مندر ،گرجا گھر اور عبادت کے لئے نماز خانہ کا بھی نظم ہے ۔جس میں تینوں مذہبوں کے رہنما پنڈت،پادری اور مولانا مقرر کئے جاتے ہیں ۔تمام ہی لوگوں کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق عبادت اور تہواروں میں خوشیاں منانے کی مکمل آزادی ہے ۔ایک مسلمان سپاہی سے یہ بات معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی کہ جیل کے نماز خانہ میں اچھی خاصی مسلمانوں کی تعداد عبادت کے لئے آ تی ہے، امام کی اقتدا میں پانچوں وقت کی نماز پابندی سے اداکی جاتی ،گشت اور تبلیغ کا بھی اہتمام ہوتا ہے اورہفتہ اور عیدین کی نماز کے لئے با ضاطہ شہر سے مولانا آتے ہیں جوخطبہ دیتے اور نماز پڑھاتے ہیں، قیدی مسلمانوں کی شرعی و فقہی رہنمائی بھی انھیں کے ذمہ ہوتی ہے ۔

 ہم نے دیکھا یہاں کھیتی باڑی اور کاشت کاری کا بھی معقول انتظام ہے ۔لمبے چوڑے قطعہ میں خوب ہرا بھرا اورکافی سر سبز و شاداب کھیت ہے۔ جس میں آلو، مکئی، ٹماٹر، شملہ مرچ،مٹرپھلی اور اس طرح کی دوسری کئی سبزیاں لگی تھیں ۔کئی قیدی کسان اپنے کام میں منہمک یعنی پانی بھرنے ،دوا ڈالنے،گھاس و خود رو پودوں کو اکھاڑنے اور کھیتوں کو ہموار کرنے میں مصروف تھے ۔ان کے چہروں سے کام کے تئیں بے زاری یا کسی بھی قسم کی بے چارگی بالکل بھی نظر نہیں آ رہی تھی ۔دیہاتی قیدی کسانوں کی اس ذمہ داری اور اپنے کام کے تئیں انہماک کو دیکھ کرجی خوش ہو اٹھا ۔اس جیل میں ہمیں مسلسل چاردنوں تک قیدیوںکے احوال جاننے کا موقع ملا ،اس دوران تقریبا دس قیدیوں سے ہماری بات چیت ہوئی اور ہم نے ان کا تفصیلی انٹرویو کیا۔ انٹرویوجیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اپنے موضوع سے متعلق ایک تحقیقی مقالہ کے لئے لیا گیا تھا ، اس لئے اس کا تفصیلی بیان یہاں مناسب نہیں، البتہ گفتگو کے دوران بعض قیدیوں سے ہونے والی ہماری دل چسپ بات چیت اورکچھ یاد گارواقعات کاتذکرہ ہم آگے ضرور کریں گے ۔

 رانچی کابرسامنڈاجیل عام قیدیوں کی میزبانی کے ساتھ ہی ساتھ سیاسی مہمانوں کوبھی نہایت فیاضی کے ساتھ ٹھہرنے کاموقع دے چکاہے۔ مدھوکوڑا کے علاوہ اس جیل میں اور بھی کئی معروف شخصیات اپنی بدنصیبی کے دن گذار چکے ہیں ،جن میں چارہ گھوٹالہ کیس میں بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو،کشمیری رہنما سید علی گیلانی،ان کے برادر نسبتی احمد شاہ ،موجودہ جھارکھنڈاسمبلی کے اسپیکر سی پی سنگھ اورریاست کے سابق وزیر اعلی شیبو سورین وغیرہ کے نام بہ طور خاص شامل ہیں ۔ روزنامہ ٹیلی گراف کلکتہ کی ایک رپورٹ کے مطابق25کروڑ کی لاگت سے بنے 40ایکڑزمین پر مشمل وسیع و عریض اس جیل میں 3215قیدیوں کے رہنے کی گنجائش ہے، جس میں فی الحال 3400قیدی بند ہیں ۔یہ جیل اپنی کئی خصوصیات کی وجہ سے بھی سرخیوں میں رہی ہے اور چوں کہ جھارکھنڈ کوماو نوازباغیوں کا علاقہ کہا جاتا ہے اس لئے یہاں آئے دن خوں خوارار اور خطرناک قسم کے قیدیوں کی آمدکاسلسلہ لگارہتا ہے۔گزشتہ دنوں انا ہزارے کی بدعنوانی مخالف تحریک میں یہاں کے قیدیوں کی کئی دنوں تک بھوک ہڑتال کی وجہ سے بھی اس جیل کا چرچارہا تھا ۔ 

 یہاں کے قیدیوں سے بات چیت میں جو چیز سب سے زیادہ ابھر کر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ’ انسان کو خواہ کتنا ہی غصہ کیوں نہ آئے اس پر قابو پانے کی کوشش کر نی چاہئے‘۔ بیش تر لوگوں کا کہنا تھا کاش! اس وقت ہم غصہ پر قابو پا لیتے تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ،بیش تر لوگ اپنے کئے پر نادم تھے اور اس کے خواہش مند کہ اگر ان کو ایک موقع مل جاتا تو وہ ایک نئی زندگی کا آغاز کرتے،اپنا آشیانہ سجاتے ،اچھی زندگی گذارتے اور ہر اس چیز سے دور رہتے جس سے انھیں کوئی خفت اٹھانی پڑتی ،گفتگو کے دوران بیش تر لوگ یہ کہتے نظر آئے کہ اللہ دشمنوں کو بھی یہ دن نہ دکھائے ۔ 


۔۔۔مزید

بدھ، 5 ستمبر، 2012

کالونیوں کومستقل کرنے کا فیصلہ یا مستقل سیاست کاحصہ



کالونیوں کومستقل کرنے کا فیصلہ یا مستقل سیاست کاحصہ  
محمد علم اللہ اصلاحی

 کافی شور ،ہنگامہ اور سیاست کے دوران آخر کار حکومت دہلی نے917 غیر قانونی کالونیوںکو مستقل کئے جانے کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی اس بات کی یقین دہانی بھی کرادی کہ 600 اور ایسی ہی کالونیاں جلد ہی منظور کی جا سکتی ہیں۔ ان کالونیوں میں رہنے والے 40 لاکھ لوگوں کی خوشی کا ٹھکانا نہیں کیونکہ اپنی زندگی کی ساری کمائی خرچ کر کے انہوں نے سر چھپانے کا ٹھکانا بنایاتھا۔ وزیر اعلی شیلا دکشت نے وزراءکے ساتھ میٹنگ کے بعد باضابطہ طور پر سرکاری اعلان کر دیا۔ اس دوران وزیر اعلی نے صاف کیا کہ کوئی بھی کالونی توڑی نہیں جائے گی۔ قانونی طور پر پکا کام کرنے سے ریگولیشن میں تاخیر ہوئی ہے تاہم اب عدالت میں یہ معاملہ نہیں جائے گا۔شیلا دکشت نے بتایا کہ اے ایس آئی اور محکمہ جنگلات کی زمےن پرکالونیوں کےلئے جو بھی تبدیلی کرنے پڑے وہ کئے جائیں گے اس کا وعدہ مرکزی وزیر شہری ترقیات کملناتھ نے کیا ہے ،ان کے بقول کا لونیاں پہلے آباد ہوئیں، جب کہ اے ایس آئی قانون بعد میں آیا ہے، اندرا گاندھی نے 612کالونیوں کو اسی طر ح مستقل کیا تھا، اس کے بعد راجیو گاندھی نے 400کالونیوں کو ترقیاتی کاموں کے لئے منظوری دی۔ اسی طرح ہم ان کالونیوں کا ریگولیشن کر رہے ہیں۔ غیر مجازکالونیوں کے ریگولیشن کی اطلاع نکلنے کے بعد جو بھی کام باقی ہیں انہیں جلد ہی مکمل کیا جائے گا۔ کالونی ریگولیشن کا اختیار حکومت دہلی کا ہے۔ نوٹیفکیشن کے بعد ایم سی ڈی ،ڈی ڈی اے ،پی ڈبلیو ڈی کوئی اڑنگا نہیں لگائے گا۔ ان کا کام ترقی امور کو انجام دینا ہے۔ شہری ترقی کی وزارت سے منظوری لے لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی پارٹی کہتی تھی کہ ریگولیشن نہیں ہوگا۔ ہم نے کر دیا ہے۔ کوئی دھوکہ نہیں دیا سب کچھ درست کرنے میں تاخیر ہوئی۔وزیر اعلی نے اس کے لئے ڈاکٹر اشوک کمار والیہ کا خاص طور پر شکریہ ادا کیااور کہا انہوں نے جس طرح کام کیا ہے اس میں میرا یقین ہے کہ اس پر اب کورٹ کا کوئی فیصلہ نہیں آئے گا۔اس درمیان وزیر اعلی نے یہ بھی کہا ہے کہ دہلی کی 45 بازابادکاری کالونیوں پر بھی مرکزی وزیر شہری ترقیات سے بات چیت کی گئی ہے۔ وزارت اصولی طور پر مالکانہ حق دینے پر متفق ہے۔جو بھی دقت ہے اس بارے میں مرکزی کابینہ کے سامنے تجویز لے کر جائیں گے۔ امید ہے ہمیں کامیابی ملے گی ۔

 اس میں کوئی شک نہیں چمچماتی سڑکیں، درجنوںفلائی اوور،آسمان کو چھوتی عمارتیں، بڑے بڑے مال، اسکول کالجوں اور ہسپتالوں کی بھر مار جیسی سہولیات کوشمار کر دہلی کو عالمی سطح کے شہر قرار دینے کی سرکاری کوشش جاری ہے۔ لیکن اس چمک دمک کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ شہر کی آدھی سے زیادہ آبادی یہاں کی غیر مجازکالونیوں، بازابادکاری کالونیوں اور جھگی جھونپڑیوں میں رہتی ہے۔ ابھی بھی ایسی کم از کم 600کالونیوں کو مستقل کیا جانا ہے ۔سال 2011 کی مردم شماری کے مطابق 1.67 کروڑ آبادی والے اس شہر میں اکیلے غیر مجازی کا لونیوں میں تقریبا 50 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔دہلی میں غیر قانونی کالونیوں کی بساوٹ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کی ابتدا آزادی کے ایک دہائی بعد ہی شروع ہو گئی تھی۔ دہائیوں سے ان کا استعمال ووٹ بینک کے طور ہوتا رہا۔ان کالونیوں کو باضابطہ کرنے کے وعدے کر، حکومتیں ووٹ بٹورتی آئی ہیں۔لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ان کالونیوں کو کب مستقل کیا جائے گا۔ ظاہری طور پر بھی شہر کی سیاست میں ان کا نایاب کردار رہا ہے۔راجدھانی کے منصوبہ بند ترقی کے لئے سال 1957 میں دہلی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کی تشکیل کی گئی۔ لیکن اس وقت تک کافی تعداد میں غیر قانونی کالونیاں بس چکی تھیں۔اس بات کی تصدیق کے لئے مرکزی حکومت کے اس فیصلے کو یاد کیا جا سکتا ہے جب سال 1962-63 میں شہر کی 103 کالونیاں کو پہلی بار مستقل کرنے کا اعلان کیا گیا۔ نئی نئی غیر مجاز کالونیاں کا بسنا جاری رہا اور سن 1977 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی ہدایت پر کالونیوں کو مستقل کیا گیا۔

 یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ابھی بھی 1639کالونیوں میں سے600 کالونیاں غیر مجازی ہیں جنہیں مستقل کیا جانا ہے۔یہ تعداد تھوڑی موڑی نہیں ہے۔ یہاں پر اتنی بڑی تعداد میں دہلی میں غیر قانونی کالونیاںکیوں بس گئیں اور انہیں بسانے والے کون لوگ تھے، یہ بھی جاننا ضروری ہے۔ اسکیموںکی اور سیاسی ماہرین کی مانیں، تو پہلی بات یہ تھی کہ مکانوں کے معاملے میں مانگ اور سپلائی کا اصول لاگو ہوا۔ڈی ڈی اے بڑھتی ہوئی آبادی کے قابل مکان بنانے میں ناکام رہا۔ دوسری جانب روزی روزگار اور بہتر مستقبل کی تلاش میں بہار، اتر پردیش، اڑیسہ، راجستھان، ہریانہ سمیت دیگر صوبوں کے لوگ آ کر دہلی میں بستے چلے گئے۔غیر مجاز کالونیاں کو بسانے میں شہر کے زمین مافیا نے بھی اہم کردار ادا کیا اور ووٹوں کے لالچ میں رہنماو ¿ں نے بھی ان سے رابطہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیڈروں کے لئے کالونیوں کے لوگ مستقل طور پر ووٹ بینک بن گئے جبکہ مافیا نے کالونیاں کاٹ کاٹ کر اربوں روپے کی جائیداد بنا لی۔لیڈروں کی شہ پر مافیا نے ڈی ڈی اے اے ایس آئی (ہندوستانی آثار قدیمہ سروے)، محکمہ جنگلات، ریلوے سمیت مختلف سرکاری محکموں کی خالی پڑی زمینوں پر بھی راتوں رات کالونیاں بنوا دیں۔ آج بھی دہلی کی تقریبا دو سو غیر قانونی کالونیاں محکمہ جنگلات اوراے ایس آئی کی زمین پر آباد ہیں۔غیر قانونی کالونیوں کے بننے میں یہاں کی مقامی سیاست کا بڑا تعاون رہا۔ خاص طور پر سال 1993 میں دہلی میں ریاستی حکومت کے قیام کے بعد اس معاملے میں سیاست نے مزید زور پکڑا۔ غیر سرکاری تنظیم کامن کاز اس معاملے کو لے کر دہلی ہائی کورٹ پہنچی اور عدالتی کارروائی کی سماعت کے دوران ایک موقع وہ بھی آیا جب اگست، 1998 میں دہلی کے اس وقت کے وزیر اعلی صاحب سنگھ ورما خود ہی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ سال 1998 کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو شکست دے کر کانگریس نے شیلا دکشت کی قیادت میں دہلی میں اپنی حکومت بنائی۔ اس کے بعد سے غیر قانونی کالونیوںکے مستقل کئے جانے کی بحث اور تیز ہو گئی کیونکہ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ کانگریس کو اقتدار دلانے میں اس وقت مہنگائی کا کردار تو تھی ہی لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس وقت ان غیر مجاز کالونیوںو میں رہنے والوں نے بھی کانگریس کے حق میں جم کر ووٹ دیا۔ اس وقت تک شہر میں غیر قانونی کالونیوں کی تعداد 1071 تک ہی محدود تھی۔ دس سال بیت گئے، اس دوران کانگریس نے ایک اور اسمبلی انتخابات بھی جیت لیا، کالونیوں کی تعداد 1071 سے بڑھ کر 1639 ہو گئی لیکن ایک بھی کالونی باقاعدہ نہیں کی جا سکی۔ البتہ، ان کالونیوں میں بجلی، پانی، سڑک وغیرہ کی سہولیات ضرور بحال کر دی گئی۔سال 2008 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی حلقوں میں یہ بحث بہت گرم تھی کہ بی جے پی اس الیکشن میں کانگریس کو شکست دے گی۔ لیکن انتخابات کے تقریبا دو ماہ پہلے ستمبر، 2008 میں ریاست کی کانگریس حکومت نے مرکزی حکومت کے تعاون سے شہر کی تقریبا 1200 کالونیوںکو مستقل کئے جانے کا عارضی اسناد تقسیم کرنے کا اعلان کیا اور متحدہ ترقی پسند اتحاد کی سربراہ سونیا گاندھی کے ہاتھوں یہ اسناد بٹوا بھی دیے گئے۔

 سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ شکست کی بحث کے درمیان بھی اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی جیت کی یہ سب سے بڑی وجہ تھی۔کیونکہ یہ پہلا موقع تھا جب ان غیر مجازکالونیوںکے حق میںکوئی سرکاری دستاویزہاتھ آ گیا۔شاید اسی وجہ سے اب کی بی جے پی نے بھی موقع ہاتھ سے نہ گنوا تے ہوئے لفظی حملہ شروع کردیا۔ دہلی حکومت کی جانب سے 917 غیر قانونی بستیوں کو ریاستی انتخابات کے قریب آنے کی وجہ سے جلدی میں کیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن نے کہا کہ مستقل کئے جانے کے ساتھ ہی ساتھ زمین کے استعمال میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی جنرل سکریٹری وجے گوئل نے کہا کہ ان بستیوں کو بہت پہلے ہی مستقل ہو جانا چاہئے تھا۔ انتخابات سے ایک بار پھر پہلے ان بستیوں کو مستقل کرنے کے اعلان کا حشر سال 2008 کے اسمبلی انتخابات سے قبل عارضی سند فراہم کرنے والا نہیں ہو۔ اگر حکومت نے یہ فیصلہ اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر لیا ہے تو یہ ایک بار پھر چالیس لاکھ لوگوں کے ساتھ دھوکہ ہوگا۔ اس لئے حکومت کو چاہیے کہ سب حقائق کی پختہ تفتیش کے بعد ہی لوگوں کو خواب دکھائے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان بستیوں کی رےزےڈنٹ ویلفیئر اےسوسی ایشن کو اعتماد میں لے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کی بابت ا]نا رخ واضح کرے۔انہوں نے کہا کہ 1218 میں سے 917 بستیوں کو باقاعدگی سے کیا جا رہا ہے تو باقی 301 بستیوں کا کیا ہوگا۔ گوئل نے کہا کہ اچھا ہوتا حکومت 6 ستمبر کو ہائی کورٹ میں غیر قانونی بستیوں کی سماعت کا انتظار کر لیتی۔حکومت تو یہ دکھانے میں لگی ہے کہ عدالت نے روک دیا ہم تو بستیوں کو باقاعدہ کرنا چاہتے ہیں۔ 

 معاملہ جو بھی ہو کانگریس نے خواہ یہ فیصلہ الیکشن میں ووٹروں کو لبھانے کے لئے لیا ہو یا اس کے پس پردہ دہلی کی تصویرمیںتبدیلی حقیقی معنوںمیں مقصود ہو، یہ فیصلہ بہرحال ناکوں چنے چبانے جیسا ہے ،اس لئے کہ کسی بھی کالونی کو کسی ریاست میں محض قانونی طور پر تسلیم کر لینے سے معاملہ حل نہیں ہو جاتا بلکہ اس کے پیچھے اور بھی بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں جن میں،علاقہ کی حفاظت ،نظم ونسق سے لیکر جملہ ضروریات زندگی کا بہتر ڈھنگ سے مہیا کرانا بھی شامل ہوتا ہے اور شاید حکومت اسی وجہ سے اب تک بچتی رہی تھی۔ویسے بھی جن علاقوں کو پہلے سے مستقل کیا گیا تھا وہیں بنیادی سہولیات کا فقدان تھا ۔کالونی میں بجلی، پانی، سڑک جیسی بنیادی خدمات تک نہیں ہیں ۔ اس کے علاوہ ہائی ٹےشن تاربعض علاقوں کے اوپر سے گزر رہے ہیں جس کی وجہ سے مسلسل حادثہ کاخطرہ موجودہے۔علاقائی منتظمین ہمیشہ تنگ دامنی کا شکار رہتی ہیں۔ ہمیشہ یہ شکایت رہتی ہے کہ فنڈ ملتا نہیں کام کس طرح کرائیں۔کچی کالونیوں والے علاقوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ فنڈ ملتا ہی نہیں کام کیسے کرائیں۔ان کے کاموں کی فائلیں ایک جگہ سے دوسری جگہ آفسوں کا چکر لگاتی رہتی ہیں، ابھی بھی جمنا ندی کے کنارے بسی کالونیاں جن میں مسلم اکثریتی والا علاقہ اوکھلاکاشاہین باغ،ابولفضل،طوبی کالونی،ذاکر نگر کے علاوہ عثمان پور،گڈھی مانڈو،بھجن پورا،سبھاش وہار اورملن گارڈن چوہان پٹی وغیرہ شامل ہیں، نئے پلان کے تحت دریا کی زمین کے دائرے میں آ گئی ہیں۔ ان کالونیوں میں مکانوں کے نقشے پاس نہیں ہوتے اور آبادی بڑھتی جا رہی ہے ۔اوکھلا جیسے جن علاقوں میں کچھ کالونیوں کو مستقل کیا گیا ہے ان میں میں سڑک، سیور پانی، پارک، اسپتال اور بسیں وغیرہ انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں ہے۔حکومت اس جانب بھی توجہ دے گی یا نہیں کچھ کہنا مشکل ہے ۔پھر ان علاقوں کو جن کو مستقل کیا گیا ہے ان کے مکین اب اپنے گھر کا نقشہ پاس کروا سکیں گے؟،کیا ا ن کالونیوںکے باشندے اب قانونی طور پر رجسٹری کرا کر زمین اور مکان کی خریدو فروخت کر سکیں گے؟،کیا بینک اور دیگر مالیاتی ادارے ان کالونیوں میں مکان، زمین اور دکانوں کو خریدنے اور تعمیر کرنے لے لئے لون دینا شروع کر دیں گے؟کیا دہلی حکومت ان تمام 917 کالونیوں کا ’اسٹیٹس پیپر‘ جاری کرے گی؟یہ ایک الگ مسئلہ ہے ۔ 
رابطہ کا پتہ :۔
alamislahi@gmail.com

۔۔۔مزید

سوموار، 3 ستمبر، 2012

پیچھے چھوٹتا گاؤں اور چکا چوند میں بھٹکتے نوجوان



محمد علم اللہ اصلاحی
آدمی سکون کی تلاش میں کتنی ہی دور کیوں نہ چلا جائے آخر کار لوٹ کر اپنے احباب کی طرف ہی آتا ہے ۔اپنے پرانے دنوں کے بارے میں سوچ کر اور اپنے اس بچپن کی زندگی کو یاد کر کے ذرا خوش ہو لیتا ہے لیکن پھر وہی شام ،وہی رات اوروہی تنہائی ہوتی ہے ۔ مجھے یہاں آنے سے پہلے معلوم تھا کہ پر دیس میں لوگوں کا کیا حال ہوتا ہے ۔اسی وجہ سے جب یہاں سے کوئی گھر جاتا تو میں اس سے کچھ پوچھوں یا نہ پوچھوں یہ ضرور پوچھتاکہ وہاںکیسا لگتا ہے، یہ میں اس سے صرف اس کی دلی کیفیات معلوم کرنے کے لئے پوچھتا تھا اورنتیجہ صد فی صد یہی نکلتا تھا کہ وطن سے باہر سب کچھ ہے لیکن سکون نہیں ہے ۔اور آج میںخود اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ۔ہاں اگر سکون پیسے کو کہتے ہیں تو یقینا سکون یہاں حاصل ہے لیکن میں اس کا ہمیشہ سے مخالف رہا ہوں ۔میں یہ نہیں کہتا کہ پیسے کے بغیر آدمی خوش رہتا ہے ،پیسہ بھی ایک ضروری شئے ہے جینے کے لئے لیکن سب کچھ اسی کو سمجھ لینا کہاں کی عقلمندی ہے؟ ۔ یار !حقیقت میں آرام کس کو کہتے ہیں یہ وہی بتا سکتا ہے جو رات کی تنہائی میں آرام سے مٹی کے بنے مکان کے چھپر کے نیچے کھٹیے پر لیٹا ہو اور بارش کی بوندیں کانوں میں رس گھول رہی ہوں ۔حقیت میں سکون وہی ہے اور زندگی کا اصل مزا اسی میں ہے کہ ماں باپ ،بھائی بہن اور دوست احباب سب آنکھوں کے سامنے ہوں“۔یہ میرے ایک دوست عارف حبیب کے خیالات ہیں جسے انھوں نے دبئی جانے کے بعد مجھے ایک میل کے ذریعہ بھیجا ہے ۔

اپنے دوست کی یہ تحریر پرھ کر میں اپنے آنسووں کو ضبط نہیں کر سکا اور سچ پوچھئے تو اسی وقت میرے کانوں میں میرے ایک قریبی بزرگ کا یہ فقرہ گردش کرنے لگا جب انھوں نے مجھے چھٹی میں مصروفیت کا بہانہ کرکے اپنے گاں ناجانے کی مجبوری ظاہر کرنے پر ہنستے ہوئے کہا تھا ”میاں! بڑے بڑے طرم خاں گاؤں میں ہی پیدا ہوئے، بہت اونچے تک اڑے، آخر کار گاشں میں ہی آکر پناہ لینی پڑی“ ۔واقعی بزرگ کا کہنا اپنی جگہ پر بالکل درست تھا ،صحیح معنوں میں اگر دیکھا جائے تو آج بھی بہت سے لوگ دہلی ،ممبئی میں بھلے رہتے ہوں،اگر ان کے قلم میں گاؤں کا رنگ نا ہو توتحریر پھیکی سی لگتی ہے۔کئی مرتبہ دل بہلانے کے لئے بہت سے کام مجبوری میں کرنے پڑتے ہیں۔ افسوس کہ جو ہماری ذمہ داری کا حصہ ہے، وہی اداکاری کے مندرجات بنتی جا رہی ہے۔کئی ماں باپ تو بیچارے اپنے بچوں کی اداکاری سے ہی اپنا جی بہلا کر زندہ رہتے ہیں۔ بوڑھے لوگ شہر میںجا بسے اس جواں نسل کی واپسی کے لئے اپنے باپ دادا کی پراپرٹی کے حقوق کا کیالالچ دیں گے یا طمع پیدا کریں گے یہ نسل تو پہلے سے ہی لاکھوں کے پیکیج میں الجھ گئی ہے، جب ان کے والدین پڑھائی لکھائی کے وقت پیسے دے کر بسوںاور ٹرینوں سے رخصت کرنے جایا کرتے تھے ،وہ ان کی ہر تکلیف کا خیال رکھتے تھے لیکن ہم سب بھول گئے۔

سنیما اور کتابوں میں گاؤں کی ساکھ بھلے ہی گھٹتی بڑھتی رہی ہو،لیکن شہری زندگی جینے والے نوجوانوں کے دل میں گاؤں اور وہاں کی یاد ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔تب وہ چاہے شہر میںٹھہرے ہوں یا گاؤں میں ہی جمے ہوئے ہوں۔ یہ تو وقت کی کروٹ اور گردش ہی ہے جو تمام ہم عمر کے نوجوانوں کے ان زندہ نقوش کو بھی مٹانے میں لگی ہے۔ بے چاروں کو مصروفیت ہی اتنا گھیرے رکھتی ہے کہ انھیں ماں باپ سے ملنے تک کی فرصت نہیں۔ہمارے کئی ساتھی تو ان لہروں کی اٹھان کو ایک نظر دیکھنا تک گوارا نہیں کرتے۔ چھٹیاں گزارنے گاؤں آئے ایک نوجوان کی کہانی اکثرگاؤں میں رہنے والے دوجے نوجوان کی کہانی سے میل کھاتی ہے۔د یہات میں پلے بڑھے اور اب شہر میں جاٹھہرے صاحبزادوں کو کون سمجھائے کہ جائے پیدائش کیا ہوتی ہے جسے ہم عبور کرتے ہوئے بہت آگے چلے گئے ہیں۔کس میں ہمت ہے جو بیٹھ کر ان راہ بھٹکے دوستوں کو راستہ دکھا دے۔

کاش یہ جوان آنکھیں سمجھ پاتیں کہ کیوں گاؤں سے شہر کی واپسی پر ماںباپ کا منہ روہا نسا ہو جاتا ہے۔ وہ آخر تک کچھ باتیں یاد دلاتے رہتے ہیں۔ہم گاڑی اسٹارٹ کر کے آگے بڑھنے کے انتظار میں ریس پر ہاتھ رکھے رہتے ہیں۔ہکارے بھرتے ہوئے آخرہم انتہائی جدید اولاد آگے بڑھ ہی جاتے ہیں۔ اور اس سفر میں پھر سے ایک بار نہ صرف گاؤں پیچھے چھوٹتا ہے بلکہ حال زندگی ،زندہ ماں باپ ،رشتے ناطے ،دوست احباب سب چھوٹ جاتے ہیں۔ بوڑھے ماں باپ وہاں اپنا سارا وقت ہم ناچیز وں پر خرچ کرتے ہیں۔ اور ادھر ہم بے مطلب کی چیزوں میں الجھ جاتے ہیں،اور حالات رشتوں تک کا تعاقب نہیںکر پاتے ہیں۔ عجیب زندگی ہے کبھی کبھی اپنے آپ پر بہت ترس آتا ہے۔خود کو ہی کٹہرے ے میں کھڑا پاتے ہیں۔ خود کو سزا دینے کی بات سوچتے ہی ہیں کہ اچانک اسی شہر کا کوئی ضروری کام یاد آ جاتا ہے۔ کوئی نئی سیمناریں آواز لگاتی ہیں، پریس کانفرنسیںبلاتی ہیں یا دوستوں کے ساتھ شامیں۔ جہاں ہم چائے پینے کے علاو کبھی کچھ مثبت کام شاید ہی کر پاتے ہیں۔

ہم اپنے ضروری کاموں کی فہرست میں وقت نکال کر گاؤں فون لگانا یا کہ پھر گاؤں کو اپنے خیالات کے مرکز میں لانا کبھی کبھار ہی شامل کر پاتے ہیں۔ اس دوڑ میں ہم بھول جاتے ہیں کہ بوڑھے والد صاحب کیسے آٹا پسانے کے لئے چکی لاتے لے جاتے ہوں گے۔کیسے چار دن تک نل کے پانی نہ آنے پر دور پانی کی خاطر پیدل جاتے ہوں گے۔ مہینہ ختم ہوتے ہی اگر تنخواہ وقت پرنہ ملی تب بھی دوسروں سے قرض لیکر ہمارے اکاونٹ میں روپئے ڈالنے کے لئے رم جھم بارش، شدید دھوپ کی تپش اور لوگوں کی دھکا مکی سب برداشت کرتے ہوئے لمبی لائن میں دیر تک کھڑے رہتے ہونگے۔ماں گھر میں گیس سلینڈر ختم ہو جانے پر لکڑی کے چولھے میں دھواں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہونے کے باوجود کھانا بناتی ہوگی ۔ہمیں لگتا ہے کہ ان کے پا س کو ئی مصروفیت نہیں ہوتی ہے۔اور ہم ادھر کتنے مصروف ہیں، ہمارے پاس خرچ کرنے کو اتنا وقت بھی نہیں کہ ہم اطمینان سے اپنی جائے پیدائش کو یاد کر سکیں۔گندگی میں لت پت رہنے پر بھی گلے لگا لینے والی اس ماں سے ٹھیک سے بات کر سکیں۔ اگر ماں ہے اس وقت تک تو اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے، افسوس یہ پکی بات ہے کہ بعد کے سالوں میں کتنے ہی سرپیٹ لو ہاتھ کچھ نہیں آنے والا، جب ماں نہیں رہے گی۔

یہ کسی ماضی کی بحث کی جگالی نہیں بلکہ ماضی کے احساس کے خیال کا حصہ ہے۔ والد صاحب کی آنکھوں کے آگے کیریئر میں بڑھتے ہوئے بچے جانے کب آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں، اس کے پیچھے کی اصل وجوہات اور بعد کے نتائج جیسے موضوع آج کی تحقیقی مرکز ہو چلے ہیں۔ اس پورے کھیل میں والد صاحب کو فریب دینا سیکھ چکی ہماری نوجوان نسل خود دل ہی دل میں جانتی ہے۔تمام ہتھکنڈوں کے ساتھ وہ شہر میں اپنی ذاتی پل بتاتے ہوئے اکیلے پڑ جانے کے خطرے کی طرف بڑھے جا رہی ہے۔اس پورے دور میں پتہ نہیں چلتا کب اپنے سے بڑوں کو ہم الگ تھلگ کر ڈالتے ہیں۔ادھر ماں باپ یہ سوچ کر ہی حیران ہوتے ہیں کہ آج ان جوان بچوں کی اپنی ترجیحات کی فہرست میں بہت سی ضروری چیزیں غائب ہوتی جا رہی ہیں، مثلا مذہب، اخلاقیات، سچائی، محبت، پیار، خدمت، عزت ایسی تمام پرتیں جلد سے چرم روگ کے اثرات کی طرح ساتھ چھوڑتی جا رہی ہیں۔ اصل میں یہ انفیکشن کا دور ہے جس کے اثرات سے ہر رشتہ متاثر ہو چکا ہے۔

آج کی نسل جو نباتات سے بنے گھی پر زندہ ہے۔ جہاں ملاوٹ اور بازاری مصنوعات کی افراط ہے، نظریات کے نام پرآلودگی میں لپٹا علم گنگا سے لبرےزہے۔ بڑی ہی تکلیف دہ وقت ہے، ہم یہاں نوجوانوں کو سرے سے خارج نہیں کررہے ہیں، بلکہ نوجوان جماعت کے دماغ میں جمنے والے فرسودہ خیالات کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ ویسے ہی کام کی تلاش میں پھنسا نوجوان اپنے لئے ہی وقت نہیں جٹا پاتا، پھر بھلا وہ اپنے ایک خاندان کے لئے فرصت کے لمحات نکالے بہت ہے ۔یہ سماج اس کا شکر گزار رہے گا۔اگر ہم بہت پیچھے چھوٹ گئے اپنے گاؤں کو یاد کر پائیں گے ۔یہاں گاؤں ایک علامت بھی ہو سکتا ہے جو اس کے ماضی سے متعلق ہو، جہاں اس کی زندگی کے پروان چڑھتے ،تتلاتے بڑھنے کے دن گزر رہے تھے۔ اپنے ماضی کو اس حد تک آج کی نسل بھلا سکتی ہے کہ جس میں ماں باپ تک بھی شامل ہو جائیں صرف سوچنے سے ہی بھیانک لگتا ہے۔ 

اب صرف حیلہ تلاشے اوربہانے گڑھے جائیں گے کہ کام، کاروبار، گھر، خاندان دوستی، سفر جیسی سب باتیں۔ ارے دوستو !ان بزرگوں کو ہم ناتجربہ کار کیا بتلانے چلیں، انہوں نے دنیا دیکھی ہے۔وہ آپ کی آنکھ دیکھے بغیر ہی ماجرا بھانپ لینے کی مہارت رکھتے ہیں۔ اپنی نظر میں انہیں بیچارے مان لینے والے ہم نوجوان ساتھی صحیح معنوں میں آج بہت غریب ہو چلے ہیں۔ بھلے وہ بوڑھے ہمارے اورآپ کے اس نئے فریب کے قریب قریب شکل والی اصطلاحات سے انجانے ہوں، مگر زبان کی فریب پن اور چالاکیاں وہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ سچ مانیں وہ ہماری اور آپ کی ا ن غلط بیانیوںپر بھی چپ رہ کرسب کچھ برداشت کریں گے۔ان کے سہنے کی طاقت کا اندازہ ہم نوجوان نسل کو بھلا کہاں۔ میں بھی اسی ذات کا حصہ ہوں، جہاں گنی چنی کچھ نئی باتوں میں پھنسا اپنے والدین کو الجھا آتا ہوں کئی مرتبہ بہانے کم پڑ جاتے ہیں، جب ماں بار بار گاؤں نہیں آ پانے کی وجہ پوچھتی ہیں۔ہم بہت برے پھنسے ہوئے لوگ ہیں۔ نہ آگے بڑھنے کے نہ پیچھے جانے کے۔یہ بیماری خاص طور پر متوسط طبقہ کے نوجوانوں کے ساتھ مزید فٹ بیٹھتی ہے باقی امیر زادوں کی مجھے نہیں معلوم۔


۔۔۔مزید

ہفتہ، 1 ستمبر، 2012

طلبا میں خودکشی کا بڑھتا رجحان: ذمہ دار کون ؟



 طلبا میں خود کشی کا بڑھتا رجحان :ڈمہ دار کون ؟

محمد علم اللہ اصلاحی

آج کاہر نوجوان حوصلہ مند بھی ہے اور جواں مرد بھی ،یہ دعویٰ کرناتھوڑا مشکل ہے۔ فی زمانہ چونکہ تمام جانب مقابلہ آرائی کا رجحان عام ہو چکا ہے اورتعلیم سے روزگار تک کے حصول کے سفر میں انہیں سخت آزمائش سے دو چار ہونا پڑتا ہے،لہٰذاانہیں ہونے والی دشواریوںکی وجہ سے بسااوقات ذہنی خلجان مستعارلیناپڑجاتاہے۔اور یوں الجھنوں میں گھراآج کے نواجوانوںکا ایک بڑا طبقہ نفسیاتی مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ہمت اور حوصلہ جواب دے جاتاہے تو ایسی جماعت سے تعلق رکھنے والی نئی نسل کانمائندہ فردانجام کارخودکشی کے ذریعہ اپنی زندگی کاقصہ ہی تمام کر لیتا ہے۔در اصل ناکامیوں کو برداشت نہ کرنے والوں کیلئے خود کشی پر مجبور ہوجانا واحد متبادل بن جاتا ہے ۔ سنہرے خوابوں اور قیمتی زندگی کا خاتمہ گوکہ کوئی بھی خوشی سے نہیں کرے گامگر یہ رجحان کیوں پنپ رہاہے،یہ ایک قابل غور سوال ضرور ہے۔اگرکوئی خود کشی جیسا بڑا قدم اٹھاتاہے یااس کی کوشش بھی کرتا ہے تو اس کے پیچھے اس کی کوئی بہت بڑی مجبوری یا وجہ ضرور رہتی ہے۔کچھ عرصہ پہلے تک جب انفرادی زندگی کا سفر اتنا پیچیدہ نہیں تھا، انسان کی خواہشیں اور ضروریات بھی محدود تھیں تب خود کشی جیسے معاملات کم ہی دیکھنے کو ملتے تھے لیکن گزشتہ چند برسوں میں زندگی کی پریشانیوں سے تنگ آکر انتہائی قدم اٹھانے کارجحان بہت زیادہ بڑھا ہے۔یوں تو یہ اضافہ پوری دنیا میں ہوا ہے لیکن سب سے زیادہ اضافہ ہمارے ملک ہندوستان میں ہی ہوا ہے جس کا اندازہ ملک کے عام باشندوں کے ساتھ ساتھ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے افراد کو بھی ہے،جس کا اظہاران کی فکرمند یوں سے ہوتا رہتا ہے ۔


ابھی حال ہی میں اس قسم کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس نے ملک کے ہر سنجیدہ طبقہ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے اور اس سے بچا کی خاطر کیا تدابیر اختیار کئے جا سکتے ہیں ۔یہ بات یقینا افسوس اور تشویش کا باعث ہے کہ ہمارے ملک میں گزشتہ دو سالوں میں860 5طلبا ءنے خود کش کی ہے۔یہ معلومات مرکزی انسانی وسائل کی ترقی ریاستی وزیر ڈاکٹر پورن دیشوری نے گزشتہ دنوں راجیہ سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں فراہم کیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا کہ قومی جرم ریکارڈ ذرائع کے دستاویزات کے مطابق 2010  اور 2011 میں479 2 خود کشی کرنے کی کئی وجوہات ہو سکتے ہیں، جیسے گھر کی اقتصادی پریشانی، دوستو کی طرف سے ناروا سلوک، محبت میں ناکامی یا محبوب کاساتھ چھوڑجانا، ماں باپ سے ناراض گی، امتحان میں فیل ہونا، بے روزگاری، قرض کا بوجھ وغیرہ۔ یہ ساری باتیں ہمارے سماج میں نئی تو نہیں ہےں۔ ایسی پریشانی پہلے بھی لوگو ںکولاحق ہوتی تھی، لیکن اب ایسا کیا نیا ہے، جو نوجوانوں کواندرسے کمزور بنا رہا ہے،ایسا کیا ہو جاتا ہے کہ ان کے اندر جینے کی چاہت ختم ہو جاتی ہے۔ہندوستان میں شرح خواندگی پہلے ہی تشویشناک ہے، اس پر ایسے افسوس ناک واقعات سے تعلیم کے فروغ پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔کسان سمیت طالب علموں کے درمیان بڑھتے اس رجحان پر اس سے قبل بھی گفتگو ہوتی رہی ہے لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا ہے ۔اس لئے بھی ملک کے سنجیدہ افراد اس معاملہ کو لیکر تشویش میں مبتلا ہیں ۔

یہ حیرت انگیز بات ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ خود کشی میٹرو سٹی دہلی میں ہوئی ہے۔اسی طرح اگر بڑے اداروں کی بات کریں تو ملک بھر میں آئی آئی ٹی سمیت کئی دیگر انجینئرنگ اور میڈیکل کالجوں میں طلبا کے ذریعہ خود کشی کرنے کی شرح زیادہ ہے۔تعلیم کی سطح پر کافی اعلی درجے کی ریاستوں جیسے تمل ناڈو، کیرالا، آندھرا پردیش، کرناٹک، مغربی بنگال اور مہاراشٹر میں خود کشی کے واقعات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ ان پانچ ریاستوں میں ہونے والی خودکشیاں ملک میں ہونے والی کل خودکشیوں کا 57.2 فیصد ہے۔ملک کی موجودہ سماجی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی حالت کچھ ایسی ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے طلباءکی پوشیدہ سلاحیتیں ابھر نہیں پا رہی ہیں۔وہ طلباءجو کل کو نیوٹن، کوئی اسنسٹائنبن، گاندھی ، ٹیگور ،علامہ اقبال ،علی جوہر اور نہ جانے کیابن سکتے تھے، اگر خود کشی سے ہار نہ مانتے، لیکن حکومت کو اس کی پرواہ نہیں ہے۔اس نے ابھی تک اس معاملہ میں کوئی بھی سنجیدہ قدم نہیں اٹھائی ہے اور نہ ہی اس کے وجوہات جان کراس رجحان پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔حالانکہ ہندوستان کو نوجوانوں کی طاقت کا ملک کہا جاتا ہے، جہاں 65 فیصد آبادی 35 سال سے کم عمر کی ہے۔رجسٹرار جنرل آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق03 2001- کے درمیان پندرہ سال کے ارد گرد کی عمر کے صرف تین فیصد لوگوں کی موت کا سبب خود کشی تھی، جبکہ 2010 میں 15-29 سال کی عمر کے 1,87,000افراد نے خودکشی کی ، جو ملک میں ہونے والی کل خودکشیوں کا 40 فیصد ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق2010 میں ہندوستان میں ایک لاکھ 90 ہزار لوگوں نے خود کشی کی اور دنیا بھر میں ہر سال تقریبا ایک ملین افراد خودکشی کرتے ہیں۔ 2009 میں کئے گئے ایک تحقیق کے مطابق ہمارے ملک میں روزانہ 300 افراد خود کشی کرتے ہیں یعنی ہر گھنٹے 14 اور ہر پانچ منٹ پر ایک خود کشی۔تقریبا 4 لاکھ افراد ہر سال خود کشی کی کوشش میں ناکام رہتے ہیں یعنی فی دن 1100، فی گھنٹہ 46 اور ہر تین منٹ پر دو لوگ خود کشی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کوشش میں وہ ملک کی معیشت کو جانے انجانے میںبھاری نقصان پہنچاتے ہیں

یہ انتہائی تشویش کا موضوع ہے جو لوگ ملک کی ترقی کے اگروارث بن سکتے ہیں، وہ زندگی کی پیچیدگیوں کی وجہ سے اپنی جان دینے پر آمادہ ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے والے ان نوجوانوں کو آخر ایسی کون سے حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو انہیں اس بات پر مجبور کر رہی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے دیا کو ہی ہمیشہ کے لئے گل کر دیں ۔آخر کیا وجہ ہے کہ ملک کے مستقبل کو ایسا قدم اٹھانا پڑ رہا ہے، جو موت کے راستے کو جاتا ہے، آخر زندگی کوخوبصورت بنانے کی جدوجہد لگے یہ نوجوان زندگی سے ہی نقل مکانی کا راستہ کیوں منتخب کر رہے ہیں۔اس پر ماہرین کا کہنا ہے کہ سماجی استحصال، انٹرنیٹ ،موبائل فون کا زیادہ استعمال ان واقعات کی اہم وجہ ہے۔ساتھ ہی انھوں نے اس بات کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جو کسی بھی صورت میں کامیاب ہونے کےلئے اپنی اولادوں پردباو ڈالتے ہیں۔بظاہر اداروں کا جواب اصل واقعہ کی وجہ بتانے میں ناکام ہے اور طلباءکی ضروریات و احساسات کو سمجھ بھی نہیں پائے ہیں، ان کا جواب اس بات کا ثبوت بلکہ گواہ ہے ۔ایک سروے کے مطابق تعلیمی ادارے میںخود کشی کے واقعات میں دلت قبائلی طلباءکا تناسب زیادہ ہے اور کہیں نہ کہیں یہ اشارہ ملتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں بھی دلتوںکے ساتھ تفریق موجودہے۔یہ سبھی جانتے ہیں کہ گزشتہ ایک دہائی سے خود کشی کے اعداد و شمار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، مگر مذکورہ اعداد و شمار ایوان میں بیٹھے لوگوں کے لئے خاص فکر کا موضوع نہیں بن رہا ہے۔ ایک آدھ بار اس سماجی مسئلے پرغور کیا بھی گیا لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔

کاش ہمارے منتظمین کی سمجھ میں یہ بات آتی کہ خود کشی کی مار صرف خاندان والے ہی نہیں جھےلتے، بلکہ یہ ملک کے لئے بھی ایک مسئلہ ہے۔آخر ہمارے سماج کے تانے بانے میں کیا کمی ہے جو لوگ زندگی کو جینے کے بجائے زندگی کا دیا گل کر رہے ہیں۔ایسے رجحان کا ذمہ دار کون ہے؟ سماج جہاں ناکام لوگوں کو بری طرح مسترد کرتاہے، کامیابی کو سماجی وقار سے جوڑ کر دیکھتا ہے خود کشی کرنے والے وہ لوگ جو زندگی سے جدوجہد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں،اس کا جواب کسی کو تو دینا ہی ہوگا ۔ایک طرف ملک میں لاکھوں کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوتا ہے، وہیں دوسری طرف وسائل کی کمی کی وجہ سے لاکھوں لوگ موت کو گلے لگانے کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں۔گزشتہ 5 برسوں میں تقریبا 5 لاکھ کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا۔ یہی نہیں، تقریبا 20 لاکھ کروڑ روپے کالے دھن کے طور پر غیر ملکی بینکوں میں جمع ہیں۔ اگر اس رقم کے کچھ حصہ کا استعمال خود کشی کو روکنے یا خود کشی کی کوشش کرنے کے بعد بچ گئے لوگوں کی زندگی سنوارنے میں کیا جاتا تو تصویر کچھ اور ہوتی۔لیکن حکومت کو لوگوں کی زندگی کی فکر کہاں؟ وہ تو اتنی بے فکر بلکہ سنگ دل ہو گئی ہے کہ خود کشی کی خرابیاں ماننے سے ہی انکار کرتی ہے۔خودکشی صرف ہندوستان کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا اس پیچیدہ مسئلے کا شکار ہے۔ الیکٹرانک میڈیا اور پریس والے بھی خودکشی کے واقعات کو خوب کوریج دے رہے ہیں کیونکہ خودکشی کے واقعات ہر دوسرے دن اخبار میں پہلے دن کی نسبت زیادہ پڑھنے کو ملتے ہیں۔ معاشرے میں خودکشی کی بڑی وجہ دین سے دوری‘ ڈیپریشن‘ بڑھتی ہوئی مہنگائی‘ بیروزگاری‘ غربت و افلاس‘ بے چینی اور مایوسی بتائی جا رہی ہے ،معاملہ جو بھی یو ان تمام علامات کے اثرات ہمارے سامنے ایک خوفناک و بھیانک شکل میں آرہے ہیں۔ اس مسئلے کے حل اور اس کی روک تھام کیلئے اہل اقتدار طبقہ سمیت ہمیں اس بھیانک مسئلے کے حل کیلئے ہرممکن کام کرنا ہوگا۔اس فعل قبیح کا پس منظر دیکھنا ہوگا کہ یہ بڑا و مذموم فعل کن وجوہات کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں آیا؟۔اس مذموم فعل کی روک تھام کیلئے اہل قلم کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ اس برے و مذموم فعل کو روکا جاسکے۔alamislahi@gmail.com



۔۔۔مزید