ہفتہ، 29 دسمبر، 2012

مدرسة الاصلاح .......ایک تحریک ایک تنظیم


مدرسة الاصلاح :ایک تحریک ،ایک تنظیم      
 نشاة ثانیہ اور کھوئے ہوئے وقارکی تلاش 
 محمد علم اللہ اصلاحی 
نئی دہلی 
          انیسویں صدی بر صغیر میں مسلم اقتدار کے زوال کے بعد کی صدی تھی ۔ مغل حکومت کے اختتام اور بر طانوی سامراج کے استحکام نے مسلم معاشرے کے لئے سنگین مسائل پیدا کر دئے تھے ،اقتدار سے محرومی نے جہاں ایک طرف شکست خوردگی کی ذہنیت کو جنم دیا وہیں بہت سی معاشرتی برائیاں بھی در آئیں ۔جہالت ،بدعات اورمشرکانہ رسوم مسلم معاشرے کو گھن کی طرح کھا رہی تھیں ۔اعظم گڈھ کا دور افتادہ علاقہ ان مسائل سے کچھ زیادہ ہی متاثر تھا ۔چنانچہ یہاں کے کچھ حساس اور درد مند افراد نے اس صورتحال کی اصلاح کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا اور مولانا محمد شفیع کی قیادت میں اس مقصد سے ایک انجمن” اصلاح المسلمین“ کی بنیادرکھی گئی۔ اصلاح معاشرہ کے میدان میں اس تنظیم کی ناقابل فراموش خدمات ہیں ۔جب انجمن کی طرف سے کام شروع ہوا تو لوگوں کو یہ شدت سے محسوس ہوا کہ دعوت دین اور اصلاح ملت کے ساتھ ہی ایک دینی مدرسہ کا قیام بھی بہت ضروری ہے جس سے نونہالان قوم کو مذہب اسلام کی تعلیم دی جا سکے اور انہیں مسلکی اور گروہی عصبےت سے پاک خالص اسلامی افکار ونظرےات کا حامل بنایا جا سکے۔

 اس وقت تک اعظم گڑھ یا اس کے آس پاس کے علاقہ میں کوئی قابل ذکر تعلیمی ادارہ نہیں تھا بلکہ یہاں کے لوگوں کوعلم کے حصول کے لئے شہر جونپور کا رخ کرنا پڑتا تھا جو اپنی علمی حیثیت کے لحاظ سے شیرازہند کے لقب سے سرفراز تھا۔ اس لئے1908ءمیں باضابطہ طور پرانجمن اصلاح المسلمین کے نام پر مدرسہ اصلاح المسلمین کا قیام عمل میں آیا جو آگے چل کر مدرسة الاصلاح ہوگیا۔ اس مدرسے کے قیام کے کچھ ہی دنوں بعد یعنی 1910ء یا 1911ء میں مولانا محمد شفیع بانی مدرسہ کی دعوت پر مورخ اسلام علامہ شبلی نعمانی نے اس کی سر پرستی اور علامہ فراہی نے علامہ شبلی کی تجویز اور مشورہ پر اس کی نظامت سنبھالی اوراس کی بنیادی شکل بھی تیار کی جس کی تصدیق علامہ فراہی کے نام علامہ شبلی کے خط سے ہوتی ہے:"کیا تم کچھ دن سرائے میر کے مدرسہ میں قیام کر سکتے ہو میں بھی شاید آں اوراسکا نظم و نسق درست کر دیا جائے اسکو گروکل کے طور پر خالص مذہبی مدرسہ بنایا جائے یعنی سادہ زندگی اور قناعت اور مذہبی خدمت مطمح نظر ہو"۔
(شبلی، ۲اپریل1910) 

          چنانچہ ان نابغہ روزگارشخصیتوں نے مدرسہ کا انتظام و انصرام صحیح کیااور وقفہ وقفہ سے یہاں آکر اس کا جائزہ بھی لیتے رہے۔ علامہ شبلی نعمانی نے تو ندو ة سے مایوسی کے بعد مدرسة الاصلاح اور دارالمصنفین کو اپنی تمام ترعلمی،عملی اور تعمیری کوششوںاور کاوشوں کا مرکز بنا لیا جیسا کہ شبلی نعمانی امام فراہی کے نام اپنے ایک خط میں شبلی نیشنل کالج کا مختصر ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:"بحث یہ ہے کہ ہماری قومی قوت سرائے میر پرصرف ہو یا اعظم گڑھ پر دونوں کے قابل قوم نہیں ہے ۔کم سے کم یہ کہ دونوں کی جداگانہ پوزیشن قائم ہونی چاہئے اور ان کا باہمی تعلق بھی، کبھی کبھی یہ خیال ہوتا ہے کہ ،ان میں سے ایک کو مر کزبنا کر اسی کو دینی و دنیاوی تعلیم کا مرکز بنایا جائے ۔یہیں خدام دین بھی تیار ہوں اور مذہبی اعلی تعلیم بھی دلائی جائے ،گویا گر و کل ہو ۔تم اپنی رائے لکھو ۔ندوة میں لوگ کام کرنے نہیں دیتے تو اور کوئی دائرہ عمل بنانا چاہئے ہم سب کو وہیں بود وباش اختیار کرنی چاہئے ،ایک معقول کتب خانہ بھی وہاں جمع ہونا چاہئے اگر تم عزم و جزم موجود ہو تو میں موجود ہوں".
( 23اکتوبر عیسوی1913 شبلی ،)

                   حالات کے اس پس منظر میں علامہ شبلی نعمانی علی گڑھ کے بعد ندوہ کو خیر باد کہہ کر 1914ءمیں اپنے وطن اعظم گڑھ واپس لوٹ آئے اور مدرسة الاصلاح اور دار المصنفین پر توجہ مرکوز کر دی، ان کے وہ خواب جو ندوة میں شرمندہ  تعبیر نہ ہوسکے تھے، مدرسة الاصلاح کا مجوزہ منفردنظام تعلیم ان کی تعبیربن کر سامنے آنے والا تھا ، لیکن یہاں پہنچنے کے بعد ان کی زندگی نے وفا نہیںکی اور اپنے بعد اس خاکہ میں رنگ بھر نے کام اپنے خاص عزیزوںاورشاگردوں کے لئے چھوڑ کر دسمبر 1914ء میں ہمیشہ کے لئے اس دار دار فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کر گئے۔

                   علامہ شبلی نعمانی کے انتقال کے بعد ایک طرف دارالمصنفین کی ذمہ داری علامہ سید سلیمان ندوی نے سنبھالی، وہیں دوسری طرف مدرسة الاصلاح کی نظامت کی ذمہ داری امام فراہی نے اپنے سر لی ۔ اور 1919ءمیں حیدرآباد کی ملازمت سے سبکدوش ہو کرمدرسة الاصلاح کو اپنی تمام تر توجہات کا مرکز بنا لیا۔ یہاں کے اساتذہ اور درجات علےا کے طلبہ کو ہفتہ میں چند دن درس دیاکرتے ،مدرسہ کے لئے قدیم درس نظامی سے ہٹ کر ایک جامع نظام تعلیم اور مناسب حال نصاب تجویز کیاجس میں قرآن مجید تمام علوم و فنون کے محور کے طور پرتسلیم کیا گیا تاکہ اس کے ذریعہ طلبہ میں وسیع علم اور تحقیقی صلاحیت کے ساتھ کمال درجہ کا اطمینان و صبر، تقوی اور للہےت اور عمدہ کرداروصفات بھی پیداہو سکےں اور اس طرح اپنی ساری سوچ اور علمی توانائی صرف کرکے انہوں نے اس بنجر زمین میں مولانا محمد شفیع کے لگائے ہوئے پودے کو ایک تناور درخت کی صورت دی ،اس پاکیزہ درخت کی مانند جس کی جڑ ےں(زمین میں) مضبوط ہیں اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں لیکن جب اس پودے نے برگ اور بارلانا شروع کیا تو اس کا مالی اس چمنستان سے جداہو کر دور بہت دور اپنے آقا کے جوار میں پہنچ گیا۔

          امام فراہی کی وفات کے بعد ان کے قابل اور لائق شاگردوں مولانا اختر احسن اصلاحی اور مولانا امین احسن اصلاحی نے ان کے تشنہ تکمیل کاموں کو مکمل کرنے کی ذمہ داری سنبھالی اور شاگردی کا حق ادا کردیا،علمی دنیا تا ابد ان کے علمی کارناموں سے حظ اٹھاتی رہے گی۔ ایک نے علمی فکری وراثت سنبھالی اور ان کے نامکمل کی ترتیب اور ترجمہ و اشاعت کےلئے کاموں کو آگے بڑھایا تو دوسرے نے علم کے ساتھ شخصیت سازی پر توجہ دی۔امام فراہی کی غیر مطبوعہ تصانیف کی گیا 1935ءمیں مدرسہ الاصلاح میں دائرہ حمیدیہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیااس کے علاوہ اس ادارہ سے اردومیں" الاصلاح"کے نام سے ایک معیاری رسالہ شائع کیا گیا تا کہ اردو دا ں طبقہ کو بھی امام فراہی کے نظریات اور خیالات سے واقف کرایا جا سکے۔ رسالہ نامساعد حالات کی وجہ سے کچھ سالوں میں ہی بند ہو گیا لیکن ادارہ بہر صورت کام کرتا رہا اور آج بھی اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔

          مدرسة الاصلاح کا نشان امتےاز قرآن مجید کی محققانہ تعلیم،حدیث کے ساتھ فقہ مقارن اور دینی کے ساتھ ساتھ جدید علوم کی تعلیم بھی ہے ۔ یہ ہندوستان کا وہ ممتاز ادارہ ہے جس مےں طلبہ کیلئے عصری تعلیم لازم قرار دی گئی اورآج بھی یہاں کے نصاب تعلیم مےں انگریزی، ہندی، جغرافیہ، تاریخ، سیاسیات، اور اردوو فارسی کے علاوہ معاشیات، سماجی سائنس ریاضی، علم طبعیات،علم کیمیا اوراورحیاتیات جےسے عصری علوم کی بھی تعلیم دی جا رہی ہے ۔جس کی وجہ سے یہاں کے طلبہ جدید دانش گاہوں میں بھی حصول تعلیم کی اہلیت سے مکمل طورپرمتصف ہوکر فراغت حاصل کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کے فارغین آج کئی جدید اداروں میں بڑے عہدوں پر بھی متمکن ہیں ۔مدرسة الاصلاح اےسا علمی افق ہے جس پر طلوع ہونے والا ہر ستارہ اپنے علم کی روشنی سے اےک عالم کو تابندہ کرتا رہا ہے اور ےہ سلسلہ تاحال قائم ہے،تاہم اب پہلی باتےں نہےں، جہاں مرور ایام سے بڑ ی بڑی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں،تعلیم وتعلم کا ذوق بھی پھکا پڑ چکاہے جس کا ہر کسی کو احساس ہے، بس اس کے تسلیم کرلےنے اور تلافی مافات کی ضرور:ت ہے 

                                      کیسی وفا  و  الفت   کھاتے   عبث  ہو  قسمیں
                                      مدت ہوئی اٹھا دیں تم نے یہ ساری  رسمیں
(میر تقی میر)

قلق تو ان اقدار کی پامالی کا ہے جن کی پاسبانی میں مدرسة الاصلاح ممیز تھا، ہم اپنے زخم اس لئےکریدتے ہیں تاکہ زخمی ہونے کا احساس زندہ اور علاج کی ضرورت محسوس ہوتی رہے،مدرسة الاصلاح کی تحریک ایسے مقام پر آپہنچی ہے کہ اب اس کی نشاة ثانیہ اوراس کے کھوئے ہوئے وقار کو واپس لانے کی ضرورت ہے اوریہ اسی وقت ممکن ہے جب مدرسہ کے تعلیمی وتربیتی نظام کا از سر نو جائزہ لے کر اصلاحات کے لئے اقدام کیا جائے۔
رابطہ کا پتہ:
alamislahi@gmail.com

۔۔۔مزید

غربت کو مٹانے کی مہم ہوگئی الٹی



دہلی کے غریبوں پر حکومت کی نمک پاشی 

مہنگائی کا طوفان روز بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے۔عام بازار میں آٹا، چینی، گوشت، دودھ ،دہی، سبزیاں اور گھی اور تیل سب ہی کچھ مہنگا ہوتا جارہا ہے، ڈیزل پیٹرول اور اب گھریلو استعمال کی گیس کے نرخ بڑھادیئے گئے ہیں۔ مارکیٹ میں مختلف دالیں سو روپے سے بھی زیادہ کی قیمت پر فروخت ہورہی ہیں۔سی این جی بھی دو گنا تک مہنگی ہوچکی ہے جس کی وجہ سے کرایوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، تکلیف دہ بجلی کاعذاب اور گیس کا کم پریشر گھریلو خواتین کے لئے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔بسا اوقات تو ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو ان عوامی مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن دوسری جانب حکمراں طبقہ ہے،جو اپنی تمام تر توانائیاں صرف اپنی ضروریات پر خرچ کرتا نظر آرہا ہے، اس طبقہکے اخراجات میں کسی قسم کی کمی نہیں آرہی ہے۔ اس مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے۔ تنخواہوں میں کسی قسم کا اضافہ یامہنگائی سے نجات کیلئے کسی بھی قسم کی رعایت کا امکان معدوم ہوکر رہ گیا ہے۔ ایسے میں اگر کسی ذمہ دار فرد کی جانب سے اس قسم کا بیان آ جائے کہ” پانچ ارکان کے غریب خاندان کے لئے 600 روپے مہینہ کافی ہے۔ یعنی ایک دن میں ایک آدمی کا کام صرف چار روپے کے اناج میں چل سکتا ہے“۔تو لوگوں کی کیا کیفیت ہوگی ؟ظاہر ہے یہ ان کے زخموں پر نمک پاشی اور ان کے جذبات کو مزید بھڑکانے والی بات ہوگی ۔

شاید اسی وجہ سے عوام دہلی کی وزیر اعلی کے اس بیان کو بحث کا موضوع بنائے ہوئے ہیں اور ہر خاص و عام میں گزشتہ سنیچر کو خوراک سری منصوبہ کے افتتاح کے موقع پر شیلا کے اس بیان کو ان کی لاعلمی سے تعبیر کر رہے ہیں ۔واضح رہے کہ اس موقع پر یو پی اے چیر پرسن سونیا گاندھی بھی موجود تھیں جس میں شیلا نے یہ بھی کہا تھا کہ دال، روٹی اور چاول کے لئے غریب خاندان کے لئے 600 روپے کی کیش سبسڈی کافی ہے۔ شیلا نے جب یہ بیان دیاغور طلب ہے کہ دہلی میں شروع ہونے والے اس اسکیم کے تحت ضرورت مندخاندان کو ہر ماہ 600 روپے راشن خریدنے کے لئے دیئے جائیں گے، جو براہ راست خاندان کی خاتون رکن کے بینک اکاو ¿نٹ میں ٹرانسفر کر دیے جائیں گے۔بتایا جا رہا ہے کہ اس اسکیم کا فائدہ 25 لاکھ لوگوں کو ملے گاتاہم ان سب کے باوجود اس منصوبے سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں نے شیلا کے بیان پر سخت اعتراض کیاہے ۔مبصرین کا کہنا ہے کہ کس طرح اور کس حساب سے شیلا دکشت نے کہہ دیا کہ 5 ارکان پر مشتمل خاندان میں 600 روپے کافی ہے، کیا 5 ارکان والے گھر کے لوگ پانی پی کر رہتے ہیں اور ہوا کھا کر زندگی گزار دیتے ہیں، کیا اس گھر کے لوگ کبھی بیمار نہیں ہوں گے، وہ لوگ رہیں گے کہاں؟ ۔

بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کہا کہ پانچ سے سات افراد کے خاندان میں مہینے کا راشن 1000 سے 3000 روپے کے درمیان آتا ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اگر ایک غریب خاندان کے لئے 600 روپے کافی ہیں تو بیماری، رہائش کے مسائل اور مہنگائی میں گزارا کیسے ہوگا۔ 600 روپے صرف ایک سہارا بھر ہے۔ نہیں سے اچھا ہے کہ کچھ تو ملے گا۔ گنگا دیوی نے کہا کہ وہ ہر ماہ راشن پر ،000 3روپے خرچ کرتی ہیں پھر 600 روپے میں کیا ہوگا؟منصوبہ کو شروع کرنے کے موقع پر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کہا کہ یہ منصوبہ بنیاد کارڈ سے وابستہ ہوگا اورپی ڈی ایس اسکیم سے الگ ہوگا۔ سونیا گاندھی نے اناج سری اسکیم نافذ کرنے کے لئے دہلی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سکیم کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ پیسہ ضرورت مند خاندان کی خاتون رکن کو ملے گا۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ یو پی اے اور کانگریس کی حکومت غریبوں کو کھانا دینے کی گارنٹی کو لے کر سنجیدہ ہے اور جلد ہی پارلیمنٹ میں فوڈ سیکورٹی بل پیش کیا جائے گا۔

کانگریسی رہنماں کے ان باتوں میں کتنا دم ہے اس کا اندازہ ہم ان دو امیر زادوں کے بیان سے لگا سکتے ہیں جنھوںنے گزشتہ دنوں 100 روپیہ یومیہ میں زندگی بسر کرنے کا کربناک تجربہ کیا ہے۔ ایک نوجوان کا تعلق ہریانہ سے ہے جو ایک اعلیٰ پولیس افسر کا بیٹا ہے ، اس نے امریکہ سے تعلیم حاصل کی ہے جب کہ دوسرا نوجوان کم عمری میں ہی اپنے والدین کے ساتھ امریکہ چلاگیاتھا۔ گزشتہ دنوں ان دونوں نوجوانوں نے یو آئی ڈی پروجیکٹ میں شرکت کی تھی اور یہاں ساتھ رہنے لگے تھے، دونوں نے ایک دن یہ فیصلہ کیاکہ کیوں نہ ہم ایک ہندوستانی کی اوسط آمدنی پر ایک ماہ گزار کر ہندوستانی عوام کی زندگیوں کو عملی طورپر سمجھنے کی کوشش کریں۔ انھوںنے اس دوران پایاکہ اب وہ اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ اس ادھیڑبن میں گزارتے تھے کہ دو وقت کے کھانے کا انتظام کس طرح کریں۔ اب ان کی زندگی کا دائرہ بہت محدود ہوگیاتھا۔ سستی غذائی اشیا کی تلاش ان کا روزمرہ کا معمول بن گیاتھا، بس کاسفر پانچ کلومیٹر سے زائد کا نہیں کرسکتے تھے۔ بجلی کا استعمال بھی بمشکل پانچ چھ گھنٹے ہی کرپاتے تھے اور نہانے کاایک صابن دونوں لوگ آدھا کاٹ کر استعمال کرتے تھے۔ گویا ان کی زندگی انتہائی مشکلات کاشکار ہوگئی تھی۔ جب کہ سوروپے یومیہ خرچ کرتے تھے۔ اب ذرا ہم ان 80 فیصد ہندوستانی عوام کی زندگی پر نگاہ ڈالیں جن کی آمدنی محض بیس روپے روزانہ ہے اور ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق شہروں میں 32روپے یومیہ اور دیہی علاقوں میں 26 روپے یومیہ خرچ کرنے والے افراد کو غربت کے دائرے سے باہر رکھاگیا ہے۔ ان کی زندگیاں کس طرح گزررہی ہیں،اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔؟ یہ تو ایک واقعہ ہے جس نے ہندوستانی غریب عوام کی زندگی کی صرف ایک جھلک بھر دکھایا ہے ۔

گزشتہ دنوں قوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ ہندوستان کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی گزارتی ہے جبکہ افریقہ کے علاوہ دنیا کے سب سے زیادہ غریب ایشیائی ممالک یعنی ہندوستان ،پاکستان اور بنگلہ دیش میں رہتے ہیں۔خود حکومت کی تشکیل کردہ تیندولکر کمیٹی نے پنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ملک کی آبادی کا37 فیصد حصہ انتہائی غربت کے زمرے میں آتا ہے لیکن یو این ڈی پی نے غریبوں کا تعین کرنے کیلئے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے وہ ٹینڈولکر کمیٹی اور منصوبہ بندی کمیشن کے طریقوں سے مختلف ہے۔ادارے نے آمدنی کے علاوہ حفظان صحت، تعلیم اور معیار زندگی کو بھی مد نظر رکھا ہے اور اس بنیاد پر غربت کا کثیر جہتی اشاریہ تیار کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس انڈیکس سے ملک میں غربت کی ایک واضح تصویر ابھر کرسامنے آتی ہے جو صرف آمدنی کی بنیاد پر ممکن نہیں ہے۔اس اشاریہ کے مطابق دنیا کے 10 غریب ترین ممالک تو افریقہ میں ہیں لیکن اگر کسی ایک ملک میں کل تعداد کی بات کی جائے تو دنیا کے سب سے زیادہ غریب جنوب ایشیائی ممالک یعنی ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں رہتے ہیں۔

لیکن ان سب کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے حالات میں تبدیلی نہ لانے کی ٹھان لی ہے تبھی تو ہم آئے دن یہ سنتے اور پڑھتے رہتے ہیں کہ فلاں نے فلاں جگہ پر کھانا نہ ملنے کے سبب دم توڑ دیااور مناسب تغذیہ نہ ملنے کے سبب بیماریوں کا شکار بن گیا۔ایسے مصیبت زدگان کی کہانیاں تو آئے دن اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیںلیکن اسے المیہ ہی کہا جائے گا کہ سرکارغربت کے شکار افراد کے احساسات کو سمجھنے ،ان کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے نئے نئے شوشے چھوڑ کر عام لوگوں کے زخموںپر نمک پاشی کا کام کر رہی ہے ؟حالانکہ جمہوری ریاست کے پھلنے پھولنے میں اہم محرک عوام کے حقوق کی فراہمی ہے جمہوریت کے ثمرات صرف محدود طبقات تک نہیں بلکہ عام آدمی کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکے ورنہ عام آدمی یہی کہنے پر مجبور ہوگاکہ 
     غربت  کو  مٹا نے   کی   مہم   ہو گئی   الٹی 
گھر کوئی  بھی  مہنگائی  سے  بچتا نہیں لگتا
بڑھتی ہی چلی جاتی ہے اب الجھنیں بے باک 
تبد یلی   کوئی   آئے  گی   ایسا    نہیں   لگتا

http://dawatonline.com/Page4.aspx
MD Alamullah Islahi 
alamislahi@gmail.com


۔۔۔مزید

منگل، 13 نومبر، 2012

کانگریس کی ریلی یا شکتی پردرشن


 کانگریس کی ریلی یا شکتی پردرشن
محمد علم اللہ اصلاحی

دو ہزار چودہ کے الیکشن کی نوید سنائی دینے لگی ہے۔سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے انداز میں عوام لو لبھانے کے لئے ہاتھ پا?ں مارنے لگے ہیں۔ اس کے لئے جہاں نئی نئی اسکیموں کا اعلان ہو رہا ہے ،وہیں ریلی اور جلسہ و جلوس کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔اتوار کونئی دہلی میں کانگریس اور پٹنہ میں جے ڈی یو نے ریلی منعقد کی ، وہیں دوسری طرف اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بی جے پی نے یوم سیاہ بھی منایا۔ بی جے پی نے دارالحکومت دہلی میں 14 جگہ عوامی جلسہ کاانعقاد کیا۔ بی جے پی لیڈروں کا کہنا تھا کہ کانگریس ایف ڈی آئی کی حمایت میں ریلی کرکے ملک کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی لیڈروں نے کہا کہ عوام سمجھدار ہو چکے ہیں۔ کانگریس، عوام کو گمراہ کرنے کی جتنی کوشش کر لے وہ کانگریس کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔جبکہ دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والی کانگریس کی ریلی کو عام انتخابات کی تیاریوں کابڑا آغاز تصورکیاجارہاہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس نے عرصے بعد دہلی میں ریلی کی اور بھیڑ کے ذریعہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی۔ ملک بھر سے کارکنوں، عہدیداروں کو دہلی بلایا اور مجموعی طور پر میڈیا اور ماہرین میں یہی رائے بنی کہ رام لیلا میدان کا شو موثر تھا۔ کانگریس کی قیادت میں یو پی اے حکومت 2004 سے مسلسل بنی ہوئی ہے۔ 2009 میں جب پھر سے یہ حکومت بنی تو کہا گیا کہ منریگا اور آر ٹی آئی قانون نے اسے دوبارہ اقتدار دلانے میں بڑا کردار ادا کیا۔مگر منموہن حکومت کادوسرا دور نہ تو اندرونی طور پر اور نہ ہی ظاہری طور پر کانگریس کے موافق رہا۔ بدعنوانی کے بڑے معاملات کے قسط وار سامنے آتے جانے سے اس کی شبیہ کو خاصا نقصان پہنچاتو وہیں حکومت کے کام کاج کو بھی نشانہ بنایا گیااور حکومت کی پالیسی سازی پر مختلف اندازمیںتنقیدشروع ہو گئی۔ ملک میں شاید پہلی بار ہوا ہے کہ عام انتخابات کی آہٹ دو ڈھائی سال پہلے سے ہی سنی جارہی ہے۔

اس سلسلے میں ہریانہ کے لیڈر اجے چوٹالا نے ایک دلچسپ بیان میں کہا ریلیوں سے طاقت مخالف مظاہرہ کرتے ہیں۔ کانگریس کی حکومت ہے تو وہ کسے طاقت دکھا رہی ہیں؟ منموہن حکومت کو کیوں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس کے پیچھے عوام کھڑے ہیں۔ عوام ہے، تبھی تو وہ اقتدار میں ہے۔ ریلی سے بھلا حکومت کی کیاساکھ بنے گی؟کانگریس کو ریلی سے کیا حاصل ہوا؟ کیا خردہ کاروبار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت کولوگوں نے محسوس کیا؟بلا شبہ ریلی کا مقصد یو پی اے حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنا تھا۔ اصلاحات کی حمایت میں سیاسی ماحول بنانا تھا۔ اس حیثیت سے کہہ سکتے ہیں کانگریس نے پوری طاقت سے ڈاکٹر منموہن سنگھ اور چدمبرم کا حوصلہ بڑھایا ہے۔مخالف جماعتوں کو چھوڑ بھی دیں تو اس دوران عوام نے بھی بار بار سڑکوں پر اتر کر حکومت کی پالیسی میںپائی جانے والی ناکامیوں اور اس کی ترجیحات پر سوالات کھڑے کئے ہیں۔ اب جب کہ سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے حکومت اور پارٹیوں پر الزامات کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے، تو کانگریس اور اس کی قیادت والی حکومت کے لئے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ وہ عوام کے سامنے اپنے موقف اور عزم کو مضبوطی سے رکھے۔ اتوار کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس پارٹی کی ریلی کے پیچھے یہی مقصد پوشیدہ تھا۔

ریلی کے تینوں اہم مقررین نے اپنی اپنی طرح سے حکومت اور پارٹی کی پالیسیوں، کامیابیوں اور ترجیحات کو بیان کیا۔ ایسا کرتے ہوئے وہ ان الزامات کا بھی جواب دے رہے تھے، جو اس دوران ان پر لگے ہیں۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایک بار اقتصادی اصلاحات جاری رکھنے کے قول و قرارکااعادہ کیا اور کہا کہ وہ ہر طرح کے احتجاج اور رکاوٹ کے باوجود اس کے لیے مسائل کا حل تلاش رہے ہیں۔ حکومت کے کچھ فیصلوں کو عام لوگوں کے لئے سخت مانتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کو محفوظ مستقبل دینے کے لئے کئی بار ایسے ناخوشگوار فیصلے لینے پڑتے ہیں۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے دیگر مقررین کے مقابلے میں اپنی بات مزیدمضبوط طریقہ سے رکھی۔ انہوں نے جہاں بدعنوانی کو ملک کے لئے ناسور قرار دیا، وہیں یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت لوک پال بل سمیت وہ تمام اقدامات ضرور کرے گی جس سے بدعنوانی کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ اپنی باتیں کہتے ہوئے وہ یہ بتانا بھی نہیں بھو ل سکیں کہ ملک کے غریب اور محروم طبقوں کے اعتماد کے بدولت ہی ان کی پارٹی ہمیشہ کامیاب ہوتی رہی ہے اور اب بھی ان کا دل گاو ¿ں سماج کے عام لوگوںپر لگا ہوا ہے اور کانگریس ان کے حق میں کسی بھی دوسرے کی ٹیم کے مقابلے میں زیادہ اعتماد کے ساتھ کھڑی ہے۔

مطلب کانگریس نے ریلی کے ذریعہ سیاسی پیغام دیا ہے۔ ریلی کا انعقاد راہل گاندھی کی نئی ذمہ داری کی حیثیت سے بھی اہم ہیں۔ کچھ رہنماو ¿ں کے مطابق ریلی کو کامیاب بنانے کے پیچھے راہل گاندھی کی آمد کا مقصد بھی تھا۔ کیا ریلی سے راہل گاندھی کا پروجیکشن بنا؟رام لیلا میدان میں منعقدہ کانگریس کی ریلی تمام تنازعات، الزامات کی پس منظر میں ہوئی۔ اس حیثیت سے اپوزیشن اورناقدین کوجواب دیا جانا فطری تھا۔اس سے کانگرےس کی دھند ختم ہونی چاہئے تھی۔ پارٹی اور حکومت دونوں کو لے کرعام لوگوں میں جو رائے بنی ہے وہی ریلی کی کامیابی یا ناکامی ہے۔ڈھنگ سے کانگریس پارٹی اور یوپی اے حکومت کو ریلی کر کے نہیں پارلیمنٹ میں اپنی طاقت دکھانی ہے۔ پارلیمنٹ کے سرما سیشن میں کانگریس اور حکومت دونوں کی طاقت کا امتحان ہونا ہے۔ سی پی ایم لیڈر پرکاش کرات نے چیلنج کیا ہے کہ اگر حکومت میں دم ہے تو وہ خردہ کاروبار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو منظوری دینے کی تجویز کو پارلیمنٹ میں ووٹنگ کےلئے رکھے۔لیفٹ کے اس طرح خم ٹھونکنے کی واجب وجوہات ہیں۔ لیکن پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن سے پہلے دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس نے ریلی کر کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر خزانہ پی چدمبرم کے تئیں اپنی حمایت دکھادی۔ سونیا اور راہل گاندھی نے منموہن چدمبرم کی اقتصادی پالیسیوں کو غیر مشروط حمایت کی۔ساتھ ہی کیرل کو چھوڑ کر کانگریس کی حکمرانی والی تمام ریاستوں سے بھی حمایت دینے کی بات کہی گئی ہے۔اس سے پارلیمنٹ کے سرما ئی سیشن کا ایجنڈا طے کیا گیا ہے۔کانگریس نے آرپار کی لڑائی کا موڈبنایا ہے۔ اس ریلی کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ کانگریس اور اس کی حامی پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پر آئیں گی۔

ریلی میں جتنی بھیڑ نظر آئی اس سے کانگریس کی طاقت دیکھ کر اتحادی پارٹیوں کے دل میں سے یہ بھرم نکل سکتا ہے کہ بدعنوانی اور مہنگائی کے سبب کانگریس کمزور ہوئی ہے۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ اس ریلی نے بکھرے ہوئے حزب اختلاف کو بھی متحد ہونے کاموقع دے دیا ہے۔ تمام اپوزیشن پارٹیوں میں حکومت کو کوگھیرنے کے لئے متحدہ کوشش کی شروعات ہوئی ہے۔ پارلیمنٹ میں مشترکہ اپوزیشن کا مقابلہ کانگریس اور یو پی اے حکومت کے لیے بھاری پڑ سکتا ہے۔ اب تک کانگریس حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان کے اختلاف کا فائدہ لیتی رہی تھی۔اس ریلی کا ایک مقصد تو حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو پارٹی کی حمایت دلانا تھا۔ لیکن دوسرا مقصد کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی کو بڑے کردار میںپیش کرنا بھی تھا۔ تاہم اس کردار کا اعلان سرکاری طور پر نہیں ہوا۔ لیکن فورم پر بیٹھنے کا انتظام اور تقریر کرنے کے سلسلے سے یہ طے ہو گیا کہ پارٹی میں سونیا گاندھی کے بعد راہل ہی ہیں۔ کانگریس کی طرف سے یہ اعلان بھی کیا گیا تھا کہ اس ریلی میں راہل گاندھی کی پالیسیوں پر اپنی رائے کانگریس کارکنان سے شیئر کریں گے۔اس لحاظ سے راہل اتنے موثر نہیں نظر آئے۔ اتنی بڑی ریلی کے لحاظ سے جیسی تیاری ہونی چاہئے تھی ویسی تیاری راہل کی نہیں دکھائی دی۔ اب کانگریس کے کئی لیڈران کا کہنا ہے کہ نو نومبر کے ڈائیلاگ سیشن میں راہل اپنی بات مزید قائد ے سے رکھیں گے۔

بہرحال رام لیلا میدان کی ریلی میں مقررین نے جو تقریر کی اس سے حکمت عملی اور نظریاتی دونوں سطحوں پر ان کی مشکوکیت ظاہر ہوئی۔ ایک طرف وہ معاشی اصلاحات اور مہنگائی کا دفاع کر رہے تھے تو دوسری طرف اروندکیجریوال کی طرح نظام پر حملہ بھی۔ انہوں نے ساری بد انتظامی کا الزام موجودہ نظام کو دیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نظام انہی کی پارٹی چلا رہی ہے اور وہ جن لیڈروں کا دفاع کر رہے تھے وہیں لوگ نظام کو چلا رہے ہیں۔کانگریسی لیڈروں کی تقریر سے ایسا لگا کہ وہ پارٹی اور حکومت چلانے کی عملی مجبوریوں کے ساتھ بھی ہیں اور این جی او کی ذہنیت والے اپنے کچھ مشیروں کے اثر میں بھی ہیں۔ اس لئے کبھی وہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور مہنگائی کے سبب مچی افرا تفری کا دفاع کر رہے تھے تو کبھی موجودہ نظام کو تمام مسائل کی جڑ قرار دے رہے تھے اور اس کو تبدیل کرنے کی بات کر رہے تھے۔ کانگریس جنرل سیکریٹری راہل گاندھی کا زور کانگریس کارکنان اور نوجوانوں کا حوصلہ بڑھانے اور تنظیمی سطح پر پارٹی کو مضبوط کرنے پر تھا۔ وہ اپنی اس سوچ کو نظام میں تبدیلی کی ضرورت سے بھی جوڑ کر دیکھ رہے تھے۔ کانگریس کے ان تینوں لیڈروں کی باتیں سن کر ایک بات تو ضرور یہ کہی جا سکتی ہے کہ ملک کی سب سے پرانی پارٹی نے اپوزیشن کے حملوں اور تمام چیلنجوں سے گھرنے کے باوجود اپنا وہ حوصلہ ابھی نہیں کھویا ہے جس کے بل پر اگلے ڈیڑھ سال اسے حکومت چلانی ہے اور پھر انتخابی میدان میں اترنا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اس حوصلے کے جوش کو ایک بارگی نہیں بلکہ ہمیشہ ظاہرکرتے رہنا ہوگا بات تب ہی بنے گی۔لیکن بدقسمتی سے سیاست میں یہ دونوں اسٹینڈ ایک ساتھ نہیں چلیں گے راہل کو ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا ہوگا۔
(Md Alamullah Islahi, Delhi)
 






۔۔۔مزید

سوموار، 12 نومبر، 2012

دنیا کے ترقی پذیر شہروں میں نچلی سطح پر دہلی اور ممبئی



دنیا کے ترقی پذیر شہروں میں 
نچلی سطح پر دہلی اور ممبئی
محمد علم اللہ اصلاحی 
ہمارے یہاں ہندوستان میں بہت ساری کمیوں اور خامیوں کے باوجود اپنے منہ میاں مٹھو بننے کا روج ختم نہیں ہو رہا ہے ۔شاید اسی وجہ سے جب ہمیں کوئی شیشہ میں ہمارا چہرہ دکھا بھی دیتا ہے تو ہم اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے بلکہ آئینہ دکھانے والے کو ہی برا بھلا کہ دیتے ہیں حالانکہ کہیں نہ کہیں اس میں صداقت بہر حال ہوتی ہے اور اس کو مان لینے سے اصلاح کے امکانات بھی باقی رہتے ہیں نیزیہ کہ حقیقت کاسامناکرنے سے ترقی کی امید کی جاسکتی ہے لیکن ہم میںحقیقت سے آنکھیںملانے کی ہمت ہی نہیں ہے!اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم اور ہمارا ملک ترقی کے نام نہاد نعروں کے درمیان مزید تنزلی کی طرف گامزن ہے ۔اس کا انکشاف ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں ہوا ہے جس میں اس عالمی ادارہ نے نئی دہلی اور ممبئی کو خوشحالی کی طرف جا رہے دنیا کے 95 شہروں کی فہرست میں ناکام اور سست رو بتایا ہے۔اس کی وجہ بتاتے ہوئے اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یہاں ماحولیات کی بدحالی، عدم مساوات، خراب انفراسٹکچر،پراڈکٹی وٹی ،لائف اسٹنڈرڈانتہائی پست ہے ۔اس رپورٹ کو پڑھتے ہی مجھے آج سے دو دہائی قبل میر تقی میر کا کہا ہوا کلام یاد آنے لگا جب انھوں نے دہلی سے عاجز آکر لکھنو ¿ جاتے وقت کہا تھا 
کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے، ہنس ہنس پکار کے
دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اس کو فلک نے لوٹ کے ویرانہ کردیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
اقوام متحدہ نے اسی اجڑے دیار کی کہانی اور اس کی حقیقت کو ایک مرتبہ پھر ان لوگوں کے سامنے رکھ دیا ہے جو تمام تر ناکامیوں کے باجود ان شہروں کو پیرس اور لندن سے بھی زیادہ خوبصورت بنانے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے ۔حالانکہ کئی لوگوں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ نے خوشحالی کی طرف بڑھتے دنیا کے 95 شہروں میں دہلی اور ممبئی کا نام ہر ہندوستانی کےلئے خوشی کی بات ہے۔لیکن ساری خوشیاں اس وقت کافور ہو جاتی ہیںجب بات ماحول کی اٹھتی ہے تو دہلی سب سے نچلی سطح پر کھڑا نظر آتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہم بھلے ہی ہریالی کے کتنے ہی دعوے کر لیں، سچائی یہی ہے کہ ابھی بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کی امیروں کے شہروں کی فہرست میں دہلی اور ممبئی کو جگہ ملنا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ اس فہرست میں دہلی کا مقام 58 واں اور ممبئی کا نمبر 52 واں ہے۔جبکہ پانچ سب سے اچھے شہروں میں ویانا، نیویارک، ٹورنٹو، لندن اور اسٹاک شامل ہے۔ حیدرآباد کو جہاں میڈیسن دارالحکومت کے طور پر تعریف کی گئی ہے وہیں آئی ٹی کی وجہ سے بنگلور کو کافی بہتر پایا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق انفراسٹکچر بڑھانے کےلئے ہندوستانی شہروں پر کافی پیسہ خرچ ہوا ہے، لیکن ان کی ترقی زیادہ گاؤں کی قیمت پر ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دہلی کا مقام ممبئی سے کافی پیچھے ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دونوں میٹروپولیٹن شہر خراب بنیادی ڈھانچے اور ابترماحولیاتی حالات کی وجہ سے چین کے بیجنگ اور شنگھائی جیسے شہروں سے بھی کافی پیچھے ہیں۔اقوام متحدہ نے جن پانچ بنیادوں پر دنیا کے مختلف شہروں کا تجزیہ کیا و ہیں پیداوار، معیار زندگی، بنیادی ڈھانچے، ماحولیات اور مساوات جیسے مسائل شامل ہیں یہاں پر یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ان پانچوں معیار میںصرف بنگلہ دیش اور نیپال ہی دلی ممبئی کے پیچھے آئے ہیں اور باقی سب ہمارے دونوں شہروں سے اوپر ہیں۔دل والوں کی دہلی اورعروس البلاد ممبئی ایشیا کے کئی شہروں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔دہلی کو ماحول کے نام پر ہی 95 شہروں میں سب سے کم 0 448.نمبر ملے ہیں۔ آلودگی کے معاملے میں دہلی کی صورتحال صاف نہیں ہے لیکن ممبئی کو ماحولیات کے معاملے میں کافی بہتر کیا گیا ہے ۔ممبئی کو اس کےلئے درجہ بندی میں 645.0 پوائنٹ حاصل ہوئے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کے معاملے، بجلی پانی جیسی ضروری چیزوں کے لئے بھی ممبئی کی جگہ دہلی سے کہیں آگے ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کہتی ہے کہ شہرت اور عمارت کی ترقی میں دہلی کی رفتار سست ہے۔ ماہرین کے مطابق خراب ماحول کی وجہ سے دہلی کو کافی نقصان ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے نامور 95 شہروں کے مقابلے میں دلی کی ساکھ اور اثر و رسوخ دونوں ہی کم ہوئی ہیں۔ہمارے لیڈر دہلی کو نیویارک اور ممبئی کو شنگھائی بنانے کی بات کرتے ہیں پر اس سمت میں کتنے موثر قدم اٹھائیں ہیں اس کی پول اقوام متحدہ کی رپورٹ نے کھول کر رکھ دی ہے۔مطلب یہ کہ نیویارک اور شنگھائی تک پہنچنے کے لئے ابھی لمبا سفر طے کرنا ہوگا۔ اس رپورٹ سے ایک حقیقت یہ بھی ابھر کر آتی ہے کہ ہمارے یہاں باتیں تو بہت کی جاتی ہیں پر ٹھوس اقدامات کرنے میں کہیں کوتاہی نظر اتی ہے۔رپورٹ میں ہندوستان کے سب سے بڑے شہر کولکتہ، دہلی، ممبئی اور چنئی کو شامل کرنے والی بہتر اور خوبصورت منصوبے کی تعریف کی گئی ہے جو ہمارے لئے خوش آئند بات ہے۔تاہم یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ہمارے ملک میں انفراسٹکچرکی اپنی کوئی معاشی حیثیت ہی نہیں بن پائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بظاہر خوب ترقی کر لیتے ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ سڑکیں ذرا سی بارش میں بدحال ہو جاتی ہیں۔ عوامی سہولیات کے نام پر خواتین کے لئے ٹولےٹ کی بات تک نہیں کی جاتی۔آمدورفت کے ذرائع میں دہلی کا عالم یہ ہے کہ جن راستوں پر میٹرو کا لنک نہیں ہے وہاں ٹریفک کانظام خستہ ہے۔ وہیں اچھے پارک اور میدان کی بھی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔بچے کھیلنے کی جگہ تلاشتے رہ جاتے ہیں۔ روز مرہ کی ضروریات کی چیزیں ہر جگہ ایک ہی قیمت پر اور مساوی سطح کی نہیں مل پاتیں۔ہندوستان کے پروڈکشن سینٹر جیسی دہلی اور ممبئی کی شناخت ابھی ماضی کی باتیںہوکر رہ گئی ہیں۔ زیادہ تر سامان باہر سے لا کر فروخت کیا جاتا ہے۔ دہلی کی ہریالی کو لے کر کافی دعوے کئے جاتے رہے ہیں، لیکن اس محاذ پر بھی یہ شہر اب کہیں نہیں ٹھہرتا۔ یہاں جس رفتار سے جنگل کاٹ کر عمارت کھڑے کئے جارہے ہیں، اس رفتار سے درخت نہیں لگائے جا رہے۔کسی اسکیم کے لاگو ہوتے وقت کہا تو یہ جاتا ہے کہ اس سے جتنے درختوں کا نقصان ہوگا اتنے پھر لگائے جائیں گے، لیکن ایسا کبھی ہو نہیں پاتا۔ہماری حکومتیں اگر اس رپورٹ کو درکنار کرنے یا اس سے پریشان ہونے کی بجائے، اس کے مثبت پہلو کو سمجھنے کی کوشش کریں گی تو ہو سکتا ہے مستقبل میں ہمارے شہروں کی تصویر بدل جائے۔ملک کا دل کہی جانے والی دہلی اورعروس البلاد ممبئی بھلے ہی ہمارے ملک میں ترقی یافتہ شہر کہے جاتے ہوں پر دونوں ہی دنیا کے کئی دوسرے شہروں سے پیچھے ہیں۔ کسی شہر کی شکل بنانے میں سب سے بڑا حصہ وہاں کی اصل سوچ اور فکر کا ہوتا ہے۔یہاں پریشانی یہ بھی ہے کہ جو وسائل دستیاب ہیں، ان کا استعمال سمجھداری سے نہیں کیا جا رہا ہے۔حالانکہ اس میں ایسا نہیں ہے کہ بڑے شہروں پر پیسہ خرچ نہیں کیا جا رہا، لیکن یہ پیسہ امیر علاقوں میں ہی لگ رہا ہے، غریب علاقوں کو بہتر بنانے میں یہ پیسہ نہیں لگ رہا ہے۔ پھر جس طرح سے ہمارے شہروں کی ترقی ہو رہی ہے، اس میں غریب لوگ حاشیے پر جا رہے ہیں، جہاں نہ وہ خود محفوظ ہیں اورنہ ہی مستقل روزگار کے مواقع ہی دستیاب ہیںنا بجلی، پانی، سیور، ٹرانسپورٹ جیسی ضروری خدمات۔ ممبئی کی تو آدھی سے زیادہ آبادی گندی بستیوں میں رہتی ہے۔ دہلی کی حالت اس سے کچھ ہی بہتر ہے۔ لیکن شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار اور ضروری سہولیات دلوانے کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ ہمارے شہری منصوبہ بندی میں کہیں نظر نہیں آتی۔کافی سارے مسائل تو مبینہ منصوبہ بندی سے ہی پیدا ہوئی ہیں۔ اگر شہروں میں جھگی بستیاں یا غیر قانونی کالونیاں بڑھی ہیں اور اچھے اور سستے مکانوں کا بحران ہے، تو اس کا بہت کچھ کریڈٹ حکومت یا ایسے ہی ترقی اتھارٹیوں کو جاتا ہے، جنہوں نے شہری زمین پرنا حق قبضہ کر لیا اور ضرورت کے مطابق ترقی کی کوشش نہیں کی۔ اس سے غیر قانونی تعمیرات اور روزگار علاقوں سے کئی گنا مزید بڑھ گئے۔یہاں مسائل اس لئے بھی پیدا ہوئے کہ شہروں کی ترقی کے ذرائع کے مقامی اداروں کے نہیں، ریاست یا مرکزی سطح کی سیاسی قیادت کے ہاتھوں میں رہے۔نتیجہ کے طور پر لیڈران کے ووٹ بینک تو دیہی علاقوں میں تھے اس لئے انہوں نے شہری ترقی کی بے اعتنائی کی اور شہروں کو صرف پیسہ اور جائیداد حاصل کرنے کا ذریعہ مانا، شہروں میں صرف خوشحالی کے کچھ جزائر بنا لئے گئے، جن میں با اثر لوگ رہتے ہیں اور بڑی آبادی کو بغیر شہری سہولیات کی گندی بستیوں میں رہنے پر مجبور ہونا پڑا۔ممبئی کے علاوہ دہلی اس بات کی مثال ہے کہ یہاں قدرتی وسائل کی بربادی کس طرح کی جاتی ہے۔جمنا ندی میں صرف سیور کا پانی بہتا ہے اور باقی سینکڑوںٹن پانی برباد جاتے ہیں۔ دہلی کو ریگستانی ہواؤں سے بچانے والے اراولی کے جنگل ہی نہیں پہاڑ تک کاٹ دیے گئے ۔کسی بھی شہر یا چھوٹے شہرکی ترقی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا خیال نہیں رکھا گیا، گڑگاوں یا گریٹر نوئیڈا میں آج بھی پبلک ٹرانسپورٹ تقریبا نہیں ہے۔ حکومت کی اس آبادی بنام بربادی سے کچھ لوگ امیر ہو سکتے ہیں، لیکن سب کی خوشحالی صرف سمجھداری سے وسائل کے استعمال اور تقسیم سے ہو سکتی ہے، اوپر جن اچھے شہروں کے نام گنائے گئے ہیں ان کے مقامی ادارے ہمارے ملک کی طرح حکومت کی طرف سے کئے گئے پیسے پر انحصار نہیں کرتے ہیں ۔ ان کا اپنا آزاد اقتصادی بنیاد ہوتا ہے ۔آج ضرورت ہے کہ معیار زندگی اور بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ ماحول کو بھی بہتر بنایا جائے،یہی اس رپورٹ کا ہندوستان کے لئے پیغام ہے۔
     (Md Alamullah, Delhi)  


۔۔۔مزید

سوموار، 22 اکتوبر، 2012

اسمگلروں کے چنگل میں بچپن



اسمگلروں کے چنگل میں بچپن 
محمد علم اللہ اصلاحی

بچے کسی بھی ملک اور قوم کا مستقبل ہیں،انھیں کے دم سے کائنات کی خوبصورتی اور رونق ہے شاید اسی سبب انہیں جنت کے پھو ل بھی کہا گیا ہے اور چونکہ ملکوں اور قوموں کا عروج وزوال قوموں کی مجموعی صورت حال اور ان کی اخلاقی صفات سے ہوتاہے، اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بچے قوموں کی تعمیر و ترقی میں سب سے اہم اورمرکزی کردار ادا کرتے ہیںمگرآج معاملہ بالکل اس کے بر خلاف ہے بلکہ نسل انسانی کے اس مخلوق کے ساتھ تو کچھ زیادہ ہی نارو سلوک کیا جا رہا ہے روزانہ ان معصوم بچوں کے ساتھ برا سلوک ،زیادتی، جنسی استحصال ،مار پیٹ ،تشدد کوئی نئی بات نہیں رہ گئی ہے ۔حالانکہ ایسے رویوںپر لگام کسنے کیلئے سخت قوانین موجود ہیں لیکن اس کے باوجود بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم میںکوئی کمی ہونے کی بجائے اس میںمزید اضافہ ہی ہو رہا ہے۔یہ اضافہ ساری دنیا میں ہو رہا ہے جس نے حقوق انسانی کی تنظیموں سمیت ہر ایک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان میں بچوں سے جڑے جرائم کچھ زیادہ ہی ہو رہے ہیں ۔یہ اطلاع ابھی حال ہی میں عدالت عظمی نے ایک فیصلہ کے تناظر میں دیا ہے عدالت کے مطابق جو بچے گم ہو جاتے ہیں یا اغوا کرلئے جاتے ہیں ان میں سے بیشتر فقیروں یا کوٹھے چلانے والوں اور انسانی اسمگلنگ میںملوث افرادکی درندگی کے شکار بن جاتے ہیں۔ 

گزشتہ دنوں آئے وزارت برائے شماریات اور پروگرام وعملدرآمد کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں بچوں کے خلاف جرائم کے 33،098 معاملے اجاگر ہوئے، جبکہ 2010 میں یہ تعداد 26،694 تھی۔ اس طرح بچوں کے خلاف جرائم میں 24 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔ پورٹ کے مطابق افسوس ناک بات یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ ان جرائم کے بہت سے معاملات میں ان کے قریبی رشتہ دار شامل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف انہیں جنسی کاروبار کی اندھیری دنیا میں ڈھکیلنے والے کئی منظم گروہ سرگرم ہیں۔تازہ مطالعہ میں ایسے سب سے زیادہ کیس مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں پائے گئے ہیں۔ریاستوں میں اتر پردیش کا ریکارڈ سب سے زیادہ خراب ہے۔پڑھائی لکھائی اور تمام بیداری مہمات کے باوجود معاشرے میں لڑکے اور لڑکیوں میں تفریق کاسلسلہ ہنوزختم نہیں ہو پایا ہے۔ مگر مسئلہ لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دینے کی ذہنیت تک محدود نہیں ہے،بلکہ مسئلہ اس سے بھی بہت زیادہ آ گے بڑھ گیا ہے ۔خاص طور کمزور طبقوں کے بچوں کے لئے سماج میں مسائل بھی بڑھ رہے ہیں اور ان میں عدم تحفظ کااحساس بھی۔ ان کے لاپتہ ہونے کی شرح بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔پولیس ایسے معاملات کا نوٹس لینے اور ان کی تلاش کرنے میں کبھی مستعد نہیں دکھائی دیتی۔ اب تک کے جائزوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گم ہونے والے زیادہ تر بچے بدحال خاندانوں کے ہوتے ہیں۔ انسانی اسمگلروں کے ذریعہ ایسے بچوں کے ماں باپ کو بہلا پھسلا کر، روزگار کے لالچ دے کر ان کا’شکار‘کیاجاتاہے۔ چونکہ بہت سے ماں باپ کےلئے اپنے بچوں کا پیٹ بھرنا مشکل ہے، اس لئے وہ بآسانی انہیں شہروں میں گھریلو نوکر یا پھر دکان یا کارخانے وغیرہ میں کام کرنے کے لئے بھیج دیتے ہیں۔ 

ان اسمگلروں کے چنگل میں پھنسنے کے بعد ان بچوں کا نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، بہار، جھارکھنڈ وغیرہ کے قبائلی علاقوں سے گھریلو کام کاج کے نام پر شہروں میں لے جائی گئی ہزاروں لڑکیاں لاپتہ ہیں۔ اسی طرح بڑے شہروں کی جھگی بستیوں سے بچوں کے غائب ہونے کے واقعات عام ہیں۔جہاںوہ بچوں کوبندھوا مزدور بھی بنا دیتے ہیں یا پھر انہیں اپاہج بنا کر مندروں، مالس اور مصروف چوراہوں پر بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں جبکہ عام طور پر لڑکیوں کو جسم فروشی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اگرچہ ملک کی راجدھانی دہلی کوملک کاقلب کہا جاتا ہے، لیکن ہر سال یہاں بڑی تعداد میں بچوں کے لاپتہ ہونے سے کتنے ماں باپ کے دل چھلنی ہو رہے ہیں، اس کا کسی کو اندازہ ہی نہیں اور ان میں سے بہت سے بچوں کا تو کبھی کوئی علم ہی نہیں ہو پاتا۔دہلی خواتین کے لئے تو پہلے ہی محفوظ نہیں تھی، اب یہ بچوں کے لئے بھی محفوظ نہیں رہ گئی ہے۔ شاید اسی سبب یہ بات ہلا دینے والی ہے کہ سال 2009 سے لے کر اب تک یہاں 19 ہزار سے زائد بچے لاپتہ ہو چکے ہیں جن میں سے 1731 لڑکیوں اور 1574 لڑکوں سمیت کل 3305 بچوں کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔عیاں رہے کہ یہ معلومات حال ہی میں وزارت داخلہ نے پارلیمنٹ میں دی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ وزارت ان لاپتہ بچوں کے لئے انسانی اسمگلروں سے بھی زیادہ ذمہ دار ان کے والدین کو مانتا ہے۔

وزارت کی طرف سے بتائے گئے 11 وجوہات میں انسانی اسمگلنگ کو آخری نمبر پر رکھا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق بچوں کے لاپتہ ہونے کے لیے زیادہ تر ماں باپ ہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھنے کہ ہے کہ ابھی کچھ ہی دن قبل سپریم کورٹ نے دارالحکومت میں بڑی تعداد میں بچوں کے لاپتہ ہونے کو ایک ’انتہائی سنجیدہ معاملہ‘ قرار دیا تھا اور 16 اگست کو عدالت نے تمام ریاستوں سے ملک بھر میں لاپتہ 55 ہزار بچوں کا پتہ لگانے کے لئے کی جارہی کوششوں کی بھی معلومات ما نگی تھی۔اس کا فالو اپ کیا ہوا کچھ پتہ نہیں ایسے ہی سست روی کا نتیجہ ہے کہ صرف دہلی میں روز سو سے اوپر بچے غائب ہورہے ہیںاور بجائے اس میں کمی آنے کے اضافہ ہی ہو رہا ہے پولیس بھی ان بچوں کو تلاش کرنے میں ناکام ہے۔ حالانکہ حکومت اس بات سے انجان نہیں ہے کہ اس طرح غائب ہونے والے بچوں کو بھیک مانگنے، بندھوا مزدوری کرانے، جسم فروشی، فحش فلموں وغیرہ کےلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ دہشت گرد تنظیم بھی ایسے بچوں کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ایسے واقعات کے تار براہ راست غربت سے جڑے ہیں۔ مگر ملک کی ایک بڑی آبادی کا غریب ہونا کوئی نئی صورت حال نہیں ہے۔ اس لئے غریبی کا حوالہ دے کر انسانی اسمگلنگ سمیت بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم سے سختی سے نمٹنے کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس سوال کے جواب میں کہ دہلی سے اتنی بڑی تعداد میں آخر بچے کیوں لاپتہ ہو رہے ہیں،ریاستی وزیر جتندر سنگھ نے بچوں کےلئے ماں باپ کے ناقص سلوک، ان سے ڈانٹ ڈپٹ اور خاندان کے لئے بچوں کے غصہ کو ہی ذمہ دار قرار دیا۔ اسکول میں زیادہ نمبر لانے کا دباو ¿، محبت کے چکر میں گھر سے بھاگنا، راستہ بھٹک جانا، دماغی حالت کی خرابی، اپنی مرضی سے چلے جانا اور کسی دوست کے گھر جا کر نہ لوٹنا وغیرہ بچوں کے کھونے کےاسباب ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 2009 میں 5946 بچے راجدھانی میں لاپتہ ہوئے جبکہ 2010 میں 5091، 2011 میں 5111 اور اس سال 15 اگست تک 3171 بچے یہاں لاپتہ ہو چکے ہیں۔یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سال 2009 اور 2010 میں لاپتہ لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے کم تھی تاہم گزشتہ سال سے یہ رجحان بدل چکا ہے۔ 2011 سے اب تک 864 لڑکوں کے مقابلے میں 1103 لڑکیاں لاپتہ ہو چکی ہیں۔ جن 3305 لاپتہ بچوں کا اب تک کچھ پتہ نہیں ہے، وہ انسانی اسمگلنگ کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں۔ 2009 اور 2010 سے لاپتہ تقریبا 1400 بچے گزشتہ 2 سالوں سے اپنے گھروں کو نہیں لوٹے۔

ایک این جی او ”بچپن بچا
آندولن “کے قومی سکریٹری راکیش سےگر کا کہنا ہے کہ” دہلی سے دیگر شہروں کو بچوں کی اسمگلنگ کرنے والے کسی بھی بڑی تعداد کا پتہ لگانے میں دہلی پولیس ناکام رہی ہے۔ حال کے پانچ سالوں میں دہلی سے لاپتہ بچے میرٹھ، سہارنپور اور باغپت میںفیکٹری اور کھیتوں میں کام کرتے دیکھے گئے ہیں۔ایک اور کیس میں اقبال علی نامی شخص کا 2 سال سے لاپتہ 11 سالہ بیٹا عرفان پنجاب سے بھاگ کر دہلی اپنے گھر لوٹنے میں کامیاب رہا۔عرفان کو اغوا کر کے اسے لدھیانہ لے جا کر ایک شخص کو فروخت کر دیا گیا جو اس سے کھیتوں اور فیکٹری میں کام کرواتا رہا۔ عرفان کے ساتھ اسی علاقے سے 4 لڑکیاں بھی لاپتہ ہوئی تھیں جن کا پتہ ہی نہیں چل سکا۔جامعہ ملیہ میں شعبہ سماجیات کی پروفیسر گومتی بودرا کا کہنا ہے ”بچے سب سے سافٹ ٹارگیٹ ہوتے ہے اس لئے مجرم انہیں اپنا نشانہ بناتے ہیں اور آسانی سے چھوٹ بھی جاتے ہیں۔ قانون میں بچوں کے لئے ہونے والے جرائم کے لئے کوئی خاص قانون نہیں ہے۔ ساتھ ہی وہ سماج میں بڑھتی فاطرانہ ذہنیت اور خاندانوں میں آنے والی دوری کو اس کی وجہ بتاتی ہیں۔ کیونکہ اس کی وجہ سے ہی بچے ماں باپ سے کھل کر اپنی پریشانیاں شیئر نہیں کر پاتے۔تاہم بچوں کے حقوق کے لئے کئی غیر سرکاری ادارے موجود ہیں جو ان کے مفاد میں کام کر رہی ہےںمگر بچوںکے جنسی استحصال کے واقعات کو کنٹرول کرنے کے لئے بیداری لانا مزید ضروری ہے۔ پروفیسر گومتی سماجی سطح پر حالت کوبہتر بنانے کے لئے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہتی ہے کہ بچوں کے لئے ورکشاپ کا انعقاد کیا جانا چاہئے اور انہیں اسکولی سطح پر بیداری بنایا جائے۔

اخیر میں یہ بات بھی عرض کر دینے کی ہے کہ دارالحکومت دہلی ہندوستانی اقتدار کا مرکز ہونے کے علاوہ دنیا بھر کے سفارت خانوں کا مرکز بھی ہے اور اس لحاظ سے یہاں ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ سخت عوامی سلامتی ہونے کی توقع کی جاتی ہے لیکن اس اعداد و شمار سے پوری طرح واضح ہو جاتا ہے کہ دہلی تو بچوں کے لئے بالکل بھی محفوظ نہیں ہے۔ جب ملک کی دارالحکومت میں یہ حال ہے تو ملک کے دیگر حصوں میں صورتحال کیسی ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ یہ بات اس لئے بھی کہی جا رہی ہے کہ دنیا کے تقریبا وہ تمام ممالک جو خود کو انسانیت کا ہمدردقراردیتے ہیںانہیں یہ چیزیںدکھائی نہیں دیتیں اور ان کے نزدیک یہ کوئی معاملہ ہی نہیں ہے۔ حالانکہ تمام ہی بچوں کے بنیادی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے منشور پرہندوستان نے بھی دستخط کئے ہیں۔ملک میںبچوں کے حقوق کے تحفظ کے کمیشن بھی موجودہے،مگر ان کے حقوق اور ان کے لئے بنے قوانین کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔کاش اس جانب صدق دل سے کام کیا جاتا تو مثبت نتائج بر آمد ہوتے۔

alamislahi@gmail.com
(Md Alamullah, Delhi)


۔۔۔مزید

جمعہ، 5 اکتوبر، 2012

فحش ویب سائٹس اور ہمارے نوجوان


فحش ویب سائٹس اور ہمارے نوجوان
محمد علم اللہ اصلاحی 

انٹرنیٹ دورِ جدید کی ایک بہت مفید اور کارآمد ایجاد ہے۔ یہ نہ صرف معلومات کا ایک خزانہ ہے بلکہ مواصلات کے شعبے میں بھی اس نے ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔انٹرنیٹ پر ہر طرح کی معلومات بہت آسانی سے دستیاب ہوجاتی ہیں۔اس کے ذریعہ لوگ اپنے دور دراز کے عزیزوں سے باآسانی رابطہ کرسکتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس نے بڑ ی حد تک لائبریری اور ڈاک کے نظام کی جگہ لے لی ہے۔ہندوستان میں انٹرنیٹ دس سال قبل متعارف ہوا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس کے استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑ ھتی چلی گئی۔ ایک اندازہ کے مطابق اس وقت ملک کی تقریبا 45فیصد تعلیم یافتہ آبادی انٹرنیٹ استعمال کر رہی ہے۔امید ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تعداد کئی گنا بڑ ھ جائے گی۔

اس حوالے سے یہ امر بے حد تشویشناک ہے کہ ہندوستان میں انٹرنیٹ کے بیشتر صارفینِ اسے فحش اور عریاں ویب سائٹس تک رسائی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ محض اندازہ نہیں بلکہ ابھی حال ہی میں انگریزی روزنامہ” ٹائمس آف انڈیا “ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بیشتر لوگوں کا پسندیدہ شغل، فحش اور عریاں ویب سائٹ دیکھنا ہے۔یہ صورتحال ہر باشعور شخص کے لیے باعث تشویش ہے۔ باخبر لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ یہ تنہاہندوستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا اس مسئلے سے پریشان ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ فحش ویب سائٹس ہی دیکھی جاتی ہیں۔ ان سائٹس پربا قاعدگی سے جانے والے لوگ ، دنیا کی نظر سے چھپ کر، انٹرنیٹ کی تاریک گلیوں میں آوارہ پھرتے رہتے ہیں۔یہ آوارگی ان کی عادت بن کر قلب و نظر کوناپاک کر دیتی ہے۔ اس کے بعد زندگی دو میں سے کسی ایک راستے کی طرف مڑ جاتی ہے۔ یاتو انسان حلال و حرام کی ہر تمیز کو فراموش کر کے زناکی ہلاکت خےز وادی میں قدم رکھ دیتا ہے یا پھر شادی کا جائز راستہ کھلنے کے بعد بھی تاعمر پورنوگرافی کے نشہ کا عادی بنا رہتا ہے۔

ہمارے معاشرہ کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے غلط رویوں ، نظریات اور بعض حالات کی بنا پر شادی کی مبارک اور آسان رسم کو مشکل ترےن اور خرافات کا مجموعہ بنارکھا ہے۔ جبکہ دنیا بھر میں یا تو مناسب عمرمیں نوجوانوں کی شادی ہوجاتی ہے یا پھر شادی کیے بغیر نوجوان لڑ کے لڑ کیوں کو ساتھ رہنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔”ٹائمس آف انڈیا “کی اس رپورٹ کے ذریعے سے پورے معاشرہ کو یہ پیغام مل گیا ہے کہ یا تو لوگوں کے لیے نکاح کے جائز راستے کو کھول دیا جائے یا پھر سوسائٹی کی تباہی کے لیے تیار ہوجایا جائے،ورنہ ہماری تہذیب جسے ہم ”تہذیب مشرق“کہتے اور فخر کرتے ہیں وہ 
علامہ اقبال کے شعر

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی 
جو  شاخ  نازک   پہ  آشیانہ   بنے گا  نا پا ئے  دار ہو گا

کا مصداق ثابت ہوگی اور اس وقت کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہ جائے گا۔اس تناظر میں گذشتہ ماہ دہلی کی معروف دانش گاہ جے این یو یا ڈی یو میں جو حالات پیش آئے اور حیوانیت کا جو ننگا ناچ ناچا گیا اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ 

اس پیغام کا پس منظر یہ بھی ہے کہ جن مغربی ممالک میں نکاح کے بغیر مرد و زن کا تعلق عام ہے ، ان کے ہاں یہ کوئی اخلاقی خرابی نہیں ہے۔ان کے ہاں کی فلمیں ہوں یا فحش ویب سائٹس، اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو ان سے دور رکھا جائے، باقی لوگ آزاد ہیں جو چاہیں کریں،مگر ہمارے ہاں ، حیا اور عفت بنیادی اقدار ہیں،اسی طرح اخلاقی بحران کے اِس دور میں خاندان کا ادارہ ہماری واحد معاشرتی ڈھال ہے،زنا اور بے حیائی کے فروغ سے یہ اقدار مٹ جائےں گی اور یہ ادارہ ختم ہوجائے گا۔

انٹر نیٹ پورنوگرافی کا کوئی حل ابھی تک جدید دنیا دریافت نہیں کرسکی ہے، سعودی عرب اور سنگاپور جیسے ممالک نے سنسرشپ کے ذریعے سے اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔مگر تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس طرح کا حل بہت زیادہ موثر نہیں ہو سکا ہے، ہمارے ہاں بھی سنسر شپ کی کوشش کی گئی مگر اس سےبھی کوئی فائدہ نہیں ہو سکا، بلکہ جیسا کہ رپورٹ سے ظاہر ہے کہ جتنے زیادہ انٹرنیٹ کو استعمال کرنے والے بڑ ھیں گے اتنے ہی زیادہ فحش سائٹس کا مشاہدہ کرنے والوں کی تعداد بڑ ھتی چلی جائے گی۔

اس مسئلہ کا حل یہی ہے کہ والدین اپنی ذمہ داریاں محسوس کریں، وہ بچوں کی تربیت کو اپنا مسئلہ بنائیں، ان کو وقت کی رفتار کے حوالے نہ کریں بلکہ زندگی کے ہر سرد و گرم میں ان کی رہنمائی کریں۔ بچوں کے شعور میں حیا اور عفت کی اہمیت واضح کریں۔ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ کسی غلطی کی صورت میں نرمی اور محبت سے ان پر یہ واضح کریں کہ یہ چیزیں ہماری اقدار کے خلاف ہیں۔جب بچے بڑ ے ہوجائیں تو ایک مناسب عمر میں ان کی شادی کو اپنی ترجیحات میں بہت اوپر رکھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اس مسئلے کو حل کرسکتے ہیں۔

بچوں کے شادی کی عمرتک پہنچ جانے کے بعد بھی اگرکسی خاندان کے لیے ان کے بچوں کی شادی بہت بڑی مشکل بن گئی ہے تو معاشرہ کے دولت مندوں پر اس وقت یہ اخلاقی فرض عائد ہوجاتاہے کہ وہ اس قسم کے ناداروں کی کفالت کریں اور ان کو پاکیزہ زندگی گذارنے کے مواقع فراہم کریں، اگر وہ ایسا نہ کریں تو سماج میں ایسی برائیاں جنم لیں گی جن کے خاتمہ کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوسکے گی۔

ایسے لوگ جو انفرادی طور پر شادی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہدایت دی ہے :
وَلیَستَعفِفِ الَّذِینَ لاَ یَجِدُونَ نِکَاحًا حَتّٰی یُغنِےَھُمَ اللّٰہُ مِن فَضلِہ۰۰۰۰ الخ ۔سورة النور، الآیة -۳۳
اور وہ لوگ جو نکاح کی مقدرت نہیں رکھتے ان کو چاہیے کہ وہ پاک دامنی اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے بے نےاز کردے۔(سورة النور، آیت -۳۳)

اس پاک دامنی کی تشریح اللہ کے رسول صلی اللہ علےہ وسلم نے اس طرح فرمائی ہے:
یَا مَعیشَرَ الشَّبَابِ مَنِ استَطَاعَ مِنکُمُ البَائَ ةَفَلییَتَزَوَّج فَاِنَّہ اَغَضُّ لِلبَصَرِ وَ اَحصَنُ لِلفَرجِ وَمَن لَّم یَستَطِع فَعَلَیہِ بِالصَّومِ فَاِنَّہ لَہ وِجَآ ئ۔ (خرجہ مسلم فی صحیحہ، و النسائی و ابن ماجہ والدارمی فی السنن فی کتاب النکاح )
اے نوجوانو! تم میں سے جس کو گھر بسانے کی قدرت ہو اس کو شادی کرلینا چاہیے ، کیوں کہ یہ نگاہ اور شرم گاہ دونوں کی حفاظت کا باعث ہے اور جو شادی کی طاقت نہیں رکھتا اس کو روزہ رکھنا چاہیے، کیوں کہ روزہ شہوت کو توڑنے والی چیز ہے۔(صحیح مسلم، سنن نسائی،سنن ابن ماجہ، سنن دارمی کتاب النکاح میں اس حدیث کی تخریج ہے)

قرآن مجید کی یہ ہدایت اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پےغام تمام انسانوں کو عام ہے،اہلعلم کے سامنے جب اس حکم کی اشاعت کے مواقع آئیں تو ان کو اپنا فرض ادا کرنا چاہیے اور دونوں مصادر میں جس پاک دامنی کے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اس کی اہمیت اور کیفیت لوگوں کے سامنے حکمت سے بیان کرکے اپنا فرض منصبی ادا کرنا چاہیے۔

رابطہ کا پتہ 
Md Alamullah
9911701772
alamislahi@gmail.com


۔۔۔مزید

اتوار، 30 ستمبر، 2012

انسانی بستیوں میں ویران آشیانہ



عجب مکاں ہے کہ جس میں مکیں نہیں آتا

محمد علم اللہ اصلاحی

 مکان انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔اس کے بغیر انسان کا جینا دوبھر ہے۔یہ ایسی جگہ ہے جہاں کسی شخص کے اور اسکے گھرانے کے رہنے، سونے، آرام کرنے، کھانہ پکانے، نہانے اور ملنے جلنے کا بندوبست ہوتا ہے ۔مکان انسان کیلئے اس قدر ضروری چیزہے کہ اس کے بغیر زندگی کی گاڑی آگے نہیںبڑھ سکتی۔ وہ کہیں بھی ہو وہ اپنے مکان میں آنا چاہتا ہے۔ یہ ایک عام انسان کی پناہ گاہ ہے۔مکان انسان کی شخصیت کا عکس بھی ہوتا ہے اور اس کی شخصیت کو بناتا بھی ہے۔مکان ملک کی شہر کی یا قصبہ کی بنیادی اکائی ہے۔مکان ہمیشہ سے انسان کے لیے اہم رہا ہے۔جن کے پاس مکان نہیں ہوتا وہ ہر وقت اسے حاصل کرنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں ۔اس لئے ابراہم ایچ میزلو نے گھر کو انسان کی بنیادی ضرورت قرار دیا ہے۔ لوگ گھریا مکان اس لئے بنواتے ہیں کہ وہ اس میں خوش و خرم رہیں اور نھیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو لیکن ملک کی راجدھانی دہلی میں تقریبا پانچ لاکھ چھ ہزار 500 سے زائد مکان خالی پڑے ہیں جہاں کوئی نہیں رہتا ۔

 ان خالی پڑے مکانوں میں کسی کے نہ ہونے کا یہ نتیجہ ہے کہ اس میں الو ں کا بسیرا ہو گیاہے۔ بعض مکانات تو کھنڈر میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ بعض غنڈوں اور اوباشوںکی آماجگاہ بن گئے ہیں بلکہ رات ہوتے ہوتے یہ مکان شرابیوں اور غیر سماجی عناصر کا محفوظ ٹھکانا بن جاتے ہیں۔کئی جگہ تو کوئی نگہبان نہ ہونے کی وجہ سے یہ مکانات غلاظت خانہ میںتبدیل ہوچکے ہیںیاپھر غیر سماجی سرگرمیوں کا اڈہ بن گئے ہیں۔ گندگی اور تعفن کی وجہ سے گشت کرنے والے پولیس اہلکار ان کی طرف جھانکتے تک نہیں ہیں۔اس سلسلہ میں کئی جگہوں سے اس قسم کی بھی خبریں بھی سننے کو ملی ہیں کہ ان کی بنیاد کمزور ہو چکی ہیں اور کبھی بھی یہ حادثے کا شکار ہوسکتے ہیں۔ مرکزی وزارت برائے رہائش اور خاتمہ ¿ غربت کی طرف سے 12 ویں پنچ سالہ منصوبے (سال 2012-17) کےلئے تشکیل تکنیکی گروپ کی رپورٹ کو پیش کرتے ہوئے باضابطہ طور پر کماری شےلجا نے یہ بات کہی ہے ۔ اس خبرکو پڑھتے ہی مجھے پروین شاکر کا ایک شعر یاد آ گیا

عجب مکاں ہے کہ جس میں مکیں نہیں آتا
حدودِ شہر میں کیا دل کہیں نہیں آتا

 پروین شاکر اگر زندہ ہوتیں تو ہم انھیں بتاتے کہ شہروں کے لوگ اتنے زندہ اور فراخ دل ہوتے تو اسی دہلی میںہزاروں افراد بے گھر نہیں ہوتے اور یہ بھی کہ اسی سر زمین دہلی میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد نفوس یونہی بغیر چھت کے اپنی زندگی نہ گذار رہے ہوتے۔صحیح معنوں میں اسے المیہ ہی سے تعبیر کیا جائے گا کہ ملک کی راجدھانی میں پانچ لاکھ چھ ہزار پانچ سو مکانات خالی پڑے ہیں۔ یہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ حکومتی اعداد و شمار ہی یہ باتیں ظاہر کر رہی ہے۔ یقین نہ آئے تو مردم شماری 2011کی رپورٹ کو دیکھ لیجئے جس میں بتایا گیا ہے کہ دہلی کی ایک فیصد آبادی بے گھر ہے۔یہاں یہ بات بھی عرض کر دینے کی ہے کہ ان میں وہ لوگ شامل نہیں ہے، جوکہیں رکشہ یا فٹ پاتھ پر رات گزارتے ہیں، جھگیوں میںاپنی زندگی بسر کرتے ہیں، کہیں پلاسٹک شیڈ کے نیچے اپنا دن کاٹتے ہیںیاپھر کہیں درختوں کی چھاو ¿ں میں یافٹ پاتھ پر جاڑا، گرمی، برسات میںشب بسری کرتے ہیں اور وہ حکومت کی تجاہل عارفانہ کے سبب در در کی ٹھوکر کھاتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔یہ محض کوئی تخمینہ یا اندازہ کی بات نہیں ہے بلکہ وزیر محترمہ نے یہ بھی کہا ہے کہ دہلی میں 4 لاکھ 90 ہزار مکانوں کی کمی ہے ،جبکہ 2011کے مردم شماری محکمہ کی مانیں تو دہلی میں کل 46 لاکھ 5 ہزار مکانوں کی گنتی کی گئی تھی جو مردم شماری مکان کہا جاتا ہے۔ اس میں سے 11.1 فیصدمکان خالی پائے گئے تھے۔مردم شماری کے دوران خالی ملنے والے مکانوں سے مراد یہ نہیں ہے کہ یہ تمام رہائشی مکان ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ دکانیں ہوں یا ایسا ڈھانچہ ہو، جہاں رہا نہیں جا سکتا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دہلی جیسے بڑے شہر میں لوگوں کے پاس کئی کئی مکان ہیں اور وہ خالی پڑے ہیں۔

  اس بابت تکنیکی گروپ جس نے یہ رپورٹ مرتب کی ہے کے صدر پروفیسرامیتابھ نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مکانات پرائیویٹ بلڈر اور پراپرٹی ڈیلروں کے پاس ہیں۔ اگر ان مکانوں کو استعمال میں لایا جائے تو مکانوں کی کمی کو کافی حد تک دور کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے انھوں نے ایسے مکان مالکان پر بھاری ٹیکس لگانے کی تجویز رکھی ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے جس کو وزیر کماری شےلجا نے بھی تسلیم کیااور کہا کہ کچھ خامیوں کی وجہ سے راجیو رہائش منصوبہ کے تحت دہلی میں 14 ہزار سے زیادہ مکانات بن تو گئے، لیکن ان میں تقریباً تمام مکانات خالی ہیں، حکومت ان خامیوں کو دور کرے گی۔انہوں نے جھگی بستیوں کی جگہ پر ہی فلیٹ بنانے کی دہلی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کی منصوبہ بندی کا بھی جائزہ لینے پر اتفاق ظاہر کیاہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ دہلی حکومت نے انہیں یقین دلایا ہے کہ حکومت کرائے پر دینے کےلئے گھر بنائے گی۔جبکہ مذکورہ وزارت کے ذریعہ تشکیل تکنیکی گروپ کے صدر امیتابھ کنڈو نے بھی یہ کہا کہ دہلی میں اقتصادی طور پر کمزور (ای ڈبلیو ایس) و درج ذیل آمدنی طبقے (ایل آئی جی) کےلئے مکانوں کی کافی کمی ہے، جبکہ حکومت فارم ہاو ¿س پالیسی بنا کر زمین کا بڑا حصہ ایک خاندان کو دینے پر غور کر رہی ہے۔اس خبر کے آنے کے بعد ڈی ڈی اے نے اپنے تیور سخت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پوری طرح سے غلط ہے ۔ڈی ڈی اے نے مرکز کو بھیجی گئی ایک تجویز میں کہا ہے کہ ایک ایکڑ کے فارم ہاو ¿س میں ایک خاندان کے رہنے کےلئے مکان بنانے کی اجازت دی جائے، جبکہ ابھی تین ایکڑ پر بنے فارم ہاو ¿س میں صرف چوکیدار کے رہنے کا انتظام ہے۔

 ڈی ڈی اے جو بھی کہے لیکن اس بات سے بہر حال انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس کی وجہ سے جہاں غریبوں بلکہ وسط درجہ کے لوگوں کو جن پریشانیوں کا سامنا کر نا پڑتا ہے وہیں امیروں کی جیبیںمزید بھردی جاتی ہیںجس کی وجہ سے مافیا مزید شہ زور ہو جاتے ہیں اور انھیں اپنی من مانی کر نے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس کااندازہ کسی کوہویانہ ہو غریبوں کو ضرور ہے حالانکہ یہ صرف غریبوں یا بے گھر افراد کےلئے محض پریشانیوں کی ہی بات نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سے جرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ان میں سے بعض جگہیں تو ایسی بھی ہیں جن کے مکان مالکان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔کچھ لوگ کہیں دوسری جگہ شفٹ ہو گئے لیکن انھوں نے مکان نہ تو کرائے پر دئے اور نہ ہی فروخت کیا ان میں سے بہتیرے مکانات تو سرکاری ہیں جسے سرکار نے کئی منصوبوں کے تحت بنوایا لیکن منصفانہ طور پر نہ تو اس کی تقسیم عمل میں آئی اور نہ ہی وہ افراد جن کے نام پر یہ مکانات تعمیر کئے گئے تھے حوالہ کئے گئے ۔

 اس معاملہ کولے کرحالانکہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ باتیں بھی کہی جا رہی ہیںکہ جو ان گھروں کے مالک ہیں انہیں گھروں کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ان کے پاس پہلے سے ہی ضروریات سے کہیں زیادہ جگہ یا گھرموجود ہے۔ جو حصہ ضرورت سے زیادہ ہے، وہ کرایہ داروں سے بھرا ہے اور شہروں میں مکانوں کے کرائے کی شرح بھی اتنی زیادہ ہے کہ عام طور پر ہر کرایہ دار دس سال میں ہی اس رہائشی حصے کی قیمت ادا کر دیتا ہے جو اس کے پاس کرائے پر ہے ۔ وہ مکان نہیں خرید سکتا کیونکہ اس کے پاس مکان کی یکمشت قیمت ادا کرنے کے لئے کافی رقم نہیں ہے ۔ اس لیے جن کے پاس پیسہ ہے، بلیک منی ہے، وہ اسے پراپرٹی میں لگا کر مستقل اسٹیٹ میں تبدیل کر رہے ہیں۔ چالیس لاکھ کے مکانات کی خرید 5 لاکھ دکھادی جاتی ہے، یعنی 35 لاکھ روپیہ دو نمبر میں ادا کیا جاتا ہے ۔

 شاید اسی وجہ سے وہ ببانگ دہل یہ بات کہتے ہیں کہ اب کیا کر لیں گے انکم ٹیکس والے؟ کالی کمائی کو چھپانے کا اس سے بہتر طریقہ اور بھلا کیا ہو سکتا ہے؟اتنا ہی نہیں سرکاری نیم سرکاری رہائشی اداروں اور شہری ترقی اتھارٹیوں کی عمارات اور زمینوں کے الاٹمنٹ میں سرکاری مشینری اپنی جیبیں گرم کرنے کا جو کھیل کھیلتی رہی ہے، اس سے ان لوگوں کےلئے منصوبے بنائی گئی تھیں، انکا شاید ہی بھلا ہو سکا ہو، لیکن با اثر اور کالی کمائی والوں نے ایک ہی ادارے سے تین تین، چارچار مکان حاصل کر لئے ۔ خاندان میں چارفراد اور چاروں کے نام پر الگ الگ مکان۔ کہیں تو ایک ہی نام پر تین تین مکان اور وہ بھی ایک ہی شہر میں، ایک ہی تنظیم کی طرف سے الاٹ کرا لئے گئے، جب کہ انہوں نے یقینا درخواست کے ساتھ یہ حلف نامہ داخل کیاہی ہوگاکہ شہر میں ان کے نام سے کوئی اور رہائش نہیں ہے ۔اس بد عنوانی کے معاملہ میں ترقی اتھارٹیوں کے افسروں سے لے کر چپراسی تک نے خوب کالی کمائی کی تو شہروں میں تعینات لےکپال راتوں رات کروڑ پتی بن گئے ۔دہلی میونسپل کارپوریشن سے لے کر لکھنو ترقیاتی اتھارٹی کے بابوو ¿کی کرتوت پرمبنی خبریںاخباروں میں کئی مرتبہ شائع بھی ہوئیں اور ہوا بس یہ کہ نظام بدلا تو اتھارٹی کے بڑے افسر کو وہاں سے ہٹا کر کسی دوسری پوسٹ پر بٹھا دیا گیا ۔

 حکومت نے اگر اس پر جلد نوٹس نہ لی تو معاملہ اور بھی بد سے بدتر ہوگا حکومت کو پہلی فرصت میں اس پر کچھ نہ کچھ کاروائی کرنی چاہئے ۔اس سلسلہ میں ایک کام کرنے کا یہ بھی ہے کہ اولین فرصت میں حکومت ان خالی پڑے مکانات کو الاٹ کر نے کے لئے اقدامات کرے کیونکہ اس سے ڈھیر سارے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے اور یہ بھی کہ اگر ان مقفل گھروں کو آباد کر دیا جائے اور اوسط فی چھ ارکان پر مشتمل خاندان کو ایک چھت فراہم کر ادی جائے تولاکھوں لوگوں کو اپنا گھر فراہم کیا جا سکتا ہے، یعنی پھر کسی کو نہیں سونا پڑے گا کھلے آسمان کے نیچے ،پھر شاید حکومتوں اور ترقی اتھارٹیوں کو بے گھر لوگوں کےلئے نئے گھر بنانے، ان کےلئے بجٹ حاصل کرنے اور زمینیں تلاش کرنے کی جدوجہد بھی نہیں کرنی پڑے گی اور وہ پیسہ جو رہائشی منصوبوں میں خرچ کرنا پڑرہا ہے، ترقی کے دیگر ضروری منصوبوں، شہری سہولیات کو بہتر بنانے پر خرچ کیا جا سکتا ہے ۔سچ یہ ہے کہ حکومت اور ملک کے نظام میں ایسا کرنے کیلئے قوت ارادی کی کمی ہے، نہیں تو محض ایک منصوبہ، ایک آرڈیننس کے ذریعہ ملک کی سب سے بڑی پریشانی کا فوراًحل ممکن ہے لیکن کیا کبھی ایسا ہوگا؟ہم یہ نہیں کہتے کہ بے گھرو ںکو گھر مفت میں دے دئیے جائیں، ان سے گھروں کی قیمت لی جائے اور اسے سہولت کے مطابق قسطوں میں وصول کیا جائے، اس سے وہ اپنی رہائش گاہ کی قیمت اداکر سکیں گے ۔ ساتھ میں اپنے گھر والوں کی سہولت اور حفاظت کے تئیں اعتماد بھی پیدا کرنے میں کامیاب ہونگے۔اس سے وہ زیادہ دیر تک، زیادہ کام کر سکیں گے،زیادہ کما سکیں گے اور اپنا خود کا گھر ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے گھر کی قیمت ادا کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ تب شاید جرائم کا گراف بھی گرے گا کیونکہ مجرموں کے جرائم کے مواقع گھٹےںگے اور حکومتوں کا قانون اور ا نتظام کوبرقرار رکھنے کا بھاری بوجھ بھی کم ہوگا۔
alamislahi@gmail.com
رابطہ کا پتہ 
CONTECT NO: 09911701772
E.26 ABULFAZAL JAMIA NAGAR
OKHLA NEW DELHI 
110025


۔۔۔مزید

منگل، 25 ستمبر، 2012

طلبا یونین انتخابات : 2004 پارلیمانی انتخابات کا پیش خیمہ

طلبا یونین انتخابات : 2014 پارلیمانی انتخابات کا پیش خیمہ

محمدعلم اللہ اصلاحی 
http://siyasitaqdeer.com/page3.html
ملک کی دو بڑی یونیورسٹیاں جواہر لال نہرو اور دہلی یونیوسٹی میں بخیر و خوبی الیکشن کا اختتام اور نتائج کے اعلان کو آنے والے 2014میں پارلیمانی انتخابات کا پیش خیمہ تصور کیا جا رہا ہے اور طلبائی تنظیموں سمیت مر کزی سیاسی پارٹیاں بھی اس یونین انتخاباب کو اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ۔ اس الیکشن کو لیکر صرف طلباءکے درمیان ہی بحث ومباحثہ کا بازار گرم نہیں ہے بلکہ مرکزی سطح پر بھی سرد جنگ اور لفظی محاذ آرائی کا دور جاری ہے ۔شاید اسی وجہ سے اس طلبہ یونین انتخابات سے جو اشارہ آ رہے ہیں انہیں نظر انداز کرنا تقریبا ناممکن بن گیا ہے۔ دونوں یو نیورسٹیوں میں مختلف وجوہات کو لیکر الیکشن پر پابندی عاید تھی ۔عدالت کی مداخلت کے بعد یہ انتخاب عمل میں آیا ،سینٹرل یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی عدالت نے الیکشن کرائے جانے کا حکم دے رکھا ہے لیکن تا ہنوز جامعہ میں عدالت کے فیصلے کو ممکن العمل نہیں بنایا جا سکا ہے ۔اسی وجہ سے جہاں جے این یو اور ڈی یو کے طلباءاپنے حقوق کو لیکر بے فکر ہیں وہیں جامعہ کے طلباءانتخابات نہ کرائے جانے کو لیکر فکر مندہیں ۔ دونوں یونیورسٹیوں میں فتح پانے والے طلباءاپنے عزائم اور خوشی کا اظہار کر رہے ہیں تو شکست پانے والے شور اور ہنگامہ۔

دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں طلبا یونین انتخابات کے نتائج سے صاف ہے کہ دونوں ہی یونیورسٹیوں کے طلباءنے فرقہ پرست طاقتوں کو مسترد کیا ہے۔ دہلی میں طلبا یونین کے انتخابات کوئی عام انتخابات نہیں ہوتے۔ پورے شہر میں باقاعدہ تشہیر ہوتی ہے اور ان یونیورسٹیوں میں پورے ملک سے طالب علم آتے ہیں۔یہاں یہ اہم نہیں ہے کہ انتخابات میں جیت کس کی ہوئی ہے۔ دہلی یونیورسٹی میں کانگریس کی طلباءتنظیم این ایس یو آئی بی جے پی کے اسٹوڈنٹس کے مقابل تھا تو طلبا نے اسے جیت دلا دی جب کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم مضبوط تھا تو انہیں جیت دلا دی۔ غور طلب یہ ہے کہ دہلی یونیورسٹی تو اے بی وی پی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جب کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں بھی ایک سے زیادہ بار اے بی وی پی کافی مضبوطی کے ساتھ الیکشن لڑ چکی ہے اور صدر کی سیٹ پر بھی قبضہ کر چکی ہے۔

شکست کے بعد بی جے پی نے دونوں جگہ جس انداز سے توڑ پھوڑ اور ہڑتال کی ہے اسے نیک شگون تصور نہیں کیا جا رہا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ ان دونوں یونیورسٹیوں میں بی جے پی کو بری طرح شکست ہوئی ہے جہاں جے این یو میں کمیونسٹ پارٹی نے اپنا غلبہ درج کرایا ہے تو دڈی یو میںکانگریس نے ۔دہلی یو نیورسٹی میں کانگریس کی اسٹوڈنٹ ونگ این ایس یو آئی کو شاندار کامیابی ملی ہے اور بھاجپا کی یونٹ اے وی بی پی کا صفایا ہوگیا ہے۔ این ایس یو آئی چاروں سیٹوں میں سے تین جیت گئی ہے۔ 2007 ءکے بعد دلی کی سیاست میں لگاتار کمزور پڑ رہی این ایس یو آئی کو سنجیونی مل گئی ہے۔ این ایس یو آئی اچھے خاصے فرق سے پریسڈنٹ ، وائس پریسڈنٹ اور سکریٹری کے عہدے پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔اسٹوڈنٹس انتخابات کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہواہے کہ کسی عہدے پر مقابلہ برابر رہا۔ جوائنٹ سکریٹری کے لئے ہوئے چناؤ میں دونوں تنظیموں کو برابر ووٹ ملے۔

دراصل انتخابی نتائج نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو پوری طرح سے سکتے میں ڈال دیا ہے اور وہ سمجھ نہیں پا رہی ہے کہ آخر طلبا نے یہ کیسا پیغام دیا ہے کے تمام منفی اشوز کے ہونے کے باوجود بھی ان کی حمایتی اے بی وی پی کو نہ صرف زبردست شکست ملی بلکہ اس تنظیم کا صفایا بھی ہوگیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پارٹی کو یہ ہضم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ دوسری طرف این ایس یو آئی کی اس جیت نے کانگریس ورکروں میں نئے پیش رفت کا کام کیا ہے اور انہیں یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ دہلی کے نوجوانوں نے صاف صاف یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ کانگریس پارٹی اور اسکی پالیسیوں کے ساتھ ہے۔ راجدھانی میں انا ہزارے کے ذریعے کرپشن کے خلاف چلائی جانے والی تحریک میں بھاری تعداد میں اس وقت لڑکوں نے ہی شرکت کی تھی جسے لیکر بی جے پی خوش فہمی میں تھی اور اسے لگ رہا تھا کانگریس مخالف نوجوانوں میں لہر ہے اس کا فائدہ انہیں ملے گا اور اس بات کو وہ پکا مان کر چل رہی تھی کہ دہلی اسٹوڈنٹس انتخابات میں تو ان کا پرچم لہرانا طے ہے۔ اے بی وی پی کومحسوس ہوا کہ جس طرح پورے ملک میں کرپشن، مہنگائی سے لوگ پریشان ہیں اس کے چلتے دہلی اسٹوڈنٹس انتخابات میں لوگ این ایس یو آئی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ لیکن اس کے امیدوار ہار گئے کانگریس کے طلباءلیڈروں کی اس جیت کو کانگریس کے رہنما آئندہ سیاست کا اشارہ دے رہے ہیں۔ 

پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں کی فکر یہ بتاتی ہے کہ متوسطہ طبقہ کے لوگ اور خاص طور سے نوجوان کس سمت میں سوچ رہے ہیں دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا یونین انتخابات خالص طور پر سیاسی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں۔ ووٹنگ کے کچھ گھنٹے پہلے ہی جب ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو یہ پختہ یقین تھا کہ این ایس یو آئی نے بہتر حکمت عملی کے تحت چناؤ لڑا اور قومی اشو کو اس چناؤ میں حاوی ہونے نہیں دیا۔ اے بی وی پی کو کوئی خاص مدد نہیں ملی جبکہ کئی سینئر کانگریسی لیڈر چناؤ میں کود پڑے اور ہر سطح پر طلبا یونٹ کو مدد دی۔جس میں پیسہ بھی پانی کی طرح بہایا گیا۔ حالانکہ ضابطہ انتخابات کے مطابق کوئی امیدوار پانچ ہزار سے زیادہ خرچ نہیں کرسکتا لیکن بڑی سیاسی پارٹیوں نےشامل ہو کر یہ کمی بھی پوری کردی۔کانگریس نے اسٹڈنٹس انتخابات کو بہت سنجیدگی سے لیا اور اپنی پوری طاقت جھونک دیا۔ ممبر اسمبلی، کونسلر اور وزیر اعلی سبھی نے مورچہ سنبھال رکھا تھا۔ دہلی یونیورسٹی میں ریزرو زمرے کی خالی سیٹوں کا بھی اشو گرم رہا۔ ان سیٹوں کو اس بار جنرل کیٹگری میں تبدیل نہیں ہونے دیا گیا۔ ایچ آر ڈی وزارت کے حکم پر کالجوں کو زیادہ داخلےملنے کا اثر دیکھا گیا۔ ووٹنگ فیصد بڑھ کر 40 فیصد تک پہنچ گیا۔ مانا جارہا ہے کہ اس سے کافی فائدہ این ایس یو آئی کوملا۔این ایس یو آئی کے ترجمان کا کہنا ہے اے بی وی پی نے دہلی اسٹوڈنٹس انتخابات میں قومی اشوز کو اچھالا اور طلبا کے مفادات والے مسئلےکو پس پشت ڈال دیا جبکہ طلبا نے قومی اشوز کو اہمیت نہیں دی۔

اسٹوڈنٹس انتخابات خاص بات یہ ہے کہ پہلے سال کے طلبا زیادالیکشن میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور انہیں اپنےقریب لانے میں اے بی وی پی ناکام رہی۔ دہلی کی وزیراعلی شیلا دیکشت نے ہاتھوں ہاتھ اس جیت کو بھی کیش کرا لیا۔ انہوں نے اپنی صاف شفاف انتظامیہ کا نتیجہ بتاتے ہوئے طلباءکا جنادیش بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی نے اس چناؤ میں بھی گھٹیا ہتھکنڈے اپنائے اور جھوٹ کے سہارے چناؤ جیتنے کا خواب دیکھا تھا جسے طلبا نے چکنا چور کردیا۔ اب اسے بہانوں کا سہارا نہیں لینا چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسٹوڈنٹس انتخابات جیت سے وزیر اعلی شیلا دیکشت کا قد بڑھا ہے۔ خود وزیر اعلی کی پیٹھ پارٹی صدر سونیا گاندھی نے تھپتھپائی ہے کیونکہ کانگریس مخالف ماحول میں اسے روشنی کی کرن مانا جا رہا ہے۔

اسی طرح جے این یو میں لال جھنڈے کوکامیابی ملی اور بی جے پی اور کانگریس دونوں کو جس طرح شکست ملی ہے اس نے طلباءکے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اب سیاست محض مذہب اور ذات کے درمیان الجھ کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ اب لوگ اس سے پرے اٹھ کر سوچنے لگ گئے ہیں۔شاید اسی وجہ سے ان انتخابات کو پارلیمانی انتخابات2014 کا پیش خیمہ تصور کیا جا رہا ہے ۔ظاہر ہے کہ ان انتخابات سے سیاسی جماعتوں کو ایک پیغام تو ضرور ملا ہے ۔ شاید اسی سبب دہلی میں موجود مختلف قسم کی پارٹیوں کے لیڈروں نے ان انتخابات کو ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف بن رہے ماحول کی علامت بتایاہے۔ حالیہ دنوں میں ملک میں بدعنوانی اور مہنگائی کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے خلاف جو ماحول بنا ہے،دہلی اسٹوڈنٹس انتخابات اور جے این یو طلبہ یونین انتخابات میں اس کا عکس دیکھاگیا۔ لوگوں کا سیاسی جماعتوں سے اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے اور عام لوگوں کا خیال ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں بدعنوانی میں ڈوبے ہیں اور عام آدمی کے مفادات کو وہ مسلسل نظر انداز کر رہی ہیں۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ کوئلہ کانوں کے تقسیم کے علاوہ دو دن پہلے ڈیزل اور رسوئی گیس کو لے کرحکومت کے فیصلوں کا اثر بھی ان دونوں انتخابات پر پڑا ہے ۔


۔۔۔مزید