ہفتہ، 17 دسمبر، 2011

تعلیم کی نجی کاری اور نوجوان


تعلیم کی نجی کاری اور نوجوان
محمد علم اللہ اصلاحی
آج ہماراتعلیمی نظام صاف طور پر دو حصوں میں منقسم نظر آتا ہے، ایک جدید تعلیم کا نظام ہے جس کے تحت روزگارپر مشتمل نصاب ہے اور دوسری طرف روایتی تعلیمی نظام ہے جس کے ساتھ روزگار کے بہت کم مواقع  ہیں۔ روزگار کے مواقع حاصل کرانے والی تعلیم کے لیے اقتصادی طور پر خوشحال طبقہ میں دلچسپی دکھائی دیتی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں ان کے بچے اس تعلیم کو حاصل کرکے ہی بڑے روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ہمارے دیہی نوجوانوں کے ماں باپ اتنے خوشحال نہیں ہوتے کہ وہ بچوں کو مہنگی تعلیم فراہم کر سکیں، ہمارے ملک میں تعلیم کے لئے ایسا ماحول تیار ہوتا جا رہا ہے جس میں سبھی کو سب کچھ حاصل نہیں ہو سکتا،ایسے ماحول کے لئے ہماری سرکاری پالیسی ہی ذمہ دار ہے ملک کی آزادی کے وقت لارڈ میکالے کے ذریعہ دئے گئے تعلیمی نظام کو ہی حرف آخر سمجھا کیا گیا جس سے ہمارے ملک کا آج تک صرف نقصان ہی ہوا ہے۔ آج بھی ہم تعلیم کے لئے دیہی سطح پر بنیادی ڈھانچہ تیار نہیں کر سکے ہیں۔کئی گاو ں میں آج بھی بنیادی ںاسکولوں کی کمی ہے، بچے آج بھی کئی کلومیٹر پیدل چل کر اسکول جانے پر مجبور  ہیں ۔ ایسے ماحول میں کمزور اقتصادی حالت والے خاندان اپنے بچوں کومزےد تعلیم کے لئے شہروں میں بھیجنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔آج بھی تقرےباً 60 فیصد بچے پرائمری اسکول سے آگے تعلیم جاری رکھنے کی استطاعت نہےں رکھتے۔ 40 فیصد بچے ثانوی درجات کی تعلیم کے بعدسکول چھوڑ دیتے ہیںجب کہ 20 سے 25 فیصد بچے ہائی سکول تک کی تعلیم ہی حاصل کرپاتے ہےں کہ اقتصادی اور معاشرتی مسائل انہےں آگھےرتے ہےں، ایسے حالات میں اعلی تعلیم کے میدان میں دیہی نوجوانوں کی کس قدر نمائندگی ہوگی؟روایتی تعلیم کے مےدان مےں کوئی دیہی نوجوان گریجویٹ تک کی تعلیم حاصل کرلےنے کے باوجود روزگار کے بازار میں اپنے آپ کوکسی مقام پر نہےں پاتا۔ سرکاری اداروں میں روزگار کی صورتحال بہت ہی خراب ہے۔گزشتہ کئی سالوں کے تجزےہ کے مطابق روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ہمارے دیہی سماج کے صرف 12.0 فیصد نوجوان ہی مینجمنٹ یاپروفیشنل کورس کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں، ان میں سے صرف.0 2 فیصد ہی کوئی بڑا روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ہماری حکومت نے جس تیزی سے روزگار سے جڑے تعلیم کی نجی کاری کی ہے اس سے مفلس اورعام طبقہ کو ایسی تعلیم سے محرومی ہی نصےب ہوئی ہے۔اس نجی کاری نے انجینئرنگ ، طب ، مینجمنٹ ، کمپیوٹر اور مختلف روزگار فراہم کرنے والے ڈپلومہ اور سرٹیفیکیٹ کورسوںکے ذریعہ تعلیمی نظام پرغاصبانہ قبضہ کر لیا ہے ،من مانے طریقہ سے داخلہ جاتی عمل اور فیس کا ڈھانچہ کھڑا کر لیا گےا ہے جس کے ذریعہ تعلیمی ادارے محض پیسہ کمانے کا مر کز بن کر رہ گئے ہیں،جہاں خوشحال لوگوں کے بچوں کو داخلہ دے کر موٹی فیس وصولی جاتی ہے تاکہ ان کی اور ان کے ادارے کی صحت بنی رہے، تعلیم کے اصل مقصد سے منحرف یہ ادارے سرکاری ہدایات و احکامات پرکبھی عمل نہیں کرتے ،کیونکہ انہوں نے اپنے اصول قانون اپنی سہولت کے مطابق گڑھ لیے ہیں۔
اس نجی کاری کے ذریعہ غریب اور دیہی نوجوانوں کو اعلی تعلیم سے ہی محروم رکھنے کاکھیل نہیں چل رہا ہے بلکہ انہیں اسکول کی تعلیم سے بھی محروم رکھنے کی سازش چل رہی ہے اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بڑے پبلک اسکولوں کے پاس بھی ان غریبوں کے بچوں کو مفت اور اچھی تعلیم دینے کا کوئی پروگرام نہیں ہے،وہ ملکی مفاد میں سوچنے کے لئے مجبور نہیں ہیںوہ صرف انہیں ہی اپنے اسکولوں میں داخل کرتے ہیں جو ان کے مقرر کردہ فیس کوبلاتامل ادا کر سکیں۔اس ناروا تقسےم کے نتےجہ مےںابتدائی دورسے ہی معیار زندگی پستی کی راہ پر لگ جاتاہے اوربالآخر امیر ،غریب دو متوازی سماج تشکےل پاتے ہےں، ان مےں سے ہر دو کے درمےان اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر دوری پےدا ہوتی چلی جاتی ہے، اےک طبقہ احساس کمتری مےں مبتلا ہوکر حسدکاشکار ہوجاتااور دوسراافراط زر اور وسائل کی فراوانی مےں کوتاہ بےں اور غفلت شعار بن جاتاہے۔
تعلیم کی نابرابری سے دیہی نوجوان تیزی سے بے روزگار ہوتے جا رہے ہیں ،ان کی بے روزگاری ملک کوخطرناک مستقبل کیطرف لےے جارہی ہے۔ دیہی نوجوان چھوٹے موٹے کاموں کے لیے ہی شہر کی طرف رخ کر رہے ہیں جس سے ملک کے بنےادی ذریعہ آمدنی زراعت کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔ شہروں میں معیار زندگی میں بھاری فرق کو دیکھتے ہوئے کچھ نوجوان جلد امیر بننے کے چکر میں جرائم کے مرتکب ہوجاتے ہیں، گاو ¿ں میںرہ کر بھی وہ کھیتی میںکامےاب نہیں ہوتے ،کیونکہ ےہ بھی ایک سچائی ہے کہ آج کل کھیتی گھاٹے کا سودا بنتی جا رہی ہے ، اس میں لگائے گئے سرمایہ کی قیمت نکالنا ہی مشکل ہو گیا ہے، ایسے حالات میں تمام راستوںکو بند دیکھ کر دیہی نوجوان کشمکش کا شکارہےں۔ ہماری حکومت کو چاہئے کہ وہ اس مسئلے کو سمجھے اور دیہی نوجوانوں کے لئے ایسا لائحہ ¿ عمل مرتب کرے کہ وہ اپنی زندگی کو سماج کے مرکزی نقطہ سے جوڑنے میں کامیاب ہو سکیں۔حکومت کو چاہئے کہ وہ دیہی نوجوانوں کو ایسے مواقع فراہم کرے کہ وہ بے چارئہ محض نہ بنیں بلکہ” تعلیم سب کے لئے “”اسکول جائیں ہم“ اور” مڈ ڈے مےل“ جیسی سرکاری کوششوں کو حقیقت کا روپ دیا جائے تاکہ اس کے خاطر خواہ فوائد ظاہرہوسکیں۔


۔۔۔مزید

ہندوستانی سماج پر سنیما کے اثرات

ہندوستانی سماج پر سنیما کے اثرات

محمد علم اللہ اصلاحی

\ فلموں کے سماج پر اثرات ، بحث کا ایک پرانا موضوع ہے، سماج والوں کی طرف سے الزام لگتے ہیں کہ فلمیں معاشرے کو بگاڑ رہی ہیں ، جبکہ فلم والے اپنا دفاع یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ وہ وہی دکھا رہے ہیں جو سماج میں پیدا ہو رہا ہے یا جسے سماج پسند کرتا ہے۔اس بحث کا کبھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا ، کیونکہ دونوں کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔ ہاں ! بات اگراثرات کی کریں تو وہ بہت تشویش ناک سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ عمارتوں سے چھلانگ لگانے ، کھیل کھیل میں ساتھی کو چوٹ پہنچانے سے آگے بڑھ کرفلم کے ذریعہ ناظرین جرم کرنا سیکھ گئے ہیںاوریہ ان کی ترغیب بن رہی ہے۔ شاید اسی وجہ سے ہندوستان میںاس کے عہد طفولیت میں ہی ہمارے بزرگوں نے اس کے بھیانک اثرات کے پیش نظر اس سے محتاط رہنے کی تلقین کی تھی۔ چنانچہ 1926 میںہی مہاتما گاندھی نے ”ینگ انڈیا“میں سنیما سے جڑے افراد کو نصیحت کرتے ہوئے ہوئے لکھا تھا”اس کا برا اثر روزانہ میرے اوپر پڑتا ہے اس لئے میں فلم بنانے والوں سے کہونگا کہ وہ سماج کو پاک و صاف اور سدھار کرنے کے لئے اس کا استعمال کریں “۔ 1935 میں پریم چند ”ہنس“میں لکھتے ہیں ”سنیما اگر ہماری زندگی کو صحت مند لطف نہیں دے پاتا ہے ، ہمیں بے حیائی و بے شرمی اورفتنہ پردازی کی طرف لے جاتا اور حیوانیت کو بڑھاوادیتاہے ، تو جتنی جلدی اس کا نشان مٹ جائے ، اتناہی بہتر ہے“۔ 1965 میں ورنداون لال ورما نے بھی اسے محسوس کرتے ہوئے لکھا تھا ”فلم کا اثر ناظرین وسامعین پر بہت جلد اور گہرا پڑتا ہے،گندی فلموں کی بہتات ہے ، جو معاشرے کو زوال کی جانب لے جا رہی ہیں، اپنے تہذیب کی حفاظت اور ملک کے اونچے آدرشوں کو بچانے اور اوپر لانے کی سخت ضرورت ہے“۔لیکن اسکے باوجود اتنے متاثر کن اثرات کو زائل کرنے کے لئے کوئی خاص اقدام یا سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ 
 1896میں یورپ میں لومیربرادرزکی طرف سے کئے گئے سنیما کے پہلے مظاہرے کے کچھ مہینوں بعد ہی سنیما ہندوستان میں بھی دیکھا جا سکا تھا۔ 1897 میں یہاں عملی طور پر فلم بنانے کی شروعات بھی ہو گئی تھی۔1913 میں دادا صاحب پھالکے نے یہاں اپنی فیچر فلم ”راجہ ہریش چندر “ مکمل کی اور آج تقریبا 800 فلمیں ہر سال بنا کرہندوستان دنیا بھر میں سب سے اوپرہے۔ہر طرح کی پریشانیوں، تنقید ، شور ،ہنگامہ اور احتجاج کے باوجود ہندوستان میں سنیما کا اس مقام تک پہنچ پانا یقینا اس کی طاقت کا احساس کرنے کے لئے کافی ہے۔سنیما کے طاقت کی سب سے بڑی وجہ صرف یہی نہیں ہے کہ ہم ان چیزوں اور واقعات کو ویسے ہی دیکھتے ہیں ، جیسا وہ ہے یا ہواہو۔ بلکہ ذہنی طور پر ہم بھی واقعات کے اندر ہوتے ہیں۔ اصل میں کسی بھی فلم کو دیکھنے کے دوران شائقین کی آنکھ اور کان کے ساتھ دماغ کی بھی شراکت ضروری ہوتی ہے۔ سنیما کی یہ خصوصیت ہے کی یہ جتنی سامنے نظر آتی ہے اتنی ہی ہمارے دماغ میں بھی بنتی ہے۔ ہم کسی اداکار کوپہاڑ پر چڑھتے آنکھوں سے دیکھتے ہیں ، کانوں سے اس کے پیروں کی آواز ، کیلیں گاڑنے کی آواز ، ارد گرد کے ماحول ،جنگل جھرنے وغیرہ کو بھی نہ صرف دیکھتے بلکہ محسوس کرتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب کچھ اصلی ہے، لیکن یہاں صرف ہمیں اس کا احساس کرایا جاتا ہے، سات دن کے حقیقی وقت میں پوری ہونے والی چڑھائی کو صرف سات شوٹ میں سات منٹ سے بھی کم وقت میں دکھا دیا جاتا ہے۔ باقی کی کمی ہمارا دماغ پوری کرتا ہے۔ اصل میں اداکار کو پہاڑی چڑھتے ہم محض دیکھتے ہی نہیں ، اس کے ساتھ ہوتے ہیں ،وہ بھی ذہنی طور پر،اور ظاہر ہے جب ہم ذہنی طور پر کہیں ہوتے ہیں تو ذہن زیادہ چاہے کم ،مثبت یا منفی اثر ضرور قبول کرتا ہے ۔تبھی ’ولے بنےوےل ‘نے مانا تھاکہ سنیما ہمارے دماغ پر افیون جیسا اثر کرتا ہے۔ذہنی طور پر اپنے آپ کو مناظر کے اندر محسوس کرانے کی صلاحیت ہی ہے جو سنیما کو اس قدر جاذب نظر بناتی ہے کہ کروڑوں لوگ بغیر کسی فلمی زبان اور ٹیکنالوجی کی سمجھ کے ٹکٹ خریدتے ہیں ، فلم دیکھتے ہیں اور اپنی ضرورت کے مطابق اسے سمجھتے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ادب یا فن کو یہ سہولت دستیاب نہیں ہے ادب یا فن کااستعمال ہم تب تک نہیں کر سکتے جب تک کہ ہماری اس کے قواعد گرفت یا پکڑ مضبوط نہ ہو۔سنیما نے اپنے لئے ایسی فطری زبان کا انتخاب کیا ہے جو عام انسان کے صرف مجازی صلاحیت کے اصول پر مبنی ہوتی ہے۔اصل میں ہندوستانی ثقافت نے جب سنیما کو معصوم بچوں اور نوعمروں کے لئے ضرورت تسلیم کیا تھا تو اس کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ اس وقت نام نہاد’اچھی فلموں‘ کی بہتات تھی ، اس کی صحیح وجہ اس وقت کے ہندوستانی سماج کی یہ واقعی ضرورت اور واجبی سمجھ تھی کہ سنیما کہیں نہ کہیں ہمارے سوچنے سمجھنے اور تصور کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔انہیں احساس تھا کہ ” پیراشوٹ“ کی پرواز بچوں کے دماغ کو اس قدرتیز بنا سکتی ہے کہ وہ اندھاکنویں میں بھی چھلانگ لگا سکتے ہیں جبکہ ان کاآزاد دماغ ”پیراشوٹ “سے بھی اونچی اڑان بھر سکتا ہے۔لیکن اسے المیہ ہی کہا جائے گا کہ ہمارے یہاں دل میں کوئی تصور جنم لیتا ہے یا کچھ کرنے کی امید جاگتی ہے تو ہم اس کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش کے علاوہ اسے دلیلوں پر تولنے لگ جاتے ہیں ، جبکہ سامنے شرمندہ تعبیر ہوتے”سچ“کو دیکھ ہمیں دلیل کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔
 ہم میں سے کتنے لوگ ہوں گے ، جنہوں نے سنیما دیکھنے کے لئے کبھی نہ کبھی ڈانٹ نہ سنی ہو یا مار نہ کھائی ہو،تمام تر پابندیوں کے باوجود یہ تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں کہ سنیما عام انسانوں کے تفریح کا سب سے محبوب اور موثر ذریعہ ہے۔ہندوستان میں ہی نہیں ، دنیا بھر میں پاکستان ، ایران ، سری لنکا سے لے کر انگلینڈ ، امریکہ ، جاپان تک حتی کہ مورکواورطالبانیوںکو اپنی انقلابی خیالات و افکار کے تشہیر کے لئے سینما کی راہ اپنانی پڑی ۔اور تو اورمعروف زمانہ’ ڈیوڈ دھون‘ کو اپنی حرکتوں سے شائقین کو خوش کر پیسے ایٹھنے کے لئے بھی سینما ہی سجھائی دیا ۔صورتحال آج یہاں تک پہنچ چکی ہے کی سنیمابازاروں اور تھیٹروں سے ہوتے ہوئے ہمارے گھر کے اندر داخل ہو چکا ہے۔ ہم اسے دیکھیں یا نہیں یہ بھی اب ہماری خواہش پربھی منحصر نہیں ہے ۔ سینکڑوں چینلوں نے اس کو لیکر جہاں دھوم مچا رکھی ہے وہیںنیوز چینلوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔محض ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے یاریت میں سر چھپا کر طوفان کو روکا جاناناممکن ہے۔آج ٹیلی ویژن کی توسیع نے پورے ہندوستانیوں کے ذہن و دماغ کومفلوج اور تذبذب کا شکار بنا دیا ہے۔ سنیما کی ثقافت اب صرف کپڑے کی بناوٹ اور بالوں کی سجاو ٹ کوہی متا ثر نہیں کر رہی ہے بلکہ اب اس نے سماجی اقدار کو بھی درہم برہم کر دیا ہے۔سماجی مسائل کو فلم نے اپنے مسلسل اثرات سے اتنی کم اہمیت کی شئے بنا دیا ہے کہ تشدد ، جرائم ، زنا ، عصمت دری،خودکشی اب کچھ بھی ہمیں بے چین نہیں کر پاتا۔
 سنیما کے اس اثر کو سمجھتے ہوئے مغربی ممالک نے 50 کی دہائی میں ہی فلم مطالعہ پر سنجیدگی سے غور و خوض کرنا شروع کر دیا تھا۔اس وقت سے ہی ان ممالک میں ریسرچ اسکالر اور ماہرین نفسیات کے لئے یہ تشویش کا موضوع تھا کہ بچے جتنا وقت اسکول میں گزارتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ٹیلی ویژن کے سامنے اس لئے اس کا کوئی حل تلاش کیا جانا چاہئے اور انھوں نے اپنے اسی مطالعہ کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دو سال کی عمر سے ہی جب بچے مادری زبان سیکھنے کی ابتدا کرتے ہیں ٹیلی ویژن اور فلم جیسے مناظر سے پیغام قبول کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ دو تین سال کے بچے کا کارٹون نیٹ ورک کے آگے خاموش پڑے رہنا کوئی اتفاق نہیں ، بلکہ ہمیں یہ قبول کرنا چاہئے کہ بچہ باقاعدہ اسے دیکھ اور محسوس کر رہا ہوتا ہے۔سنیما آج ہماری طرز زندگی میںرچ بس گیا ہے۔کھانا کھانا ، آفس جانا ، اسکول جانا اور اسی طرح دوسری ضروریات کی طرح ہم نے اس کو بھی اپنی زندگیوں میں شامل کر لیا ہے۔ اس کے باوجود فلم بینی کا انتخاب ہمارے نزدیک کوئی موضوع ہی نہیں رہا ،یہاں تک کہ ذہن وفکرکو پراگندہ کر دینے والی فلمیں بھی ہم اپنے بچوں کے ساتھ دیکھنے میں عار محسوس نہیں کرتے اسی کا نتیجہ ہے کہ فلم دیکھتے ہوئے بچے کسی گالی کا مطلب ہم سے پوچھتے ہیںتوہم مسکرکر جواب دیتے ہوئے بھی نہیں شرماتے۔نام نہادجدیدیت کی طرف گامزن ہندوستانی معاشرے کی یہ بد قسمتی ہی ہے کہ یہ مسلسل سمٹتا جا رہا ہے۔ بے شک اصلی خاندان اور معاشرے سے ہوتی دوری کوسماج سے پاٹنے کی اس مجازی دنیاکے پاس مجبوری ہوتی ہے،اور سماج کو اس کے لئے کچھ نہ کچھ چاہئے اور اس چاہیے کے لئے متبادل اسے سنیما سے ملا، یہ ’مجازی دنیا ‘سماج کی خاصیت تھی ، یہ اس کے مطالبہ پر دستیاب تھا۔ جب بھی تنہائی یا اکےلاپن محسوس ہو ، چلو سنیما، ایک خوشگوار بھرے پورے ماحول سے مطمئن لوٹ کر پھر لگ گئے اپنے روز کے جددوجہد میں۔ شاید اسی لئے سنیما دیکھنا جو پہلے سال چھ مہینے کا تہوار ہوتا تھا ، اب ہفتہ بلکہ روزانہ کا شغل بن گئے۔
  یہ بھی غور طلب ہے کہ گاو ¿ں ، قصبہ ، شہرو محلہ جات میں جیسے جیسے خاندانی عناصر چھوٹی ہوتی گئیں اس شغل کی تبدیلی بڑھتی گئی۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کی اس شغل نے سب سے زیادہ بچوں کو متاثر کیاکیونکہ پورے خاندان میں سب سے اکیلا اور تنہا وہی تھا ۔تعجب کی بات نہیں کہ خاندانوں کے اس رویہ سے فلم کے انتخاب کا فیصلہ دھیرے دھیرے بچوں کے ہاتھوں میں سمٹتا چلا گیا۔ انہیں مطلب سنیما سے نہیں ، بس سینما گھر کی رونق اور سنیما کے پردے پر رسائی ’مجازی دنیا‘ سے تھا۔ اور حقیقت میں سرپرستوں کے لئے انہیں بھرے پورے سماج سے کاٹنے کی یہ ایک پیش خیمہ تھی اور یہ پیش خیمہ کس طرح ان کی سمجھ کو اپنی دنیا کے تئیں غیر ذمہ دارانہ اور مطلب پرستانہ بنا دیا، اس پر کچھ تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔آج اس حالت میں جب کہ سنیما کے اثرات کو روکا نہیں جا سکتا ، بہتر یہی ہے کہ لوگوں کو سنیما دیکھنے سے روکنے کے بجائے اسے سنیما دیکھنا سکھائیں۔سکھانے کا مطلب ہے باقاعدہ فلم مطالعہ،اس باقاعدہ مطالعہ کا مطلب دماغ کو ایسے ذرائع سے لیس کیا جانا ہے کہ وہ علم کی مخفی دنیا کو سمجھ سکیں کیونکہ کسی بھی موضوع کو ایک شخص اپنی سمجھ سے ایک حدتک ہی سمجھ سکتا ہے۔ سنیما تو فن کاسب سے پیچیدہ ذریعہ ہے ، جس مےں ادب بھی ہے ، فن بھی ، سائنس بھی اور ٹیکنالوجی بھی۔سنیما پر ہر نقطہ نظر سے غوروخوض اور مطالعہ کی ضرورت ہے۔ ایک باضابطہ فن کے طور پر ، ایک مقبول عوامی تفریح کے طور پر ، معلومات اور سماجی اقدار کوبدلنے والے ذرائع کے طور پر ، ثقافتی ماحول کی تعمیر کرنے والے ایک ایجنسی کے طور پر،جس میں تعمیری اور مثبت طرز فکر کا خیال رکھا گیا ہو یقینا اگر اسے اس طور سے برتا گیا اورباقاعدہ مطالعہ کے ذریعہ کوئی لائحہ عمل بنانے کی کوشش کی گئی تویہ صرف فلم کی ہی نہیں پورے ثقافتی ماحول کے لئے کار آمداور ممدو معاون ثابت ہوگا ۔
 یہاں پر یہ بات بھی عرض کر دینے کی ہے کہ1980میں’ نیشنل فلم پالیسی ‘کمیٹی کی طرف سے فلم مطالعہ کو قومی تعلیمی نظام میں اور کالج یونیورسٹی کی سطح پر رسمی تعلیم میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ ہندوستان کی حکومت نے سفارش قبول کرتے ہوئے یو جی سی اور این سی ای آرٹی کو فلم مطالعہ کی سمت میں ضروری اقدام اٹھانے کی ہدایت بھی جاری کی تھی۔لیکن آج بھی دوردرشن کے پروگراموں میں”انڈر اسٹینڈنگ “کی ایک سےریزنشر کرنے اوریونیورسٹیوںمیں تحقیق اور تدوین کی سطح پر اسے محض ایک موضوع کے طور پر قبول کر لینے کے، فلم کامطالعہ جوں کا توں برقرار ہے ۔آج ایک اور ثقافت کو حاشیہ پر ڈال دینے کی نہیں بلکہ نفرت کرنے کی سیاسی دباو ¿ ،ثقافت کویونیفارم بنانے کا دباو ¿ اور تیسری طرف عالمی ثقافت کو فروغ دینے کی کوشش سے خبردار ہونے کا ہے۔اگر ابھی بھی سنیما پر ہم نے اپنا کنٹرول نہیں قائم کیا تو پل سے پانی کے گزر جانے کے بعد پھر آگے کتنا بھی سر پھٹول کر لیں نتیجہ ہاتھ نہیں آ سکتا۔ اس کے لئے ایک بار پھر سے نیشنل فلم پالیسی 1980کو یاد کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ سنیما کے تئیں بچپن سے ہی ایک صحیح سمجھ پروان چڑھ سکے۔ یہ ایک دن کی کوششوں سے نہیں ہو سکتا ، مسلسل اورباقاعدہ مطالعہ سے ہی صحیح اور غلط سنیما کی سمجھ کو تیار کیا جا سکتا ہے۔اس لئے کہ اب کسی بھی صورت میں لوگوں کو سنیما دیکھنے پر روک یا پابندی عائد نہیں کی جا سکتی ہے ۔ہاں !اس بات کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ ایک صحت مند نقادانہ ذہنیت کے ساتھ سنیما کو سنیما کی طرح دیکھا اور قبول کیا جا ئے ۔اس کے لئے عام لوگوں کے علاوہ حکومت اور پڑھے لکھے طبقہ اشراف کو بھی آگے آنا ہوگا کہ.... ’ع
                  ”ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
alamislahi@gmail.com

۔۔۔مزید

موروثی اقتدار کے ٹھیکیدار نوجوان قیادت سے برہم کیوں



موروثی اقتدار کے ٹھیکیدار نوجوان قیادت سے برہم کیوں  

  علم اللہ اصلاحی
ادھر کئی دنوں سے یہ خبر عام ہے کہ ضلع مظفر نگر سے منتخب بہوجن سماج پارٹی کے رکن پارلیمینٹ مسٹر قادر رانا تحریر شدہ ھلف نامہ نہیں پڑھ سکے۔حالانکہ ھلف لینے کے بعد مسٹر رانا نے رجسٹر پر اپنا دستختط خود کیا ۔یہ تو غنیمت ہے کہ کم از کم انھوں نے دستخط تو خود سے کئے ورنہ اس حمام میں بہت سے ایسے بھی ہیں جو دستخت تک کرنا نہیں جانتے ۔یقینا اس خبر سے ملک کی موجودہ صورتحال کا پتہ چلتا ہے وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک کے قائد اور رہنما کی اوسطا خواندگی کی ستح کیا ہے۔آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جو شخص دیکھ کر بھی کوئی تحریر پڑھنے پر قادر نہ ہو وہ عوام کی کیا رہنمائی کرے گا اور ملک کے لئے کتنا مفید ہوگا ۔یہ خبر پڑھتے ہی مجھے مشہور صحافی انیل چمڑیا کے الفاظ یاد آنے لگے جو انھون نے ابھی کچھ ہی دنون پہلے کہا تھا۔انھوں نے ملک کی موجودہ صورتحال اور نئے سیاسی قائدین اور ان کی شنع و قبیح حرکتوں کا تزکرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت سیاست میں انتہائی گندے ،انپڑھ اور جاہل لوگ آرہے ہیں جسکی وجہ سے ملک کا سیا سی نظام درہم برہم بلکہ نیست و نابود ہوکر رہ گیا ہے۔انھوں نے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا تھا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو ملک کی سالمیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔


اگر مسٹر چمڑیا کی ان باتوں پر گور کیا جائے تو ان کی باتیں صد فی صد صحیح معلوم ہوتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فی زمانہ سیاست میں جاہل ہی نہیں بلکہ غیر شفاف پس منظر اور مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس سلسلے میں اگر پچھلے برسوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 1970میں ستر سے زائد اراکین لوک سبھا میں مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے تھے اور چودہویں لوک سبھا میں ان کی تعداد بڑھ کر 132ہو گئی تھی ان وجوہات کے سبب سیاست کا تقدس لوگوں کے ذہنوں سے مٹتا جا رہا ہے اور سیاست و سیاسی لوگوں سے عوام کا اعتبار اتھ رہا ہے۔


اب اگر ان اسباب کا پتہ لگایا جائے کہ ایسے لوگوں کو سیاست میں در آنے کا موقع ہی کیوں ملتا ہے تو کئی باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں ایک تو یہ کہ ہمارے ملک سے تعلیم کا رجحان رفتہ رفتہ کم ہو رہا ہے ۔دوسری بڑی وجہ یہ کہ یونیورسٹیوں سے طلباءیونینوں کا نظام ختم کیا جا رہا ہے جیسا کہ بعض دانشوروں نے کہا بھی ہے کہ یہ ایسے پہلے لوک سبھا انتخا بات ہیں جب یونیورسیٹیوں میں یونین یا تو ہے ہی نہیں یا اس کے ڈھانچے ختم کر دئے گئے ہین ۔جن کے لئے بڑی حد تک ہماری حکومت ذمہ دار ہے اب ایسی صورت میں ہم کہاں سے اور کس طرح پدھے لکھے لوگاں کو لائیں۔


اگر اس سلسلے میں ملک کی تین نمائندہ اور سینٹرل یونیور سٹیوں کی حالت پر غور کرین تو بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ کسمپرسی کی حالت میں ہی سہی لیکن جواہر لال نہرو اور دہلی یونیورسیٹی میں ابھی یونینوں کا وجود ہے۔یہ الگ بات ہے کہ جے،این ،یو کے طلبہ سال بھر کسی نہ کسی مسئلہکو لیکر پریشان رہے ۔جب انھوں نے انصاف اور حقوق کی بات کی تو ان کے خلاف ظالمانہ روش اختیار کی گئی حتی کہ یونین سے منسلک کئی طلباءکو بلا جرم یونیورسیٹی سے برطرف بھی بھی کر دیا گیا ۔اگرچہ انتظامیہ کو طلباءکے احتجاج اور اپنی غلطی کے اعتراف کے بعد مخرج طلبہ کو دوبارہ واپس لینا پڑا۔بہرحال اس میں طلباءاور اس کی تعلیم کا جو نقصان ہوا اس کا ازالہ کر پانا بہرحال نا ممکن ہے ۔اسی طرح دی یو یونین کی بھی بہت اچھی حالت نہیں ہے آئے دن کسی نہ کسی معاملہ پر یونین کے ارکا ن کو ہراساں کیا جاتا ہے ان کے حقوق پر شب خوں مارا جاتا ہے جس کی خبریں ہم آئے دن ذرائع ابلاغ کے توسط سے دیکھتے ،سنتے اور پڑھتے رہتے ہیں ۔اب ایسی صورت میں ستم زدہ طلبہ اپنی آواز اٹھاتے ہیں تو ارباب اقتدار کو ان کی یہ روش گراں گزرتی ہے اور طلبہ کے ارادوں میں انھیں بال نظر آتا ہے۔ٹھیک اسیطرح بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک اور سنگین صورتحال جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ہے۔حالانکہ یہاں یونین نام کی کوئی چیز بھی نہیں ہے۔بلکہ اب تو جامعہ میں طلبہ کے حقوق کا بحران ایک سنگین رخ اختیار کرگیا ہے۔جسکی زندہ مثال ابھی حال ہی میں جامعہ انکاونٹر کے بعد شک کی بنیاد پر دہلی بم بلاسٹ کے مجرم کی حیثیت سے گرفتار کئے گئے ملزم ضیاءالرحمان کی ہے جسکے خلاف ابھی جرم ثابت بھی نہیں ہوا ہے اور جامعہ انتظامیہ نے اسے مطلع کئے بغیر یونیورسیٹی سے نکال دیا اور اسے ہال ٹکٹ نہ دیتے ہوئے امتحان سے بھی محروم کر دیا ہے انتظامیہ نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ جامعہ کیمپس میں اسکے داخلہ پر بھی پابندی عائد کر دی )اس کا نوٹس ہائی کورٹ نے بھی لیا ہے ۔ انتظامیہ نے تو طلبہ یونین کا وجود ختم کرکے خاموشی اختیار کر لی ہے مگر طلبہ پریشان ہیں کہاب وہ اپنی شکایات لیکر کہاں جائیں کیا کریںا انتظامیہ کسی آمر حکمراں کی طرح جو چاہتی ہے کرتی ہے ۔انھیں طلبہ کے احساسات کا قطعا احساس نہیں کہ آیا یہ طلبہ کے حق میں مفید بھی ہے ۔حالانکہ یونین کہ نام پر یہاں بھی طلبہ سے فیس لیجاتی ہے اور یہ فیس 2006میں جامعہ اسٹودنٹ یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد بھی آج تک لی جا رہی ہے اگر10000دس ہزار طلبہ پر مشتمل فی طالبعلم 50روپئے کے حساب سے اس رقم کو جوڑا جائے تو رقریبا ایک کروڑ روپئے بنتے ہیں واضح رھے کہ یہ تخمینہ صرف 2007اور 2008کا ہے ۔اور اس کا حساب لینے والا کوئی نہیں کہ یونیورسیٹی غصب کی گئی اس رقم کا استعمال کہاں کر رہی ہے۔


یہ تو نمائندہ یونیور سٹیون کا حال ہے۔آپ ملک بھر میں کسی بھی یونیورسٹیوں پر نظر دالیے تو حالات اس سے بہتر نہیں بلکہ ابتر ہی نظر آئیں گے۔اب ایسی صورت میں ملک خزاں رسیدہ اور گھہن آلود ہوتا ہے تو اس کا زمہ دار کون ہوگا---؟دراصل یونیورسٹیوں میں طلباءیونین کا خاتمہ ایک منظم سازش کا نتیجہ ہےجیسا کہ بعض مبصرین نے کہا بھی ہے کہ تمام جماعتیں نوجوان قیادت اور سیاست میں ان کی حصہ داری سے برہم ہیں کیوںکہ اس سے ان کی موروثی اقتدار پر شب خوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ہندوستان کیہ یونیورسٹیوں میں انتہائی محدود وسائل کے ساتھ تحصیل علم میں مشغول ہونہار نوجوانوں کو سیاست سے روکنے کی یہ کوشس دراصل اپنے اپنے جگر پاروں کے نام ملک کا بیع نامہ کرنے کی سعی نا مشکور ہے ۔کوئی نہیں چاہتا کہ اخلیش یاد، اجیت چودھری،ندیم جاوید سچن پایلٹ،عمر عبد اللہ،عبدالحفیظ گاندھی، جیوتی ادتیہ سندھیہ،پریکا و راہل گاندھی کے سامنے کوئی مضبوط متبادل کھڑا ہو جائے۔


اس سے مفر نہیں کہ یونیورسٹی سیاست سے نکل کر ہی ملک کے اکابر سیاستداں نے ملک کی باگ ڈور بطرز احسن نبھائی ہے خواہ وہ جواہر لال نہرو ہوں ڈاخٹر ذاکر حسین یا پھر لالو۔منموہن، امر پرنب یا چدمرم ۔یونیورسٹیوں کی علمی فضا میں پروان چڑھنے والا سیاسی شعور یقینا اتنا غلیظ نہیں ہوگا جتنا موجودہ لیڈروں کا ہے جوملک کو اپنی غلامی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دینا یا فروخت کر دینا چاہتے ہیں۔



۔۔۔مزید

شیر میسور سلطان ٹیپو شہید



 شیر میسور سلطان 
ٹیپو شہید
علم اللہ اصلاحی
   سلطان ٹیپو کو اس دنیا سے رخصت ہوئے آ ج212 برس بیت چکے ہیں، اس درمیان نہ جانے تاریخ نے کتنے پلٹے کھائے کتنے لوگ پیدا ہوئے اور مر گئے جن کا اب کوئی نام لیوا تک نہیں لیکن سلطان ٹیپو کی عظمت کا یہ ثبوت ہے کہ اب بھی اس کا نام لوگوں کے دلوں پر لکھا ہوا ہے۔ سلطان فتح علی خان المعروف ٹیپو سلطان کا باپ حیدر علی میسور کا حکمران تھے۔ انھوں نے انگریزوں سے کئی جنگیں لڑیں اور ان میں کامیاب ہوئے ۔سلطان ٹیپو نے فن سپاہ گری اپنے والد سے سیکھی تھیںجو کمال درجے کے دلیر اور بہادر حکمران تھے ٹیپو پر بھی باپ کا اثر پڑا اور سلطان ٹیپو اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ساری زندگی فرنگی راج کے خلاف جدوجہد میں گزاری اور اسی جدوجہد میں اپنی جان قربان کردی۔ انگریز سلطان ٹیپو کو اپنے استعماری عزائم میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے اور ٹیپو کو اپنا بدترین دشمن تصورکرتے تھے۔

  حیدر علی کی وفات کے بعد ٹیپو میسور کا حکمران بنکر اپنے اقتدار کے دوران عوامی فلاح وبہبود کیلئے بہت کام کیا لیکن انگریزوں نے اسے چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ انگریز اس کے ساتھ پے درپے جنگیں لڑتے رہے۔ اس وقت اس علاقے میں انگریزوں کے علاوہ تین بڑی طاقتیں تھیں۔ایک سلطان ٹیپو دوسرا نظام حیدر آباد اور تیسرے مرہٹے۔انگریزوں نے چالاکی اور سازشوں سے نظام اور مرہٹوں کوساتھ ملا لیا اور ان کو سلطان کے خلاف لے آئے اس وقت دہلی میں مغل بادشاہ کی برائے نام حکومت تھی۔

 انگریز آہستہ آہستہ پورے برصغیر پر قبضہ کررہے تھے انگریز سلطان ٹیپو کو اپنے جارحانہ عزائم میں ایک بڑی دیوار خیال کرتے تھے انگریزوں کی سلطان ٹیپو کے خلاف پہلی دو جنگیں انگریزوں کے مقاصد پورے نہ کرسکیں، آخر کار برطانیہ سے ایک انتہائی سفاک اور چالاک آدمی کو بلایا گیا اور اسے سلطان ٹیپو کو شکست دینے کی ذمہ داری سونپی گئی اس کا نام لارڈ ولزلی تھا۔میسور کی آخری لڑائی شروع ہوئی انگریزی فوجیں سرنگاپٹم کے قلعے کے باہر کھڑی تھیں قلعہ پر انگریزوں کی گولہ باری جاری تھی۔چار مئی 1799ء کو صبح سلطان نماز فجر ادا کرکے اپنے خیمے سے باہر آیا وہ سرتاپا فوجی لباس میں غرق میدان کارزار کی طرف جانے لگے۔ شاہی جوتشی جو ہندو تھا ہاتھ جوڑ کر سلطان ٹیپو کے راستے میں کھڑا ہوگیا کہنے لگا سلطان آج آپ میدان  جنگ میں نہ جائیں ستارے نحوست دکھاتے ہیں۔ سلطان نے کہا تم اگر مجھے موت سے ڈرانا چاہتے ہو تو تمہیں مایوسی ہوگی۔یہ کہہ کر سلطان گھوڑے پر سوار آگے بڑھ گئے۔
  عصرکے وقت اپنوں کی غداری کی وجہ سے انگریزوں کی فوج قلعہ کے اندر داخل ہوچکی تھی سرنگام پٹم کی گلیوں میں سلطان کے جانثار سپاہی وفاداری اور غیرت مندی کی تاریخ رقم کررہے تھے۔ سلطان کے جانثار سپاہی کٹ کٹ کر گررہے تھے۔سلطان کبھی ایک جگہ اور کبھی دوسری جگہ انگریزی فوج سے لڑرہا تھے ساتھ ساتھ وہ اپنے سپاہیوں کا حوصلہ بھی بڑھا رہا تھے۔ اتنے میں فرانسیسی دستے کا جرنیل وہاں آیا فرانسیسی سلطان ٹیپو کی فوج کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف جنگ کررہے تھے۔فرانسیسی جرنیل نے سلطان کو کہا ہماری فوج گھیرے میں آچکی ہے شکست سامنے دکھائی دے رہی ہے سلطان معظم آپ قلعہ کے عقبی دروازے سے نکل جائیں میں اپنے فرانسیسی دستوں کیساتھ آخری سانس تک انگریزوں سے لڑتا رہوں گا۔ آپ کسی اور مقام پر پہنچ کر تازہ دم ہو کر فوج کو منظم کریں۔سلطان اس کی بات سن کر مسکرایا اور کہا کہ تونے کیسے یہ سوچ لیا کہ میں تجھے چھوڑ کر بھاگ جاں گا۔مجھے جس ماں نے جنم دیا ہے اس نے اپنے دودھ کیساتھ مجھے یہ بھی سکھایا ہے کہ جھک جانے سے کٹ جانا بہتر ہوتا ہے اور شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے۔

  سلطان بہادری سے لڑتا رہا اس کو دو گولیاں لگ چکی تھیں شبیر میسور پر نقابت کے آثار نمودار ہورہے تھے اچانک ایک گولی سنسناتی ہوئی آئی اور سلطان ٹیپو کا سینہ چیر گئی۔ سلطان ٹیپو شہید ہوگیا دوسرے دن سلطان ٹیپو کا جنازہ اٹھایا گیا ،فضا ساکت تھی سلطان کے جانباز جو زخموں سے چور تھے بڑھ بڑھ کر جنازے کو کندھا دے رہے تھے عقیدت کے حیرت انگیز مناظر دکھائی دے رہے تھے۔بچے بوڑھے جوان عورتیں اور مرد سب دھاڑیں مار مار کر رورہے تھے۔جنازے کی نماز کے بعدانگریزوں نے سلطان ٹیپو کی بہادری کے پیش نظر اس کی میت کو توپوں کی سلامی دی، ابر کرم جم کر برسا گویا آسمان بھی اپنے محبوب کے غم میں آنسو بہا رہا تھا سچ کہا ہے کہنے والے نے ۔

موت اس  کی ہے  کرے جس  کا  زمانہ افسوس
ورنہ دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے


۔۔۔مزید